خط نستعلیق کے خالق میر علی تبریزی

ﻣﯿﺮﻋﻠﯽ ﺗﺒﺮﯾﺰﯼ ‏( ﻭﻓﺎﺕ : 856 ﮪ / 1452 ﺀ ‏) ﺧﻂ ﻧﺴﺘﻌﻠﯿﻖ ﮐﮯ ﺑﺎﻧﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ، ﭘﺸﺘﻮ ، ﮐﮭﻮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺩﻭ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮ ﻋﻠﯽ ﺗﺒﺮﯾﺰﯼ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺭﺳﻤﮩﺎﺋﮯ ﺧﻂ ﻧﺴﺦ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﯿﻖ ﮐﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﺧﻂ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﻧﺴﺘﻌﻠﯿﻖ ﮐﮩﺎ مزید پڑھیں

مجھے تم سے محبت ہے

ایک سہ پہر میرا ایک مریض جم (JIM) میرے کلینک میں زار و قطار رو رہا تھا۔ اس نے SHERRY کو جو اس کی دس برس سے دوست تھی‘ جب بتایا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے تو شیری نے جواب دیا ’یہ تمہارا مسئلہ ہے۔ تم میرے دوست ہو اور ساری عمر صرف مزید پڑھیں

کالی شلوار

کالی شلوار دہلی آنے سے پہلے وہ ابنالہ چھاؤنی میں تھی جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی، ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ دہلی میں آئی اوراس کا کاروبار نہ چلا مزید پڑھیں

آرٹسٹ لوگ

جمیلہ کو پہلی بار محمود نے باغ جناح میں دیکھا۔ وہ اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ چہل قدمی کررہی تھی۔ سب نے کالے برقعے پہنے تھے۔ مگر نقابیں اُلٹی ہوئی تھیں۔ محمود سوچنے لگا۔ یہ کس قسم کا پردہ ہے کہ برقع اوڑھا ہوا ہے۔ مگر چہرہ ننگا ہے۔ آخری اس پردے کا مطلب کیا؟۔ مزید پڑھیں

آخری سیلوٹ

یہ کشمیر کی لڑائی بھی عجیب وغریب تھی۔ صوبیدار رب نواز کا دماغ ایسی بندوق بن گیا تھا۔ جنگ کا گھوڑا خراب ہو گیا ہو۔ پچھلی بڑی جنگ میں وہ کئی محاذوں پر لڑ چکا تھا۔ مارنا اور مرنا جانتا تھا۔ چھوٹے بڑے افسروں کی نظروں میں اس کی بڑی توقیر تھی، اس لیے کہ مزید پڑھیں

1919ء کی ایک بات

1919ء کی ایک بات یہ1919ء کی بات ہے بھائی جان جب رولٹ ایکٹ کے خلاف سارے پنجاب میں ایجی ٹیشن ہورہی تھی۔ میں امرتسر کی بات کررہا ہوں۔ سرمائیکل اوڈوائر نے ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت گاندھی جی کا داخلہ پنجاب میں بندکردیا تھا۔ وہ ادھر آرہے تھے کہ پلوال کے مقام پر ان مزید پڑھیں

الٰہی بخش پنساری:اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا

رخشِ حیات ازل سے پیہم رواں دواں ہے۔تقدیر کی منشا کے مطابق مظاہرِ فطرت جس انداز میں آج مرکزِ نگاہ بن رہے ہیں کل سیلِ زمان کے مہیب تھپیڑوں کی زد میں آنے کے بعد ان کی ہئیت بدل جائے گی اور کایا پلٹ جائے گی۔ اس عالمِ آب و گِل کے تمام مناظر اور مزید پڑھیں

یونہی تنہا تنہا نہ خاک اُڑا، مری جان میرے قریب آ

یونہی تنہا تنہا نہ خاک اُڑا، مری جان میرے قریب آ میں بھی خستہ دل ہوں تری طرح مری مان میرے قریب آ میں سمندروں کی ہوا نہیں کہ تجھے دکھائی نہ دے سکوں کوئی بھولا بسرا خیال ہوں نہ گمان میرے قریب آ نہ چھپا کہ زخم وفا ہے کیا، تری آرزؤں کی کتھا مزید پڑھیں

بھیگے کاغذ میں لپٹے ہوئے لمحات—-سلمیٰ صنم (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

اپنے ہونے کا احساس بہت حسین ہوتا ہے.میں اکثر اسے اپنے اندر محسوس کرتا ہوں.خود کو دیکھتا ہوں.سنتا ہوں.سوچتا ہوں اور بے اختیار میرا دل چاہتا ہے کہ چلاؤں میں ہوں ہاں ابھی میں ہوں اورابھی جب یہ احساس اپنے اندر لئے میں Regent Street پر واقع اپنی ملبوسات کی دکان سے نکلا اور Piccadely مزید پڑھیں

اُلو کا پٹھا

قاسم صبح سات بجے لحاف سے باہر نکلا اور غسل خانے کی طرح چلا۔ راستے میں، یہ اسکو ٹھیک طور پر معلوم نہیں، سونے والے کمرے میں، صحن میں یا غسل خانے کے اندر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی کو اُلو کا پٹھا کہے۔ بس صرف ایک بار غصے مزید پڑھیں