’’ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ‘‘ (حصہ اول)

’’ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ‘‘ (حصہ اول)


 عید آئی اورگزر بھی گئی، عید کی خوشیوں کے لیے امرا و غربا اور متوسط طبقے نے اپنی اپنی بساط کے مطابق عید کے کپڑوں سے لے کرگھر کی سجاوٹ تک بہت سے امور خوشی خوشی انجام دیے اور عید کا چاند دیکھنے کے ساتھ شب بیداری کی۔

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مارکیٹوں میں خریداروں کا اژدھام نظر آیا لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں وہ گھرانے بھی یاد آئے جن کے پیارے، راج دلارے اس دنیا میں نہیں ہیں، وہ اداس اور غم زدہ دلوں کے ساتھ مسکرانے پر مجبور ہوئے، انھوں نے بھی عید کو خوش آمدید کہا اور اپنے بچوں کی خوشی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور خریدا، سویاں بھی پکائیں، دوسرے گھروں کی نسبت ان کی رہائش گاہ پر لوگوں کا تانتا بندھا رہا، خصوصاً محلے دار، عزیز اقارب اور میڈیا کے لوگ کہ مکمل معلومات حاصل ہوں اور متعلقین سے تعزیت کر سکیں، حوصلہ دے سکیں۔ ابھی انسانیت زندہ ہے اور جب تک انسانیت سانس لے رہی ہے قیامت نہیں آئے گی، دوسروں کی مزاج پرسی اور ان کے کام آنا عبادت سے کم نہیں۔

کراچی کے حالات روز بروز بگڑتے جا رہے ہیں، سوگ کی فضا نے مایوسی کو تقسیم کیا ہے۔ لوٹ مار، قتل و غارت کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ ہر روز پابندی کے ساتھ دس پندرہ وارداتیں ہو جاتی ہیں، ڈاکو مال و اسباب بھی لوٹتے ہیں اور معصوم شہریوں کے لیے ایسی فضا ہموارکرتے ہیں جہاں زخمیوں اور لاشوں کی کثیر تعداد نظر آتی ہے۔اے ٹی ایم اور بینکوں سے رقم نکلوا کرگھر کا رخ کرنے والوں کی کسی قسم کی حفاظت نہیں ہے بلکہ خطرات ہر سمت منڈلا رہے ہیں، سڑک، گلی، شاہراہیں، بازار اور بینک غرض کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

ڈکیتی اور ڈاکوؤں کو کوئی روکنے ٹوکنے والا دور دور تک نظر نہیں آتا ہے۔ گزشتہ سالوں اور عشروں میں پولیس ڈیپارٹمنٹ اپنے شہریوں کے تحفظ کا ضامن ہوا کرتا تھا لیکن اب اس محکمے نے بھی ہاتھ اٹھا لیے ہیں اور مکمل آزادی مہیا کردی ہے۔ ایسی صورت حال میں بغیر ہتھیار کے ہر شخص بے بس نظر آتا ہے اور شاید یہی بہتر ہے شہریوں کے پاس ہتھیار ہونے کی صورت میں خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔ دونوں طرف سے فائرنگ ہونے کا مطلب مزید حالات بگڑنے اور ناحق خون کی ندیاں بہانے کا ذریعہ ہوگا۔ دوسری طرف انصاف کے دعوے دار ڈاکوؤں کو ہرگز گرفتار نہیں کریں گے بلکہ وہ لوگ پکڑے جائیں گے جو اپنے تحفظ کے لیے ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

لہٰذا یہ بھی مناسب نہیں ہے، کچھ علاقوں میں ایسی صورت حال سامنے آئی ہے کہ جب گھر کے کسی جی دار نے ڈاکوؤں کو محلے والوں کی مدد سے اپنے قبضے میں لیا ہے تو پولیس نے ملزم کو اپنے قبضے میں لے کر بھاری رقم کے عوض چھوڑ دیا ہے اور پوچھ گچھ کا سلسلہ مضروب تک پہنچ گیا ہے۔ ایک دو روز پرانا واقعہ ہے جب اسٹیل ٹاؤن کے علاقے گلشن حدید فیز 2 میں ڈاکوؤں نے کار سواروں سے اٹھارہ لاکھ بھی لوٹے اور مزاحمت پرگولی مار دی، اس قسم کے واقعات ہر روز پابندی کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں، حکومت سندھ کے کسی بھی ذمے دار کو ایسے واقعات کا ذرہ برابر احساس نہیں ہے۔

 سرکاری ادارے تماشائی بنے ہوئے ہیں، شرفا اپنے گھروں سے اپنے کام کاج کے لیے نکلتے ہیں لیکن سرِ راہ قتل کر دیے جاتے ہیں، ان کی لاشیں جب ان کے لواحقین کے سپرد کی جاتی ہیں تو بیوہ ہونے والی خاتون اور یتیم بچے مقتول کے والدین بہن بھائیوں پر یا تو سکتہ طاری ہو جاتا ہے یا پھر پورا گھر ماتم کدہ بن جاتا ہے۔ آہ و زاری، چیخ پکار محلے کی فضا کو غم زدہ کر دیتے ہیں، ایک ایک گھر سے دو، تین جنازوں کا نکلنا نظام حکومت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے لیکن بات یہ ہے کہ بے حسی شرم و حیا کو چھین لیتی ہے شہر اور ملک میں کچھ بھی ہوتا رہے، متعلقہ ادارے لاتعلق رہتے ہیں جیسے یہ ان کا مسئلہ ہی نہیں۔

ایک طرف ڈاکوؤں کا راج ہے تو دوسری طرف شاہراہوں پر بے قابو ہوتے ہوئے ٹینکرز موت بانٹ رہے ہیں، گزشتہ کئی ماہ سے ٹینکرز کے ڈرائیورز معصوم مسافروں کو کچلنے کی مشق کر رہے ہیں، ملیر ہالٹ پر ہونے والے حادثے نے لوگوں کے دل دہلا دیے ہیں اور ایک ہنستے بستے گھر کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہے کہ ایک خاندان اور اس کی آنے والی نسل کو بے دردی سے پہیوں تلے روندا ہےْ

یہ خونی ٹرانسپورٹ واٹر ٹینکر تھا، تیز رفتاری کے باعث کئی گاڑیوں سے ٹکراتا ہوا موٹرسائیکل پر سوار خاندان کو آناً فاناً کچل دیا اور موٹر سائیکل کو گھسیٹتا ہوا دور تک لے گیا، عینی شاہد کے مطابق خاتون کا جسم دو حصوں میں بٹ گیا۔ اس کے بعد کا خونی منظر میرا قلم لکھنے کی تاب نہیں رکھتا، وہ یقینا بہادر خواتین تھیں جنھوں نے ایک نئی زندگی کو بچانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ یہ واقعہ اس قدر درد ناک تھا کہ دیکھنے اور سننے والوں کی نکلنے والی چیخیں حلق میں ہی دم توڑ گئیں۔ ابھی غم کی رین سحر کے اجالے میں بدلی نہیں تھی کہ کارساز پر میاں بیوی ہیوی ٹریفک کا نشانہ بن گئے۔

موٹرسائیکل سواروں کو زخمی اور ہلاک کرنے کا سلسلہ رکنے پر نہیں آ رہا ہے۔ حکومت وقت نے آنکھیں بند کر لی ہیں اور کانوں کو ناانصافی اور دل خراش واقعات سے بچانے کے لیے سیسہ ڈال لیا ہے، لہٰذا وہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کم نہ تھے کر و بیاں

آج کے دور میں حضرت انسان اپنا ہی درد محسوس کرتا ہے، ہمارے معاشرے میں انسانیت نام کی کوئی شے باقی نہیں رہی ہے۔ اس کی وجہ معاشرتی ڈھانچہ گل سڑ چکا ہے اس کے مردہ بدن میں تازہ روح ڈالنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ تو درندہ صفت ڈرائیور، ڈاکو اور سفاک قاتل سامنے آتے رہیں گے۔یہ وہی شہر ہے جس میں ارمغان بستا ہے، ارمغان نے جس انداز سے مصطفیٰ عامر کا قتل کیا وہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔

خونی کھیل کی ابتدا تو ہو چکی ہے لیکن موجودہ اور ماضی کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات حتمی طور پر نظر آتی ہے کہ خون کی ندی رکنے والی نہیں ہے، ابھی نہ جانے کتنے مصطفیٰ عامر لپیٹ میں آئیں گے۔ اس سے قبل بھی خواتین پر تشدد آمیز واقعات کے تخلیق کار منظر عام پر آچکے ہیں لیکن وہ سب معاف کر دیے گئے، بظاہر تو پکڑ دھکڑ، جیل اور عدالت میں پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ سب کچھ دکھائوے کے سوا کچھ نہیں، چونکہ ہمارا انصاف اور عدالتوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ پیسے میں بہت طاقت ہے، غریب اور اس کے بچے سالہا سال جیل کی دیواروں میں مقید رہتے ہیں بعض کو اپنے ناکردہ گناہوں کی وجہ سے عمر قید یا تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے اور جب چھان بین ہوتی ہے تو اصل قاتل کوئی دوسرا نکلتا ہے جس کا کہانی میں کوئی کردار نظر نہیں آتا۔

بس اچانک ہی حالات پلٹ جاتے ہیں لیکن ملزمان جنھیں مجرمان ثابت کیا جاتا ہے ان کی جوانی کے خوب صورت ماہ و سال اذیت اور قید کی نذر ہو جاتے ہیں۔ جوانی میں گرفتار ہونے اور عمر قید کاٹنے والے جیل کی دیواروں سے بوڑھے ہو کر باہر آتے ہیں۔ یہ کیسا قانون اور حکومت ہے؟ جو تعیشات زندگی کے مزے لوٹنے میں مست ہے۔ 
 





Source link