گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ شہر میں ٹریفک گردی سے متاثرہ افراد کو 12اپریل 2025 ءکے روز گورنرہاﺅس آنے کی دعوت دیتا ہوں، متاثرہ افراد کو 80گز کے پلاٹ دیں گے اور ان کے ساتھ مل کر آئندہ کا لائحہ عمل بھی بنائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرجانی کے علاقہ یوسف گوٹھ میں ٹریفک گردی کا شکار نذر عباس کے گھر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
گورنرسندھ نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی اور متاثرہ خاندان کو 80گز کا پلاٹ دیا جبکہ مقتولہ کے بچوں کے تعلیمی اخراجات اور ماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان کیا ۔
واضح رہے کہ ٹریفک گردی میں نذر عباس معذور ہوا جبکہ اس کی بیوی جاں بحق ہوگئی تھی، گورنرسندھ نے مزید کہا کہ یوسف گوٹھ انفرااسٹرکچر، بجلی ، گیس ، پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ یہاں کے لوگوں نے سارے ظلم سہے لیکن ساتھ نہیں چھوڑا۔
انہوں نے کہا کہ اس شہر کے ہر مظلوم کا بھائی ہوں، یہ شہر لاوارث نہیں، یہ ہمارا شہر ہے، ہم اس شہر کے بیٹے ہیں۔ اقتدار نہ ہونے کے باوجود بھی ایک بھائی دوسرے بھائی کے گھر آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کلاشنکوف نہیں قلم دینے آیا ہوں۔ بھائی کو بھائی سے لڑائیں گے نہیں بلکہ ملائیں گے۔ مظلوموں کو انصا ف دلائیں گے اور ان کا مداوا بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 77برس بعد گورنرہاﺅس میں مہاجر کلچر ڈے منایا گیا، اب میرے شہر کے لوگ جذباتی نعروں کے پیچھے نہیں بھاگیں گے۔ ہمیں نعرے نہیں نوکری ، گھروں کی چھت چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ گورنرسندھ بنتے ہیں شہدا قبرستان گیا۔ اس شہر کا بیٹا ہوں ، اپنی پارٹی کا حق پرست گورنرہوں۔
انہوں نے کہا کہ یوسف گوٹھ کے مکینوں کو گورنرہاﺅس میں مفت آئی ٹی کورسز کرائیں گے، یوسف گوٹھ کے مکینوں کی چوری ہونے والی موٹر سائیکل پرانہیں موٹر سائیکل بھی دیں گے۔
یوسف گوٹھ کاجو بچہ پڑھنا چاہتا ہے اس کا ایڈمیشن بھی کرائیں گے۔ اس موقع پر ایک بیوہ کی فریاد پر گورنرسندھ نے اس کے لئے وظیفہ مقرر کرنے اور اسے عمرے پر بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ مجھ سے بڑا کوئی مہاجر نہیں، ماضی میں مہاجروں کو جذباتی نعروں کے پیچھے چلانے اور تقسیم کر کے ہزاروں نوجوانوں کو مروانے والوں کو کراچی میں سیاست کی اجازت نہیں دیں گے۔
میڈیا کے سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ جن کو اختیار حاصل ہیں کیا وہ لوگ ان مظلوموں کے پاس آئے؟