گل بدن ، بل بدن اور فل بدن

گل بدن ، بل بدن اور فل بدن


ویسے تو انسانوں میں بے شمار انواع واقسام کے ’’بدن‘‘ہوتے ہیں اورہوسکتے ہیں یعنی جتنے انسان اتنے ابدان،جتنے منہ اتنے دہان جتنی زبانیں اتنی باتیں، جتنے لیڈر اتنے مسائل جتنے وزیر اتنے چور لیکن علمائے ابدان نے ابدان کو تین بڑی بڑی کیٹگریوں میں تقسیم کیاہوا ہے ، پہلے نمبر پر وہ بدن ہوتے ہیں جنھیں گل بدن کہاجاتاہے، ظاہرہے کہ جتنے گل اس سے کئی گنا زیادہ بلبل،یہ بدن جتنے گلاب ہوتے ہیں اتنے پر شباب ہوتے، سرخاب ہوتے ہیں، نایاب ہوتے ہیں، کمیاب اورکامیاب ہوتے ہیں، ثبوت کے لیے چینلات، اشتہارات اورماڈلات دیکھئیے،لیکن یہ جتنے پربہار ہوتے ہیں، گل وگلزار ہوتے ہیں اتنے ہی ان کے گرد خار بھی ہوتے ہیں کیوں کہ سارے ہی ان کے پرستار و طلب گار ہوتے ہیں ،ایسی ہی ایک گل بدن کاقول زرین وگوہرین ہے کہ

لیلیٰ میں لیلیٰ ایسی ہوں لیلیٰ

ہر کوئی چاہے مجھ سے ملنا اکیلا

مطلب یہ کہ گل بدن بہت ہی قیمتی بے بہا اورانمول ہوتے ہیں۔دوسری قسم کو بل بدن کہاجائے یا بیل بدن، کوئی فرق نہیں پڑتا کیوںکہ یہ درمیان درمیان میں ہوتے ہیں کہ یہ بھی ہوسکتے ہیں اوروہ بھی ہوسکتے ہیں یا یہ بھی نہیں ہوتے اوروہ بھی نہیں ، نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ لیکن ہوتے بے شمار ہیں قطار اندر قطار ہیں اورخدائی مارکاشکار ہیں ان کی بے پناہ کثرت کی وجہ سے یہ ہرجگہ موجود بھی ہوتے ہیں اورہرطرح سے استعمال بھی کیے جاتے ہیں لڑائیوں میں، بھڑائیوں میں، جلسوں میں، جلوسوں میں دھرنوں میں، بھرنوں، جھرنوں اور مرنوں میں تھوک کے حساب سے استعمال اورخرچ ہوتے ہیں لیکن پھر بھی خدا نے ان میں اتنی برکت ڈالی ہے کہ کبھی بھی کہیں بھی اورکسی کوبھی ان کی کمی نہیں ہوتی ، وہ جو ایک بلا سے ہرکولیس کو واسطہ پڑاتھا کہ وہ اس کا ایک سرکاٹتا تھا تو وہاں دوسرا اورنکل آتا ، کدوں کے پھولوں کے بارے میں بھی پشتو کہاوت ہے

 گل دکدو گل دے چہ یوترے شوکوم ترے لاندے بل دے

یعنی پھول ہے کدو کا، پھول ہے ایک توڑو تو اس کے نیچے ایک اورہے، اگر آپ نے دیکھا ہو تو کدو میں ایک پھول تو وہ ہوتے ہیں ، حسن کے ساتھ پھل بھی ہوتا ہے لیکن زیادہ پھول وہ ہوتے ہیں جو بغیر پھل کے یوں ہی پیدا ہوتے ہیں اورمرجھاتے رہتے ہیں، اوربل بدن کے معنی یہی ہیں کہ مضبوط ، دماغ سے خالی اورہرجگہ لڑانے کے لیے تیار ،تابعدار دیوانہ وار لیکن ہمارا اصل موضوع بحث نہ تو گل بدن ہیں نہ بل بدن بلکہ بدنوں کی تیسری قسم’’فل بدن‘‘ ہیں کہ فل ہوتے ہوتے اتنے ’’فل‘‘ہوجاتے ہیں کہ ان میں سانس کی آمدورفت بھی مشکل ہوجاتی ہے۔

 ایسے ہی ایک فل بدن کی موت جب عین دسترخوان پر کھاتے کھاتے ہوگئی تو معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے موت کی وجہ یوں تحریرکی کہ اس نے اتنا کھایا تھا کہ سانس لینے کے لیے کوئی جگہ ہی باقی نہیں رہی تھی ،ان فل بدن لوگوں کا معاملہ سودی نظام کی طرح سود درسود جیسا ہوتا ہے، زیادہ کھانے سے ان کے بدن میں جو بڑھوتری ہوتی ہے وہ بڑھوتری مزید کھانے کا تقاضا کرتی ہے اورکھانا مزید بڑھوتری پیدا کرتا ہے ، یوں جتنا کھاتے ہیں اتنے پھیلتے ہیں اورجتنے پھیلتے ہیں اتنا ہی زیادہ کھاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک فل بدن سے جس کا بدن اتنا فل ہوگیا تھا کہ اپنی ہی لمبائی بھی کھاگیا تھا یعنی لمبائی بھی گولائی میں گول ہوگئی،اس سے ہم نے پوچھا کہ تم رات کو کروٹ کیسے بدلتے ہو تو بولا پہلے بیٹھ جاتا ہوں پھر جس کروٹ لینا ہوتا ہے اس طرف پیٹ کا وزن منتقل کردیتا ہوں ۔

لیکن کہانی ہم ایک ایسے فل بدن کی سنانا چاہتے ہیں جو جدی پشتی دکاندار تھا اورمسلسل ایک جگہ بیٹھنے کی وجہ سے موٹاپا ان کی خاندانی شناخت ہوگیا ، ہمارے قریبی بازار میں ان کی دکان تھی ، اس کا چھوٹا بھائی آوٹ ڈور کام کرنے کی وجہ سے الف ہوگیا تھا جب کہ اس نے ’’نون‘‘ کی شکل اختیار کرلی تھی، دونوں بھائی جدید دکانداری کے ہرگُر سے واقف تھے اوران پر عمل پیرا بھی تھے ، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، نقلی چیزوں کو اصلی بنا کر بیچنا، آٹے کی بوریوں میں کارخانے والوں سے کہہ کر تین چار کلو آٹا کم ڈلوانا، ناقص گھی پر مشہور کمپنیوں کے لیبل لگانا، رمضان میں موٹے چاول کو پیس کر اوررنگ دے کر بیسن کے نام سے بیچنا ان کاخصوصی ہنر تھا، چنانچہ دن دونی رات چوگنی ترقی کرتے رہے جب ان کے حریف دکاندار نے حج کر کے دکان پر اپنے نام کے ساتھ حاجی لکھوا لیا تو ان کو بھی فکر پڑگئی اوردکان پر حاجی کا نام لکھوانے کی غرض سے بڑے بھائی’’فل بدن‘‘ کو حج پر روانہ کیا، پورے چالیس سال ایک جگہ بیٹھے رہنے اورصرف ہندسوں کے لین دین سے واسطہ رکھنے کی وجہ سے بدن کے ساتھ اس کا دماغ سکڑ کر صرف ایک صفر کی صورت اختیار کرچکاتھا یعنی دکانداری کے سوا باقی سارے معاملات میں صفرہوگیا تھا۔





Source link