کراچی:
کورنگی میں زیرِزمین گیس ذخیرے سے متعلق ماہرِ ارضیات کے حیران کن انکشافات سامنے آ گئے۔
ماہرِ ارضیات ڈاکٹر عدنان خان نے کورنگی کریک میں زیر زمین میتھین گیس کے ذخیرے کو پاکستان کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس مقام سے میتھین گیس خارج ہورہی ہے، وہاں قدرتی گیس کے ذخائر کا قومی امکان ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کورنگی کریک میں زیر زمین چٹانوں میں دراڑیں موجود ہیں جو گیس کو سطح پر لانے میں مدد دے رہی ہیں۔ اس مقام پر گیس کے ذخائر کے لیے ارضیاتی سروے کیا جائے اور آگ کو فوری طور پر محفوظ طریقے سے بجھایا جائے تاکہ گیس کے ضیاع کو روکا جاسکے ۔
ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ ارضیات ڈاکٹر عدنان خان نے کہا کہ آگ بجھاکر گیس کے پریشر کی پیمائش کی جائے تاکہ گیس کے ذخیرے کا تخمینہ لگایا جاسکے ۔ جس مقام پر گیس خارج ہورہی ہے وہ تہہ دار چٹانیں ہیں ۔ اس مقام پر 2 تہیں موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کورنگی کریک کے زیر زمین 2 کروڑ 50 سال سے زائد پرانی چٹانیں موجود ہیں ، جن میں گیس کے ساتھ کوئلے کی موجودگی کے بھی آثار ہیں اور بڑے ذخیرے کی موجودگی کی صورت میں آگ مہینوں تک جاری رہنے کا بھی خدشہ ہے۔
ڈاکٹر عدنان خان نے کہا کہ کراچی کی ساحلی پٹی پر 1963 سے 2019 تک کے تیل و گیس کی تلاش کے ڈیٹا سے کورنگی کریک میں ہائیڈرو کاربن ذخائر کی موجودگی کے واضح اشارے ملے ہیں۔