کراچی:
شہر قائد میں ڈاکو بے لگام ہو گئے، موٹر سائیکل سوار فیملی پر ڈکیتوں نے فائرنگ کرکے حاملہ خاتون کو قتل کردیا۔
پولیس اور حکومت کے خوف سے آزاد ڈاکو کراچی میں روزانہ شہریوں سے جینے کا حق چھین رہے ہیں۔ ڈکیتی کی واردات کے دوران گولی مار کر قتل کرنا ڈاکوؤں کے لیے معمول بن چکا ہے۔ اس طرح کے مسلسل واقعات نے شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔
تازہ واقعے میں سائٹ سپر ہائی وے کے علاقے فقیرا گوٹھ پریشان چوک کے قریب ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے حاملہ خاتون جاں بحق ہو گئی۔
پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب میاں بیوی موٹر سائیکل پر سوار تھے کہ 2مسلح ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی کوشش کی اور مزاحمت پر گولیاں چلا دیں، جس کے نتیجے میں 25 سالہ حاملہ خاتون صائمہ زوجہ عرفان موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی۔
پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے اور جیو فینسنگ کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔
دریں اثنا ملیر سٹی میں جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 40 سالہ حمزہ جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ جائے وقوع سے 30 بور کے چار خول برآمد ہوئے ہیں۔
علاوہ ازیں فیڈرل بی ایریا بلاک 21 کے ایک فلیٹ سے 65 سالہ خاتون نزعت فاطمہ کی 10 دن پرانی لاش ملی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون اکیلی رہائش پذیر تھیں اور ان کی موت کی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
اس کے علاوہ بھیم پورہ امام بارگاہ کے قریب ایک گھر سے 19 سالہ نوجوان دین اسلام کی پھندا لگی لاش بھی برآمد ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ واقعہ خودکشی کا معلوم ہوتا ہے تاہم پوسٹ مارٹم اور دیگر شواہد کی روشنی میں حتمی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔