نیو یارک:
وال اسٹریٹ پر گزشتہ روز شدید مندی کا سامنا رہا اور امریکی مارکیٹس نے کئی سالوں میں سب سے بڑی یومیہ فیصد کی کمی ریکارڈ کی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وسیع پیمانے پر نافذ کردہ ٹیرف نے عالمی تجارتی جنگ اور عالمی معیشت میں کساد بازاری کے خدشات کو جنم دیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا عالمی تجارت پر بڑا فیصلہ، یورپی یونین اور 46 ممالک پر بھاری ٹیکس عائد
ٹرمپ نے امریکہ کی زیادہ تر درآمدات پر 10 فیصد ٹارف عائد کر دیا، جبکہ دیگر ممالک پر کہیں زیادہ ٹیکس لگائے گئے۔ اس اقدام نے عالمی تجارتی نظام میں بڑی خلل اندازی کا امکان ظاہر کیا ہے، جو چند ماہ قبل تک امریکی اسٹاک مارکیٹس میں کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی تھی۔
سرمایہ کاروں نے وال اسٹریٹ پر محفوظ سرمایہ کاری کی اور حکومتی بانڈز کی طرف رخ کیا جو سرمایہ کاری کے لحاظ سے زیادہ محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔
وال اسٹریٹ میں شدید مندی کے باعث مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی کیونکہ عالمی تجارت میں شمولیت رکھنے والے دیگر ممالک کی جانب سے ٹرمپ کے فیصلوں پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
یہ پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا اقدام، یو ایس ایڈ کے ہزاروں ملازمین برطرف
دوسری طرف چین نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جبکہ یورپی یونین بھی 20 فیصد ٹیکس کی مخالفت کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا، میکسیکو، بھارت اور دیگر تجارتی شراکت داروں نے کہا ہے کہ وہ اپریل 9 سے پہلے ٹیرف کے نفاذ سے متعلق رعایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ان عالمی ردعملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے جس کے نتیجے میں وال اسٹریٹ پر شدید مندی کا رجحان رہا۔