میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی ہے۔ قدرتی آفت کے نتیجے میں 2800 کے قریب اموات ہوئیں ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ تاہم، سائنس دانوں نے اس زلزلے کے سبب کا پتہ لگا لیا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ زلزلہ ’سپر شیئر‘ رپچر کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ سپر شیئر زلزلے ایسے زلزلے ہوتے ہیں جس میں فالٹ (زیر زمین چٹانوں کے درمیان دراڑ) کے پھٹنے کی رفتار، زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی لہروں (ایس-ویوز) سے زیادہ ہوجاتی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زلزلے کے دوران ٹوٹنے والی ارضیاتی فالٹ (وسیع ساگائینگ فالٹ جو کہ برما اور سنڈا ٹیکٹونک پلیٹس کے درمیان ہے) ممکنہ طور پر بہت تیزی سے اور 400 کلو میٹر تک کے فاصلے پر پھٹی جو اس شدید زلزلے کا سبب بنی۔
یونیورسٹی آف لندن کے ایک ماہر آئن واٹکنسن کا کہنا تھا کہ یہ زلزلہ ساگائینگ فالٹ پر پیش آیا ہے۔ یہ ایک ایسا بڑا ٹیکٹونک اسٹرکچر ہے جس پر بھارت اور مغربی میانمار سمیت باقی جنوب مشرقی ایشیاء کی شمالی حرکت ہوتی ہے۔
ایک اور ماہر برائن بیپٹائی کا کا کہنا تھا کہ یہ دھماکا شمال سے جنوب کی جانب ایک منٹ کے اندر پھیلا۔