زمبابوے کا آرمی چیف برطرف، صدر کا سابق فوجیوں کے احتجاج کے اعلان پر سخت اقدام

زمبابوے کا آرمی چیف برطرف، صدر کا سابق فوجیوں کے احتجاج کے اعلان پر سخت اقدام



HARARE:

زمبابوے کے صدر ایمرسن منینگیگوا نے سابق فوجیوں کی جانب سے احتجاج کے اعلان کے بعد ملک میں مارشل کے خدشے کے پیش نظر آرمی چیف کو برطرف کردیا۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق زمبابوے کے سیاسی ماہرین نے کہا کہ صدر منینگیگوا نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے اعلیٰ فوجی جنرل کو ہٹانے کا سخت اقدام کیا ہے اور انہیں خدشہ تھا کہ کہیں سابق اتحادی مارشل لا نافذ نہ کردیں۔

صدر منینگیگوا نے 2017 میں سابق صدر رابرٹ موگابے کے خلاف فوجی بغاوت کے نتیجے میں بننے والے فوجی حکمرانوں سے اقتدار حاصل کیا تھا تاہم اب ان کی حکمران جماعت زینو پی ایف کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں اور ان کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں حالانکہ ان کی جماعت 1950 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد برسر اقتدار ہے۔

رپورٹ کے مطابق زمبابوے کی جنگ آزادی کے سابق چند فوجیوں نے 31 مارچ کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا تھا اور صدر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

زمبابوے کے صدر نے ملک کے دوسرے طاقت ور ترین جنرل اور فوج کے سربراہ اینسیلیم سینیاتوے کو برطرف کردیا جو صدر کا حالیہ مہینوں میں یہ تیسرا بڑا فیصلہ ہے۔

منینگیگوا نے اس کے علاوہ پولیس چیف اور زمبابوے کی انٹیلیجینس سروس کے سربراہ کو بھی برطرف کردیا ہے۔

سابق فوجیوں کا صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک کے معاشی بحران کو مزید گھمبیر کردیا اور اپنے اقتدار کو 2028 کے بعد بھی طول دینے کے منصوبے بنا رہے ہیں حالانکہ ان کی دوسری مدت ختم ہوجائے گی۔

دوسری جانب منینگیگوا نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے اور انہوں نے اپنے مخالفین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ دارالحکومت ہرارے میں حکمران جماعت کے اجلاس کے دوران ہمارے امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ منینگیگوا کو اپنے اقتدار پر گرفت کمزور پڑنے کا خوف ہے، اس لیے فوج، پولیس اور انٹیلیجینس کی قیادت میں ردوبدل سے حکومت مضبوط بنانے کی کوشش کر رہےہیں۔

رپورٹس کے مطابق سابق فوجی چاہتے ہیں کہ منینگیگوا کی جگہ ریٹائرڈ جنرل کونسٹینٹینو چیونگا کو صدر بنانا چاہتے ہیں، جو سابق صدر رابرٹ موگابے کے خلاف فوجی بغاوت کے سربراہ ہیں اور اس وقت ملک کے نائب صدر ہیں۔

زمبابوے کی جنگ آزادی کے فوجیوں کی تعداد کم ہوگئی اور طویل عمری کے باوجود وہ ملک کی سیاست میں اثر ورسوخ رکھتے ہیں اور اپنے سیکیورٹی سربراہان کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔





Source link