لاہور:
دفاعی تجزیہ کار سید محمد علی کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک سسٹم لیول انیلیسس کریں غیر جانبدارانہ طور پہ تو3بنیادی وجوحات سامنے آتی ہیں جس کی وجہ سے دہشت گردی نے دوبارہ اتنے بڑے پیمانے پہ سراٹھایا ہے، اس کا ایک سیاسی پہلو ہے، ایک تزویراتی پہلو ہے اور ایک فیڈریشن اور صوبوں کے درمیان معاملات ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام اسٹیٹ کرافٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہاں تک پولیٹیکل پہلو ہے تو آبویسلی سب سے امپورٹنٹ بات یہ ہے کہ پچھلے دور میں آپ کو یاد ہو گا کہ جس طرح دہشت گرد تنظیموں سے بات کرنے کی، مذاکرات کی بات ہوئی۔ اور مذاکرات کے دوران جس طرح کے ان کو ایکسیپشنل کنسیشنز دیے گئے جس میں تقریباً پانچ ہزار سے زائد جو ٹی ٹی پی کے دہشتگرد تھے۔
دفاعی تجزیہ کار ماریہ سلطان نے کہا کہ دیکھیں بات یہ ہے کہ یہ ڈیپنڈ کرتا ہے کہ آپ اس کو کس لیول سے اینالائز کرتے ہیں لیکن جوکچھ حقائق ہیں وہ اتنے سیدھے نہیں ہیں، یہ اتنا سیدھا نہیں ہے کہ کچھ لوگ افغانستان کے اندر ریڈیکلائز ہو گئے اور ریڈ یکلا ئزیشن کے بعد افغان وار میں ہوئے یا اس کے بعد ہوئے اور اس کے بعد جو ریڈیکلائزیشن ہے وہ آپ کو ایفکٹ کر رہی ہے۔
تجزیہ کار احسان اللہ ٹیپو نے کہا کہ میں اس سے ایگری کرتا ہوں کہ جو پولیٹیکل پولرائزیشن ہم دیکھ رہے ہیں وہ صوبے کے لیول پر ہو یا وفاق کے لیول پر ہو یا اس میں جو سول ملٹری ڈیوائڈ ہم دیکھ رہے ہیں وہ ڈائریکٹلی فیول کر رہا ہے فیڈ کر رہا ہے ملیٹینٹسی کو، چاہے وہ بلوچستان میں ہو یا خیبر پختونخوا میں ہو، ایک سائڈ پہ تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہاں پر پولیٹیکل پولرائزیشن، پولیٹیسرائز کیا جا رہا ہے ۔