اچھی صحت – ایکسپریس اردو

اچھی صحت – ایکسپریس اردو


یومِ پاکستان ہر سال 23 مارچ کو منایا جاتا ہے، جو ایک تاریخی دن کی یاد دلاتا ہے جب 1940 میں قراردادِ لاہور منظور کی گئی، جس کی بنیاد پر بعد میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ یہ دن نہ صرف ہماری تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے بلکہ ہماری قومی وحدت واتحاد، حب الوطنی اور ملی یکجہتی کی علامت بھی ہے۔

اس دن کی تقریبات، روایات اور قومی جوش و جذبے کا ایک منفرد انداز ہوتا ہے، جو ہمیں اپنی تاریخ، ثقافت اور قومی ورثے سے جوڑے رکھتا ہے۔ یوم پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں رنگا رنگ پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے، اس سلسلے کا سب سے بڑا سرکاری شو یوم پاکستان پریڈ ہوتی ہے جس کا انعقاد اسلام آباد ایکسپریس وے کے نام سے مشہور شاہراہ کے کنارے پر واقع شکرپڑیاں گراؤنڈ (جسے پریڈ گراؤنڈ بھی کہاجاتا ہے) میں ہوتا ہے۔

30 برس سے زائد عرصہ تک مسلح افواج کی پریڈ کے انعقاد کے مقامات مسلسل تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ اس پریڈ کا اصل مقام پہلے راولپنڈی کا ریس کورس گراؤنڈ ہوا کرتا تھا جو بعد میں تبدیل ہوکر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور پر منتقل ہو گیا۔ اب شکرپڑیاں میں ہوتا ہے امسال بھی اس کا انعقادپریڈ گراؤنڈ میں ہوا۔ جس میں حکومتِ پاکستان، عسکری قیادت، مختلف ممالک کے سفراء و معززین اور عوام و خواص کی بڑی تعداد شریک تھی۔

اس تقریب کا انتظام و انتصرام مکمل طور پر افواج پاکستان کے ذمے ہوتا ہے اس لیے اس کا نظم و ضبط اور انعقاد نہایت ہی کامیاب رہتا ہے۔ اس سال کی تقریب میں بھی پاکستان کی مسلح افواج، رینجرز، پولیس، اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حصہ لیا۔ جدید اسلحے، ٹینکوں، میزائلوں اور فضائیہ کے شاندار مظاہرے پیش کیے گئے۔

پاکستان ایئرفورس کے طیارے فضا میں کرتب دکھاتے رہے، جو دیکھنے والوں کے جوش و خروش کو مزید بڑھا رہے تھے۔ ہر کام نہایت سلیقے اور پیشہ ورانہ مہارت کی عملی تصویر پیش کررہا تھا لیکن یوم پاکستان کی اس سب سے بڑی تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی پڑھی ہوئی تقریر نے کسی حد تک تقریب کا مزہ کرکرا کیا۔ میں نے صدر مملکت کی تقریر کو ان کی گرتی ہوئی صحت کے پیرائے میں دیکھا ہے۔

میں نے معمر ترین علماء کرام کوتقریر کرتے سنا ہے‘ عمر رسیدگی کے باوجود ان کی تقریر میں جوش و جذبہ ہوتا ہے‘ وجہ عمر نہیں بلکہ اچھی صحت ہوتی ہے۔ میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ جیسے جیسے علماء کرام اور مشائخ کی عمریں بڑھتی ہیں ان کے کلام میں تاثیر اور انداز بیان شیریں اور لہجے میں متانت بڑھتی ہے اور یہ آپ لوگوں کا بھی مشاہدہ ہوگا۔ قرآن و سنت کی برکت سے مخلوق کی نظروں میں بھی ان کی قدر و منزلت بڑھ جاتی ہے اور خالق کے دربار میں قرب بڑھتا ہے۔

ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے طے کرکے لوگ ان کا دیدارکرنے آتے ہیں اور چہرے کو ایک نظر دیکھنا اپنی بہت بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔ اول تو 99% بزرگان 120 سال کی عمر میں بھی اللہ رب العزت کی قدرت سے ایسی فصاحت کے ساتھ بولتے ہیں کہ قرآن و حدیث کے دروس میں سامعین انگشت بدنداں ہوتے ہیں، وعظ و تقریر کرتے ہیں توجیسے منہ سے موتی جھڑتے ہیں اور سامعین میں سے کچھ لوگ ہاتھ میں قلم لیے منہ سے نکلے ہوئے ہر لفظ کو سپرد قلم کرکے نازاں ہوتے ہیں۔ حضرت اقدس شیخ عبدالحقؒ، شیخ حمداللہ جان ڈاگئی باباجیؒ، مولانا عبدالحفیظ مکیؒ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا سلیم اللہ خانؒ، مولانا سمیع الحقؒ ایسے بزرگوں کی کامیاب زندگی کے عملی نمونے موجود ہیں۔ ان بزرگوں کے نقش قدم پر چل کر لاکھوں کروڑوں لوگ اپنی زندگیوں کو گل و گلزار بناتے ہیں۔

سلف صالحین، آئمہ دین اور علمائے اسلام سے ایسے بے شمار اقوال و آثار اور واقعات منقول ہیں جن سے لوگوں کے دلوں میں علما ومشائخ کا جو احترام، تعظیم و تکریم اور مقام ومرتبہ پایا جاتا تھا اس کی عکاسی ہوتی ہے،طاؤس بن کیسانؒ فرماتے ہیں: ’’سنت یہ ہے کہ عالم کی تکریم و توقیر کی جائے‘‘ [جامع بیان العلم و فضلہ : 1\459]

حسن بصریؒ فرماتے ہیں: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا گیا کہ آپ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی سواری کی رکاب تھامے ہوئے ہیں، تو آپ سے کہا گیا کہ: آپ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد ہیں اور آپ اس انصاری کی سواری کی رکاب تھامے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ’’ضروری ہے کہ عالم کی تعظیم کی جائے اور انھیں مناسب مقام ومرتبہ عطا کیا جائے‘‘ [الجامع لا?خلاق الراوی وا?داب السامع للخطیب:188/1]

احمد بن سنانؒ بیان کرتے ہیں کہ: ’’جب عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اپنی مجلس میں تشریف فرما ہوتے، تو آپ کی مجلس میں نہ ہی کسی قسم کی بات کی جاتی، نہ قلم کی نوک تراشے اور سنوارے جاتے اور نہ ہی کوئی مجلس سے اٹھتا، سب ایسے بیٹھے رہتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں (کہ ذرا سا ہلیں تو پرندے اڑ جائیں گے) یا وہ نماز میں ہیں‘‘۔ (تذکر? الحفاظ:133/1)

ابو عاصمؒ فرماتے ہیں کہ:’’ہم لوگ ابن عون رحمہ اللہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ہم سے حدیث بیان کر رہے تھے، اسی دوران ہمارے پاس سے ابراہیم بن عبداللہ بن حسنؒ کے قافلے کا گزر ہوا۔ ان دنوں اپنے بھائی محمد (بن عبد اللہ بن حسن النفس الزکیہ)کے قتل کے بعد آپ کو امام کہا جاتا تھا۔ لیکن صرف ابنِ عون رحمہ اللہ کی ہیبت اور رعب کی وجہ سے ہم میں سے کسی نے اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی بھی جسارت نہیں کی، چہ جائیکہ مجلس سے اٹھ کر جاتا‘‘۔ [الجامع للخطیب:185/1]

ربیع بن سلیمانؒ فرماتے ہیں کہ:’’اللہ کی قسم میں نے کبھی بھی اس حالت میں پانی پینے کی جسارت نہیں کیا جب امام شافعی رحمہ اللہ میری طرف دیکھ رہے ہوں، محض آپ کی ہیبت اور رعب کی وجہ سے‘‘۔ [مناقب الشافعی للبیہقی:145/2]

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ :’’میں مسلسل چار سال تک ہشیم (بن بشیر الواسطیؒ) کی صحبت میں رہا لیکن آپ کی ہیبت کی وجہ سے سوائے دو بار کے کبھی کوئی سوال نہ کر سکا‘‘۔ [تذکر? الحفاظ:249/1]

یہ انبیاء کے ورثاء کی عظمت و اہمیت ہے، سو سو سال زائد کی زندگیاں پاتے ہیں ‘صحت اچھی ہوتی ہے۔ لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں، قرآن کی برکت سے آخری عمر میں بھی زبان ساتھ نہیں چھوڑتی۔ ویسے میرے دل میں ایک بات آئی ہے کہ صدر مملکت آصف زرداری کی عمر 69 سال ہے جب کہ مولانا فضل الرحمن 72 ویں سال میں پہنچ چکے ہیں۔ آپ دونوں کا موازنہ کرلیں اور اپنے دل سے پوچھیں کہ زیادہ اچھی صحت کس کی ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ صدارت کے منصب کے لیے زیادہ موزوں فضل الرحمن تھے۔





Source link