چہرہ اس ایک شخص کا کافی نہیں ہے کیا

چہرہ اس ایک شخص کا کافی نہیں ہے کیا
یہ چاند آسماں پہ اضافی نہیں ہے کیا

لوٹا نہیں رہا ہے مجھے میرا اپنا عکس
یہ بات آئینے کے منافی نہیں ہے کیا

مزید پڑھیں  یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کی

اک شام جو گزاری تھی ہم نے ستارہ وار
وہ شام عمر بھر کی تلافی نہیں ہے کیا

مزید پڑھیں  رنگ ، خوشبو میں اگر حل ہو جائے

اچھی گزر رہی ہے تمہارے بغیر بھی
یہ زندگی کی وعدہ خلافی نہیں ہے کیا

مزید پڑھیں  یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

سچ یوں ہی بے خیالی میں منہ سے نکل گیا
یہ جرم ہے تو اس کی معافی نہیں ہے کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں