روغنی پتلے

ممتاز مفتی

شہر کا الیٹ شاپنگ سنٹر…. جس کی دیواریں ، شلف، الماریاں بلور کی بنی ہوئی ہیں ۔ جس کا بنا سجا فیکیڈ جلتے بجھتے رنگ دار سائز سے مزین ہے۔ جس کے کاؤنٹرز مختلف رنگوں کے گلو کلرز پینٹس کی دھاریوں سے سجے ہوئے ہیں اور شلف دیدہ زیب سامان سے لدے ہیں جس کے کاؤنٹروں پر سمارٹ متبسم لڑکیاں اور لڑکے یوں ایستادہ ہیں جیسے وہ بھی پلاسٹک کے پتلے ہوں ۔ جوان کے اردگرد یہاں وہاں سارے ہال میں جگہ جگہ رنگا رنگ لباس پہنے کھڑے ہیں …. ہال فیشن آرکیڈ سے کون واقف نہیں ۔
چاہے انہیں کچھ نہ خریدنا ہو، لوگ کسی نہ کسی بہانے فیشن آرکیڈ کا پھیرا ضرور لگاتے ہیں ۔ وہاں گھومتے پھرتے نظر آنا ایک حیثیت پیدا کر دیتا ہے۔ کچھ پاش چیزوں اور نئے ڈیزائنوں کو دیکھنے آتے ہیں تاکہ محفلوں میں لیٹسٹ فیشن کی بات کر کے اپ ٹو ڈیٹ ہونے کا رعب جما سکیں ۔ نوجوان آرکیڈ میں گھومنے پھرنے والیوں کو نگاہوں سے ٹٹولنے آتے ہیں ۔ غنڈے سیل گرلز سے اٹاسٹا لگانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لڑکیاں اپنی نمائش کے لئے آتی ہیں ۔ بوڑھے خالی آنکھیں سینکتے ہیں ۔ کھاگ بیگمات گرین یوتھ کی ٹوہ میں آتی ہیں ۔ وہ صرف فیشن آرکیڈ ہی نہیں ، رومان آرکیڈ بھی ہے کیوں نہ ہو۔ آج محبت بھی تو فیشن ہی ہے۔
کون سی چیز ہے جو فیشن آرکیڈ مہیا نہیں کرتا۔ زربغت سے گاڑھے تک۔ موسٹ ماڈرن گیجٹس سے سوئی سلائی تک سی تھرو سے رنگین مالاؤں تک۔ سب کچھ وہاں موجود ہے۔ لوگ گھوم گھام کر تھک جاتے ہیں تو آرکیڈ کے ریستوران میں کافی کا پیالہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں ۔
فیشن آرکیڈ کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ فارن ڈگنیٹریز نے خرید و فروخت کرنی ہو تو انہیں خاص انتظامات کے تحت آرکیڈ میں لایا جاتا ہے۔
آرکیڈ ہال میں جگہ جگہ روغنی پتلے طرح طرح کا لباس پہنے کھڑے ہیں ۔ چہروں پر جوانی کی سرخی جھلملا رہی ہے۔ آنکھوں میں دعوت بھری چمک ہے۔ ہونٹوں پر رضامندی بھرا تبسم کھدا ہے۔ جسم کے پیچ و خم ہر لحظہ یوں ابھرتے سمٹتے محسوس ہوتے ہیں جیسے سپردگی کے لئے بے تاب ہوں ۔
اگر ڈمی پتلے پلاسٹک کے جمود میں مقید ہیں مگر صناع نے انہیں ایسی کاریگری سے بنایا ہے کہ ان کے بند بند میں حرکت کی الیوژن لہریں لے رہی ہیں ۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ رواں دواں ہوں ۔
سی تھرو لباس والی پتلی کو دیکھو تو ایسے لگتا ہے جیسے وہ ابھی اپنی برہنہ ٹانگ اٹھا کر کہے گی۔ ’’ہئے مجھے سنبھالو۔ میں گری جا رہی ہوں ۔ ‘‘ اور جیکٹ والا اپنی عینک اتار کر مونچھوں کو لٹکاتے ہوئے چل پڑے گا۔ ‘‘ ہولڈ آن ڈارلنگ میری گود میں گرنا۔ ‘‘
آرکیڈ میں بہت سی پتلیاں پوز بنائے کھڑی ہیں ۔ منی سکرٹ والی، ساڑھی والی، بیدنگ کاسٹیوم والی، میکسی والی، سی تھرو لباس والی، لٹکتے بالوں والی، پتلون والی ننگے پاؤں والی، ہپن، ٹوکرا بالوں والی، انگلی سے لگے بچے والی۔
ان کے ساتھ ساتھ پتلے کھڑے ہیں ۔ شکاری جیکٹ والا، دانشور، موٹر سائیکل والا، بلیک سوٹ، اچکن، ہپی، کرتے پاجامے والا، سٹوڈنٹ، ڈینڈی، مصور۔
آرکیڈ بال کے اوپر دیوار کے ساتھ ساتھ ایک گیلری چل گئی ہے۔ جہاں نظروں سے اوجھل دکان کا کاٹھ کباڑ پڑا ہے۔ پرانی میزیں کرسیاں ، شلف اور پتلے جن کا رنگ و روغن اکھڑ چکا ہے۔
رات کا وقت ہے۔ آرکیڈ بند ہو چکا ہے۔ ہال میں سات آٹھ بتیاں روشن ہیں ، شیشے کی دیواروں کی وجہ سے بال جگمگ کر رہا ہے۔
گھڑی نے دو بجائے۔ سارے ہال میں حرکت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ پتلیوں نے آنکھیں کھول دیں ۔ پتلیوں کی لمبی لمبی پلکیں یوں چلنے لگیں جیسے پنکھیاں چل رہی ہوں ۔
سی تھرو نے انگڑائی لی۔
منی سکرٹ والی نے اپنی ٹانگ اٹھائی۔
جیکٹ والے دانشور نے اپنا قلم جیب میں ٹانگا۔ عینک صاف کی اور سی تھرو کی طرف بھوکی نظروں سے دیکھنے لگا۔
موٹر سائیکل والے نے پیچھے بیٹھی لٹکتے بالوں والی پر گلیڈ آئی چمکائی۔ لٹکتے ہوئے بالوں والی سے چھینٹے اڑنے لگے۔
’’مائی گاڈ۔ ‘‘ سی تھرو چلائی۔ ’’یہ دیکھو، اس نے اپنی ٹانگ لہرائی۔ میری ٹانگ پر نیلی رگیں ابھر آئی ہیں کھڑے کھڑے۔ ‘‘
’’کیوں نہ ہو، بلیو بلڈ ہے۔ ‘‘ بلیک سوٹ مسکرایا۔
دور سے ایک آواز آئی۔ ’’ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلی میں ۔ ‘‘ سب لوگ بکس کے پاس کھڑی پتلون والی کی طرف دیکھنے لگے۔
’’تیرے ہاتھ تو خالی ہیں ۔ کہاں ہے ساغر؟‘‘ کرتے پاجامے والے نے پوچھا۔
’’اندھے وہ تو خود ساغر ہے، دکھتا نہیں تجھے۔ ‘‘ جین والا ہنسا۔
’’میں تو بور ہو گئی ہوں ۔ ‘‘ منی سکرٹ والی نے آنکھیں گھما کر کہا۔
’’کیوں مذاق کرتی ہو؟‘‘ موٹر سائیکل والے نے گلیڈ آئی چمکائی۔
’’تم تو سراپا حرکت ہو۔ تمہاری تو بوٹی بوٹی تھرکتی ہے۔ تم کیسے بور ہو سکتی ہو؟‘‘
’’کیوں بناتے ہو اسے، اس کے جسم پر بوٹی ہی نہیں ، تھرکے گی کہاں سے۔ ‘‘ دور کونے میں کھڑے اچکن والے نے کہا۔
’’ہاں !‘‘ پہلوان نما کرنے والے نے سر اثبات میں ہلایا۔ ’’وہ تو مٹیار کا زمانہ تھا جب بوٹی بوٹی تھرکا کرتی تھی۔ اب تو کاٹھ ہی کاٹھ رہی گیا ہے۔ ‘‘
’’شٹ اپ۔ ‘‘ جین والے نے آنکھیں دکھائیں ۔ ’’اپنے دقیانوسی رجعت پسند خیالات سے فیشن آرکیڈ کی فضا کو متعفن نہ کرو۔ ‘‘
’’ابے مسٹر اچکن۔ ‘‘ سٹوڈنٹ چلایا۔ ’’ذرا آئینہ دیکھو۔ یوں لگتے ہو جیسے سارنگی پر غلاف چڑھا ہو۔ ‘‘
’’یہ مسٹر اچکن تو خالص ہسٹری ہے ہسٹری۔ اسے تو میوزیم میں ہونا چاہئے۔ ‘‘
’’انٹیکس میوزیم میں ۔ ‘‘ جیکٹ والے نے قہقہہ لگایا۔
’’بالکل، ان روایتی لوگوں کو جیسے کا کوئی حق نہیں ۔ ‘‘
’’یہ لوگ زندگی کو کیا جانیں ۔ ‘‘
’’ہپو کریٹس۔ ‘‘ ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں ۔
’’اگنور ہم، ہٹاؤ…. کوئی اور بات کرو۔ ‘‘ سی تھرو آنکھیں گھما کر بولی۔
’’ہاؤ کین دی اگنور ہم؟ یہ لوگ ہمارے راستے کی رکاوٹ ہیں ۔ ‘‘
’’نان سنس۔ ہمارے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ وی آر آل فار پروگرس موومنٹ۔ ‘‘ جیکٹ والا چلا کر بولا۔
’’ہیر ہیر۔ ‘‘ تالیوں سے ہال گونجنے لگا۔
’’ہا ہا ہا ہا‘‘ اوپر گیلری میں کوئی قہقہہ مار کر ہنسا۔ اس کی آواز کھرج تھی۔ انداز والہانہ تھا۔ تالیاں رک گئیں ۔ ہال میں خاموشی چھا گئی۔ پھر سرگوشیاں ابھریں ۔
’’کون ہے یہ؟‘‘
’’کون ہنس رہا ہے؟‘‘
’’پتا نہیں ، اوپر سے آواز آ رہی ہے۔ ‘‘
’’ہئے میں تو ڈر گئی۔ کتنی ہورس آواز ہے۔ ‘‘
قہقہہ رک گیا، پھر قدموں کی آواز سنائی دی…. ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک۔
’’کوئی چل رہا ہے اوپر۔ ‘‘
’’ہئے میری تو جان نکلی جا رہی ہے۔ ‘‘
’’پتہ نہیں کون ہے۔ منی اسکرٹ والی بولی۔
’’ڈونٹ فیئر ڈارلنگ۔ آئی ایم ہیر بائی یور سائیڈ۔ ‘‘
’’وہ دیکھو…. وہ۔ ٹوکرا بالوں والی نے اوپر کی طرف اشارہ کیا۔
اوپر…. گیلری کے جنگلے پر۔ ‘‘ ساڑھی والی ڈر کر بولی۔
سب کی نگاہیں اوپر جنگلے کی طرف اٹھ گئیں ۔
گیلری کی ریلنگ سے ایک بڑا سا بھیانک چہرہ جھانک رہا تھا۔
’’توبہ ہے۔ اف…. ہائے….‘‘ پتلیوں نے شور مچا دیا۔
’’کون ہے تو؟‘‘ موٹر سائیکل والا اپنا سائیلنسر نکال کر غرایا۔
’’میں وہ ہوں جو ایک رو مشہدی لنگی باندھے وہاں کھڑا تھا۔ جہاں آج تو کھڑا ہے۔ ‘‘
’’اس کی آواز اتنی بھدی کیوں ہے؟‘‘ سی تھرو نے سینہ سنبھالا۔
’’کہاں سے بول رہا ہے یہ؟‘‘ پتلون والی نے پوچھا۔
’’میں وہاں سے بول رہا ہوں جہاں بہت جلد تم پھینکی جانے والی ہو۔ لنگی والا کہنے لگا۔
پتلیوں کا رنگ زرد پڑ گیا۔ ان کے منہ سے چیخیں سی نکلیں ۔ ’’نو نو…. نو نو…. نیور۔ مائی گاڈ۔ ہئے اللہ۔ ‘‘ وہ سب سہم کر پیچھے ہٹ گئیں ۔
’’ڈونٹ مائنڈ ہم ڈارلنگ۔ ‘‘ جین والا بولا۔ ’’یہ تو پٹا ہوا مہرہ ہے۔ پٹے ہوئے مہرے سے کیا ڈرنا۔ ‘‘
’’دیٹس اٹ دیٹس اٹ دے بلانگ ٹو دی پاسٹ۔ ‘‘
’’یہ اب بھی ماضی میں رہتے ہیں اور ہم کو ماضی کی طرف گھسیٹنا چاہتے ہیں ۔ ‘‘ جیکٹ والا حقارت سے بولا۔
’’بڑے میاں سلام۔ ‘‘ جیکٹ والے نے ماتھے پر ہاتھ مار کر طنزیہ سلام کیا۔ ‘‘ ماضی پرستی کا دور ختم ہوا۔ حضت اب جدیدیت کا زمانہ ہے۔ ‘‘
گیلری میں اوندھا پڑا ہوا رومی ٹوپی والا لنگڑا سوٹی پکڑ کر اٹھ بیٹھا۔
’’احمق ہیں یہ جدیدیت کے دیوانے۔ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اس دنیا میں نہ قدیم ہے نہ جدید۔ جو آج جدید ہے وہ کل قدیم ہو جائے گا۔ ‘‘
’’یہ ظاہر کے دیوانے کیا سمجھیں گے۔ ‘‘ مشہدی لنگی والے نے قہقہہ لگایا۔ ’’کہ دور ایک گھومتا ہوا چکر ہے جو آج اوپر ہے، کل نیچے چلا جائے گا۔ جو آج نیچے ہے، کل اوپر آ جائے گا۔ ‘‘
جین والے نے اپنی پتلون جھاڑی۔ ’’ان کباڑ خانوں والوں کی باتیں نہ سنو۔ یہ بے چارے کیا جانیں جدیدیت کو۔ ‘‘
’’جدیدیت کے دیوانے۔ آج تیری پتلون کے پائنچے کھلے ہیں ۔ کل تنگ ہو جائیں گے۔ پرسوں پھر کھل جائیں گے۔ یہی ہے نا تیری جدیدیت۔ ‘‘ رومی ٹوپی والے نے قہقہہ لگایا۔
’’ذرا اس کی جین کی طرف دیکھو۔ ‘‘ لنگی والا بولا۔ نیلی پتلون پر سرخ ٹلی لگی ہوئی ہے…. ہاہا۔ ہاہا۔ ‘‘ وہ قہقہہ مار کر ہنسنے لگا۔
’’احمق! یہ ٹلی نہیں ۔ پچ ہے پچ۔ پچ فیشن ہے۔ پچھ لگی جین کی قیمت عام پتلون سے دگنی ہوتی ہے۔ تجھے کچھ پتا بھی ہو۔ ‘‘
’’پیوند کبھی غربت کا نشان تھا۔ پیوند لگے کپڑوں والے سے لوگ یوں گھن کھاتے تھے جیسے کوڑی ہو۔ آج تم اس پیوند کی نمائش پر فخر محسوس کر رہے ہو۔ ‘‘ مشہدی لنگی والا ہنسنے لگا۔ ’’تم عجیب تماشا ہو۔ ‘‘
رومی ٹوپی والے نے قہقہہ لگایا۔ ’’دور جدید کے تخیل کا فقدان ملاحظہ ہو۔ پیوند کو فیشن بنا بیٹھے ہیں ۔ ہی ہی ہی ہی….‘‘
’’سارا کریڈٹ ہمیں جاتا ہے۔ ‘‘ ہپن نے سر اٹھا کر کہا۔
’’ہائیں …. یہ کیا کہہ رہی ہے؟‘‘ پتلون والی نے پوچھا۔
’’لوسی تھرو زیر لب گنگنائی۔ ‘‘ چھلنی بی بولی۔
’’ہاں !‘‘ ہپی نے سینے پر ہاتھ مارا۔ ’’سارا کریڈٹ ہمیں جاتا ہے۔ ‘‘
’’تعفن کا کریڈٹ غلاظت کا کریڈٹ اور کون سا۔ ‘‘ بیدنگ کاسٹیوم والی بولی۔ ساڑھی والی نے ناک چڑھائی۔
ہپی نے قہقہہ لگایا۔ ’’جدیدیت کے ذہنی تعفن کو دور کرنے کا کریڈٹ۔ جدیدیت کے بت توڑنے کا کریڈٹ۔ جھوٹی قدروں کو پاؤں تلے روندنے کے لئے ہمیں غلاظت کو اپنانا پڑا۔ ‘‘
سپورٹس گرل نے بیڈ منٹن ریکٹ کو گھما کر دانت نکالے۔
’’ڈینٹل کریم کا اشتہار کسے دکھا رہی ہو؟‘‘ ہپی ہنسا۔ ’’ہم نے دور حاضرہ کے سب سے بڑے بت دولت کو پاش پاش کر دیا۔ ہم نے جھوٹے رکھ رکھاؤ کا بت ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیا۔ ہم نے ماڈرن ایج کے واحد دل بہلاوے سمال کمفرٹس کی نفی کر دی۔ ہم نے مغربی تہذیب کا جنازہ نکال دیا۔ ‘‘
’’یہ بے چارے کیا جانیں ۔ ‘‘ ہپن بولی۔ ’’ظاہریت کے متوالے…. جب کوئی تہذیب متعفن ہو جاتی ہے تو اسے مسمار کرنے کے لئے مجاہد بھیج دیئے جاتے ہیں ۔ ہم وہ مجاہد ہیں ۔ ‘‘
’’تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی۔ ‘‘ رومی ٹوپی والے نے قہقہہ لگایا۔
’’بالکل درست۔ ‘‘ لنگی والا چلایا۔ ’’یہ ٹرانزیشنل دور ہے۔ جب ایک شو ختم ہو جاتا ہے تو دوسرے شو کے واسطے ہال صاف کرنے کے لئے جمعدار آ جاتے ہیں ۔ یہ جمعداروں کا دور ہے۔ ‘‘
’’سلی فول۔ ‘‘ سی تھرو ہنسی۔ ’’یہ تو رومانس کا دور ہے۔ ‘‘
’’رومانس!‘‘ گیلری کے کاٹھ کباڑ سے ایک مجنوں صفت دیوانہ لپک کر ریلنگ پر آ کھڑا ہوا۔ ’’تم کیا جانو، رومان کیا ہوتا ہے…. تمہارے دور نے تو عشق کا گلا گھونٹ دیا۔ عاشق کو ٹھنڈا کر کے رکھ دیا۔ محبوب سے محبوبیت چھین کر اسے رنڈی بنا دیا۔ عریانی کو رومان نہیں کہتے بی بی۔ ‘‘
’’ہالڈر ڈیش۔ ‘‘
’’نان سینس۔ ‘‘
رومی ٹوپی والے نے ایک لمبی آہ بھری۔ ’’دوستو ہمارے زمانے میں عورت کا نقاب سرک جاتا تھا تو گال دیکھ کر مرد میں تحریک پیدا ہوتی تھی لیکن اب ننگے پنڈوں کی یلغار نے مردانہ حس کو کند کر دیا ہے۔ تمہارے دور نے مرد کو نامرد اور عورت کو بانجھ کر کے رکھ دیا ہے۔ ‘‘
جیکٹ والا آگے بڑھا۔ اس نے قلم جیب میں ڈالا۔ عینک اتاری۔ ’’ہم جنس کے متوالے نہیں ۔ ہم جنس کی دلیل میں ڈوبے ہوئے نہیں ہیں ۔ دور حاضر میں سب سے اہم ترین مسئلہ اقتصادیات کا ہے۔ تم حالات حاضرہ سے چشم پوشی کرتے ہو۔ ہم تمہاری طرح حالات حاضرہ سے آنکھیں نہیں چراتے۔ ہم ترقی پسند لوگ ہیں ۔ ‘‘
’’حالات حاضرہ۔ ‘‘ رومی ٹوپی والے نے قہقہہ لگایا۔ ’’تمہارے نزدیک حالات حاضرہ روٹی، کپڑا اور مکان ہیں ۔ ہمارے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ انا کا ہے۔ سلف کا…. ’’میں ‘‘ کا۔ ‘‘
’’روٹی کپڑے والو ہماری طرف دیکھو۔ ‘‘ ہپن چلائی۔ ’’جو ملتا ہے، کھا لیتے ہیں ۔ جہاں بیٹھ جاتے ہیں ، وہی ٹھکانہ بن جاتا ہے۔ جو میسر آتا ہے، پہن لیتے ہیں ۔ کہاں ہیں وہ مسئلے جنہیں تم اہرام مصر بنائے بیٹھے ہو۔ ‘‘
’’اونہوں انہیں کچھ نہ کہو۔ یہ تو فارن خیالات کی ایڈ کے بل بوتے پر کھڑے ہیں ۔ انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکا۔ ‘‘ رومی ٹوپی والا بولا۔
’’کل جب روٹی،کپڑا اور مکان کا مسئلہ حل ہو جائے گا،پھر تمہارے پلے کیا رہ جائے گا۔ بتاؤ۔ ‘‘ ہپن بولی۔
’’یہ تو حرکت کے متوالے ہیں ، منزل کے نہیں ، انہیں صرف چلنے کا شوق ہے، پہنچنے کا نہیں ۔ ‘‘ مشہدی لنگی والے نے منہ بنایا۔
’’بکو نہیں ، ہمارے راستے میں جو شخص روڑے اٹکائے گا، اس پر رجعت پسندی کا لیبل لگا دیا جائے گا۔ ‘‘
ہپی قہقہہ مار کر ہنسا۔ ’’سو واٹ…. ہم ہیپوں پر رجعت پسندی کا لیبل لگاؤ۔ بے شک لگاؤ، ہم نے کیپٹل ازم کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں ۔ ہم نے اقتدار پسندی کا تمسخر اڑایا ہے۔ ہم میں اور ان گوریلوں میں ک یا فرق ہے جو سرمایہ داری کے خلاف جان کی بازی لگائے بیٹھے ہیں ۔ ‘‘
’’صرف یہی کہ طریق کار مختلف ہے۔ ‘‘ ہپن نے لقمہ دیا۔
ہال پر سناٹا چھا گیا۔
سی تھرو اپنے جسم کے پیچ و خم کا جائزہ لے رہی تھی۔ ساڑھی والی اپنا پلو سنبھال رہی تھی۔ لٹکے بالوں والی منہ میں انگلی ڈالے کھڑی تھی۔ پتلون والی کا چہرہ حقارت سے چقندر بنا ہوا تھا۔ ’’کتابوں میں تو یہ بات کہیں نظر سے نہیں گزری۔ ‘‘
مجنوں نما نے قہقہہ لگایا۔ ’’خود کو زندگی کے متوالے گرداننے والے کتابوں کی بیساکھیوں کے سہارے کے بغیر چل نہیں سکتے۔ زندگی کتابوں سے اخذ نہیں کی جاتی مسٹر۔ زندگی حال ہے….کسی صاحب حال سے پوچھو۔ ‘‘
’’جو قیل و قال کے دیوانے ہیں ، انہیں حال کا کیا پتہ؟‘‘ لنگی والا بولا۔
’’انہیں اتنا نہیں پتا کہ حال پر قیل و قال نہیں ہو سکتا۔ حال کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ حال سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ‘‘
ہال پر خاموشی چھا گئی۔
پھر دور سے ایک سرگوشی ابھری…. ’’میں کہاں آ پھنسی ہوں ۔ ‘‘ بچے کو انگلی لگائے کھڑی ماں گنگنا رہی تھی۔ ’’یہ دور ماں کا دور نہیں ۔ یہ تو عورت کا دور ہے۔ میں کہاں آ پھنسی ہوں ۔ ‘‘
’’عورت کا نہیں بی بی۔ ‘‘ پہلوان کرتے والے نے سر ہلا کر کہا۔ ’’یہ تو لڑکی کا دور ہے۔ انہیں کیا پتہ کہ عورت کسے کہتے ہیں ۔ بال سفید ہو جاتے ہیں ، پھر بھی یہ لڑکیاں ہی بنی رہتی ہیں ۔ ‘‘
’’خاموش۔ ‘‘ آرکیڈ کی فرنٹ رو میں کھڑی ٹوکرا بالوں والی بولی۔ ’’سنو سنو! یہ کیسی آواز ہے؟‘‘
’’کون سی آواز؟‘‘
’’کدھر ہے آواز؟‘‘
’’چپ!‘‘ موٹر سائیکل والا چلایا۔ ’’یہ تو ٹیلی فون کی گھنٹی بج رہی ہے۔ ‘‘
’’یہ آواز تو باہر سے آ رہی ہے۔ ‘‘ منی سکرٹ والی نے کہا۔
جیکٹ والے نے عینک صاف کی اور باہر دیکھنے لگا۔
’’ہئے اللہ۔ ‘‘ سی تھرو بولی۔ ’’یہ آواز تو ایمرجنسی فون بوتھ سے آ رہی ہے۔ وہ جو باہر پور ٹیکو میں ہے۔ ‘‘
’’خاموش۔ ‘‘ شکاری ڈانٹ کر بولا۔ ’’سب اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو جاؤ…. وہ آ رہا ہے۔ ‘‘
’’کون آ رہا ہے؟‘‘ سی تھرو نے زیر لب پوچھا۔
’’چوکیدار۔ ‘‘
’’چوکیدار۔ ‘‘ پتلیاں سہم کر پیچھے ہٹ گئیں ۔ پتلے باہر جھانکنے لگے۔
سامنے ایک اونچا لمبا، جہلمی جوان خاکی وردی پہنے سر پر پگڑی لپیٹے ہاتھ میں سونٹا اٹھائے بوتھ کی طرف بھاگا آ رہا تھا۔
’’بالکل اجڈ نظر آتا ہے۔ ‘‘ پتلون والی نے حقارت سے ہونٹ نکالے۔
’’گاکی، کروڈ، ان کوتھ۔ ‘‘ ٹوکرا بالوں والی دانت بھینچ کر بولی۔
’’میرے بدن پر تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اسے دیکھ کر۔ ‘‘ سی تھرو نے کہا۔
چوکیدار نے سونٹا باہر کھڑا کیا اور خود جلدی سے بوتھ میں داخل ہو گیا۔ اس نے ٹیلی فون کا چونگا اٹھایا اور فون پر باتیں کرنے لگا۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے لیکن بات سنائی نہیں دے رہی تھی۔ چند ایک منٹ کے بعد وہ بوتھ سے باہر نکلا اور حسب معمول ہال کا چکر لگانے کی بجائے ہال کی طرف پیٹھ کر کے کھڑا ہو کر سڑک کی طرف دیکھنے لگا۔
’’ضرور کوئی ایمرجنسی ہے۔ ’’شکاری نے چھائے ہوئے سکوت کو توڑا۔
گیلری میں رومی ٹوپی والا ہنسا۔ ’’ایمرجنسی…. یہ دور تو بذات خود ایک سٹیٹ آف ایمرجنسی ہے۔ ‘‘
’’ایک ابال ہے۔ بے مقصد ابال۔ ‘‘ لنگی والے نے قہقہہ لگایا۔
منی سکرٹ والی نے لمبی لمبی پلکیں جھپکا کر اوپر دیکھا۔
’’اگنور ہم مائی ڈیئر موٹر سائیکل والے نے سائیلنسر فٹ کر کے کہا۔
’’میں کہتا ہوں ، ضرور یہ کسی کے انتظار میں کھڑا ہے۔ ضرور کوئی آنے والا ہے۔ ‘‘
سٹوڈنٹ زیر لب بولا۔
’’چوکیدار کو دیکھ کر میری روح خشک ہو جاتی ہے۔ ‘‘ سی تھرو نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔
لنگی والے نے مسکرا کر پوچھا۔ ’’بی بی کیا تیرے اندر روح بھی ہے۔ ہوتی تو سی تھرو نہ ہوتی۔ ‘‘
’’کتنی ڈراؤنی شکل ہے چوکیدار کی۔ ‘‘ پتلون والی، لنگی والے کے سوال کو دبانے کے لئے بولی۔
رومی ٹوپی والا ہنسنے لگا۔ ’’کتنی عجیب بات ہے اپنوں کو دیکھ کر ڈر کر سہم جاتی ہیں ۔ بیگانوں کو دیکھ کر ایٹ ہوم محسوس کرتی ہیں ۔ ‘‘
’’شٹ اپ۔ ‘‘ پتلون والی ڈانٹ کر بولی…. ’’یو….ان کلچرڈ…. ان کوتھ…. سیوج۔ ‘‘
’’ول سیڈ۔ ‘‘ بلیک سوٹ نے کہا۔ ’’ہیئر ہیئر…. جنٹلمین چیئرز۔ ‘‘
سارا ہال تالیوں کی آواز سے گونجنے لگا۔ ’’ہمارے دور میں ان سویلائیزڈ۔ ان ایجوکیٹڈ لوگوں کو لب ہلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ‘‘ جیکٹ والا منہ سے جھاگ نکالتے ہوئے بولا۔
’’تمہارا دور۔ ‘‘ مجنوں نما ہنسا۔ ’’نقالوں کا دور، چربہ دور، یہ دور مغربی تہذیب کی کاپی ہے کاپی۔ بیگانوں کی طرز زندگی کی نقل کرو۔ ان کے خیال کو اپناؤ۔ اپنوں سے لگتوں سے نفرت کرو۔ یہی نا۔ ‘‘
’’مغربی تہذیب مغرب میں خودکشی کر چکی ہے۔ چاند غروب ہو چکا ہے۔ اس کی آخری شعاعیں یہاں سرابی رنگ کھا رہی ہیں ۔ ‘‘ ہپی مسکرایا۔ ’’اور….‘‘
’’میں کہتی ہوں ۔ ‘‘ ہپن نے اس کی بات کاٹی۔ ’’اگر نقل ہی کرنی ہے تو کسی ایسی قوم کی کرو جس میں جان ہے۔ زندگی ہے۔ چربہ بننا ہے تو کسی ایسی تہذیب کا بنو جو ابھر رہی ہے۔ کیوں ڈوبتے سورج کو پوج رہے ہو۔ ‘‘
جیکٹ والے نے اپنا قلم جیب میں اٹکایا۔ عینک کو سنبھالا۔ لمبے لمبے ڈگ بھرے اور ہال کے درمیان آ کر بولا۔ ’’کون نہیں جانتا کہ کون سی قومیں ابھر رہی ہیں ۔ ‘‘
مشہدی لنگی قہقہہ مار کر ہنسا۔ ’’ذرا اس فیشن آرکیڈ پر نظر دوڑاؤ۔ رنگ ان قوموں کا ہے جن کا تم حوالہ دے رہے ہو؟‘‘
’’کیا یہ منی سکرٹ، یہ سی تھرو بی بی اس آئیڈیل کے مظہر ہیں جس کے تم دعوے دار ہو؟ کیا تمہارے دور جس پر تم اتنے نازاں ہو، تمہارے مقاصد کی نشاندہی کرتا ہے؟‘‘ رومی ٹوپی والا جوش میں بولا۔
’’ابھی ہم جدوجہد کے عالم میں ہیں ۔ ’’سٹوڈنٹ نے اپنے ٹوکرا بالوں کو جھٹک کر سنوارتے ہوئے کہا۔
مجنوں نما ہنسا۔ ’’ذرا آئینہ دیکھو میاں ۔ کیا جدوجہد کرنے والوں کی شکلیں ایسی ہوتی ہیں جیسی تمہاری ہیں ؟ کیا ان کی قلمیں سارنگی ہوتی ہیں ؟ کیا ان کے سروں پر بالوں کے ٹوکرے دھرے ہوتے ہیں ؟ کیا ان کی آنکھوں میں سرمے کی دھار ہوتی ہے؟ کیا وہ ایسے بنے ٹھنے ہوتے ہیں جیسے تم ہو؟ تم نے تو لڑکیوں کو بھی مات کر دیا۔ ایمان سے….‘‘
ہال پر خاموشی طاری ہو گئی۔
سب چپ ہو گئے۔ رومی ٹوپی والا ہنسنے لگا۔
کسی نے رومی ٹوپی والے کو جواب نہ دیا۔
’’وہ دن کب آئے گا؟‘‘ دور سے یوں آواز سنائی دی جیسے کوئی آہیں بھر رہا ہو۔ ’’کون سا دن بی بی؟‘‘ کرتے پاجامے والے نے پوچھا۔
’’جب مجھے مامتا کے جذبے پر شرمندگی نہ ہو گی۔ ‘‘ بچے کی انگلی لگائے کھڑی ماں بولی۔ ’’جب اس آرکیڈ میں اٹھ کر کھڑی ہو سکوں گی۔ ‘‘
’’سچ کہتی ہو بی بی۔ آج کے دور میں مائیں اپنے بچوں کو اپناتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہیں ۔ ‘‘ رومی ٹوپی والے نے کہا۔
’’وہ ماں کہلوانا نہیں چاہتیں ۔ ‘‘ کرتے پاجامے والا بولا۔ ’’بچوں سے کہتی ہیں ، مجھے باجی بلاؤ۔ ‘‘
’’آج کی عورت، عورت بن کر جینا چاہتی ہے، ماں بن کر نہیں ۔ ‘‘لنگی والا بولا۔
’’میں پوچھتا ہوں کیا عورت کو عورت بن کر جینے کا حق نہیں ۔ تم نے اسے ماں بنا کر قربانی کا بکرا بنا دیا تھا۔ ہم نے اسے عورت کی حیثیت سے جینے کا حق دیا ہے۔ ‘‘ بلیک سوٹ والے نے کہا۔
’’تمہیں کچھ پتا بھی ہو۔ ‘‘ رومی ٹوپی والا ہنس کر بولا۔ ’’وہ سب تہذیبیں تباہ کر دی گئیں جنہوں نے مامتا کو رد کر دیا تھا اور عورت کو عورت بن کر جینے کا حق دیا تھا۔ اس دنیا میں صرف وہی تہذیب پنپ سکتی ہے جو بچے کو زندگی کا مقصد مانے۔ ‘‘
’’پاگل ہیں یہ ماضی کے دیوانے۔ ‘‘ جیکٹ والے نے عینک اتار کر صاف کی۔ ’’اتنا نہیں جانتے کہ آج سب سے بڑا معاشی مطالبہ یہ ہے کہ بچوں کی پیدائش کو روکا جائے۔ ‘‘
’’بالکل بالکل۔ ‘‘ بلیک سوٹ والے نے ہاں میں ہاں ملائی۔
’’بچے کم خوش حال گھرانا۔ ‘‘ موٹر سائیکل والا گنگنانے لگا۔
’’سبحان اللہ‘‘ مشہدی لنگی والا بولا۔ ’’سوشل ازم کے نام لیوا سرمایہ داروں کے حربے کا پرچار کر رہے ہیں ۔ ‘‘
’’بھائی صاحب بچے تو غربت کی پیداوار ہیں ۔ قدرت کا اصول جس گھر میں پیسے کی ریل پیل ہو گی، بچے پیدا کرنے کی قوت کم ہو جائے گی۔ اگر غریبوں کی یہ صلاحیت ختم کر دی گئی تو تخلیق کا عمل مدھم پڑ جائے۔ شاید ختم ہو جائے۔ ‘‘ رومی ٹوپی والے نے کہا۔
’’مین پاور کی عظمت کو ماننے والے بچوں کی پیدائش کو معاشی رکاوٹ سمجھ رہے ہیں ۔ ‘‘ مجنوں نما قہقہہ مار کر ہنسنے لگا۔
’’پتلیاں ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگیں ۔ ‘‘
’’کیا کہہ رہا ہے یہ؟‘‘
’’گاڈ نوز….!‘‘
’’ہئے۔ چلڈرن آر اے نوے سنس۔ ‘‘
’’سیانوں نے کہا تھا۔ ‘‘ کرتا پاجامہ والا کہنے لگا۔ ’’کہ….‘‘
’’کون سیانے؟‘‘ جیکٹ والے نے پوچھا۔
’’ہمارے لگتے لوگ۔ ‘‘ کرتا پاجامے والے نے وضاحت کی کوشش کی۔
’’تم اپنے لگتوں کی بات کر رہے ہو۔ ‘‘ لنگی والے نے اسے ٹوکا۔ ’’انہیں سمجھ میں نہیں آئے گی۔ ان کے لگتے تو مغرب میں رہتے ہیں ۔ یہ تو مغربی تہذیب کے دیوانے ہیں ۔ ‘‘
’’وہ دن دور نہیں ۔ ‘‘ اچکن والے نے کہا۔ ’’جب انہیں اپنے لگتوں کو اپنانا پڑے گا۔ ‘‘
’’بھول جاؤ وہ دن۔ ‘‘ جیکٹ والا جلال میں بولا۔ ’’وہ دن کبھی نہیں آئے گا۔ ‘‘
’’ہم ترقی کی جانب قدم اٹھا رہے ہیں ۔ ہم آگے بڑھنے کے قائل ہیں ۔ ہم کبھی واپس ماضی کی طرف نہیں جائیں گے۔ ‘‘
’’موٹر سائیکل والے نے لٹکے بالوں والی کی طرف دیکھا۔ ’’کیوں ڈارلنگ۔ ‘‘
’’فارگٹ دیٹ ڈے۔ اٹ ول نیور کم۔ ‘‘ لٹکے بالوں والی نے بال جھٹک کر کہا۔
گیلری کے کاٹھ کباڑ سے ایک پتلا اٹھ بیٹھا۔ اس نے ایک لمبا چغہ پہن رکھا تھا۔ سر پر کلاہ تھا۔ ’’کون نہیں مانتا اس دن کو۔ کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ ‘‘
’’اچھا بدل رہا ہے کیا۔ ‘‘ شکاری نے طنزاً کہا۔
سب پتلے ہنسنے لگے۔
’’دنیا کے سارے مذہب، سارے نجومی، سارے سیرز آنے والے گولڈن ایج کو مانتے ہیں ۔ ‘‘ چغے والا چلایا۔
’’عیسائی، مسلمان، یہودی، ہندو سبھی مانتے ہیں ۔ اسٹرالوجرز اس کی شہادت دیتے ہیں ۔ رومی ٹوپی والے نے کہا۔
’’وہ گولڈن ایج۔ ‘‘ چغے والے نے انگلی اٹھا کر کہا۔ ’’جب ترقی کا رخ مادی سہولتوں سے ہٹ کر روحانی مقاصد کی طرف مڑ جائے گا۔ جب ہماری توجہ باہر کے آدمی کی جگہ اندر کے آدمی پر مرکوز ہو جائے گی۔ جب امن ہو گا۔ اطمینان کا دور دورہ ہو گا۔ ‘‘
موٹر سائیکل والے نے طنز بھرا قہقہہ مارا۔
جیکٹ والے نے چلا کر کہا۔ ’’ضعیف الاعتقادی نہیں ، خوش فہمی ہے یہ۔ ‘‘
’’اچھا۔ ‘‘ ماں بولی۔ ’’کیسا گولڈن ایج ہو گا وہ؟‘‘
’’نشاة ثانیہ۔ ‘‘ چغے والا چلا کر بولا۔
’’نشاة ثانیہ۔ ‘‘ ہال کی دیواریں گونجنے لگیں ۔
’’دنیا پر مبارک ترین ستاروں کا اکٹھ ہو رہا ہے۔ ایسا اکٹھ جو کبھی آج تک نہیں ہوا تھا۔ ‘‘
چغے والا بولا۔
’’اس کے اثرات 1980ء کے لگ بھگ ظہور میں آئیں گے۔ ‘‘
ٹوکرا بالوں والی نے منہ میں انگلی ڈال لی۔ ’’سچ؟‘‘
ساڑھی والی نے سینہ سنبھالا۔
خاموش لٹکے بالوں والی چلائی۔ ’’وہ دیکھو…. وہ۔ ‘‘ اس نے انگلی سے باہر کی طرف اشارہ کیا۔ سب انگلی کی سیدھ میں پورٹیکو کی طرف دیکھنے لگے۔
’’کیا ہوا؟‘‘ دور سے پولکا بکس کے قریب کھڑی پتلون والی نے پوچھا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘
’’پتہ نہیں ۔ ‘‘
’’کون ہے؟‘‘دور کھڑی پتلیاں سرگوشیاں کرنے لگیں ۔موٹرسائیکل والے نے اپنا سائیلنسر فٹ کر کے کہا۔ ’’وہ آ رہے ہیں ۔ خاموش۔ ‘‘ اس نے دور کھڑے پتلون والے کو خبردار کیا۔ ’’وہ آ رہے ہیں ، ادھر آ رہے ہیں ۔ ‘‘’’ہاں ہاں ۔ ‘‘ لٹکے بالوں والی بولا۔ ’’انتظامیہ کے لوگ آ رہے ہیں ۔ ‘‘’’بالکل۔ ‘‘ ساڑھی والی نے کہا۔ ’’وہ ضرور اندر آئیں گے۔ ‘‘جیکٹ والے نے اپنی عینک صاف کی۔ اسے پھر سے لگایا اور پھر تحکمانہ لہجے میں بولا۔ ’’سب اپنے اپنے مقام پر اپنا مخصوص پوز بناکر کھڑے ہو جاؤ۔ یقیناً کوئی ایمرجنسی ہے۔ ‘‘ موٹر سائیکل والا بولا۔ ’’ورنہ اس وقت ناظم کا یہاں آنا….‘‘سارے پتلے اپنی اپنی جگہ کھڑے ہونے کے لئے دوڑے۔گیلری میں کھڑے پتلے کونوں میں جا کر ڈھیر ہو گئے۔ہال پر سناٹا طاری ہو گیا۔آرکیڈ کا صدر دروازہ کھلا۔ ناظم اندر داخل ہوا۔ اس کے پیچھے نائب تھا۔ نائب کے پیچھے دس بارہ کاریگر تھے۔ انہوں نے پینٹ کے بڑے بڑے ڈبے اور برش اٹھائے ہوئے تھے۔ناظم کرسی پر بیٹھ گیا۔ نائب اور کاریگر اس کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ’’دیکھو اس وقت تین بجے ہیں ۔ ‘‘ ناظم نے گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’ہمارے پاس صرف چھ گھنٹے ہیں ۔ حکومت کے معزز مہمان جو دنیائے اسلام کے بہت بڑے سربراہ ہیں ، ٹھیک ساڑھے نو بجے آرکیڈ دیکھنے کے لئے آ رہے ہیں ۔ ان کے آنے سے آدھ گھنٹہ پہلے سارا کام مکمل ہو جانا چاہئے۔ سمجھے۔ ‘‘ ناظم نے نائب سے مخاطب ہو کر کہا۔’’یس سر۔ ‘‘ نائب نے جواب دیا۔ ’’اٹ شیل بی ڈن۔ ‘‘’’ہوں !‘‘ناظم نے کہا۔ ’’ہمارے پرائم منسٹر کا کہنا ہے کہ معزز مہمان توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا شاپنگ سنٹر پاکستانی رنگ میں رنگا ہو گا اور پاکستانی زندگی، دستکاری اور فن کا مظہر ہو گا۔ میں چاہتا ہوں کہ آرکیڈ کی ہر تفصیل پاکستانی ہو۔ سمجھے۔ ‘‘’’آپ فکر نہ کریں سر۔ ‘‘ نائب نے کہا۔پھر وہ کاریگروں سے مخاطب ہوا۔ ’’دیکھو بھئی اتنے تھوڑے وقت میں ، اتنے شارٹ نوٹس پر ہم نیا سامان مہیا نہیں کر سکتے۔ اس لئے اسی سامان کو رنگ و روغن کر کے گزارہ کرنا ہو گا۔ ‘‘’’جی صاحب۔ ‘‘ کاریگروں نے جواب دیا۔اگلے روز ساڑھے نو بجے جب معزز مہمان آرکیڈ میں داخل ہوئے تو صدر دروازے کے اوپر فیشن آرکیڈ کی جگہ پاکستان آرکیڈ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اندر دروازے کے عین سامنے اچکن والا بڑے طمطراق سے کھڑا تھا۔ اس کے پاس ہی دائیں طرف رومی ٹوپی والا اپنا پھندنا جھلا رہا تھا۔ بائیں ہاتھ طرہ باز مونچھ کو تاؤ دے رہا تھا۔ قریب ہی بچے کو انگلی لگائے چادر میں لپٹی ہوئی خاتون بچے کی طرف دیکھ دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اس کے پرے کرتے پاجامے والا چھاتی پھلائی ایستادہ تھا۔ساڑھی والی لمبا چغہ لٹکائے نگاہیں جھکائے لجا رہی تھی۔سی تھرو چھینٹ کا گھگھرا پہنے سر پر پانی کی گاگر رکھے قدم اٹھائے کھڑی تھی۔سکرٹ والی چست پاجامہ پہنے بازو پر جدید لمبا کوٹ اٹھائے مسکرا رہی تھی

مزید پڑھیں  بھیگے کاغذ میں لپٹے ہوئے لمحات—-سلمیٰ صنم (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں