پاراچنارمیں شہریوں پرفائرنگ:’ایف سی‘اہلکاروں کےخلاف تحقیقات کاحکم

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاراچنار دھماکوں کے بعد فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے دستوں کی جانب سے مشتعل ہجوم پر فائرنگ کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاراچنار کا دورہ کیا، جہاں انہیں سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
آرمی چیف نے مقامی قبائلی عمائدین اور دھرنے کے نمائندوں سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے حالیہ واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔
قبائلی عمائدین کے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ وہ واقعے کے وقت ملک سے باہر تھے اور واپس وطن لوٹنے کے بعد خراب موسم کے باعث ان کے دورہ پاراچنار میں تاخیر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ’بطور قوم ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے، دشمن ہمارا عزم اور حوصلہ پست کرنے اور ہمیں تقسیم کرنے میں ناکام ہوگا۔‘
انہوں نے فرنٹیئر کانسٹیبلری خیبر پختونخوا اور مقامی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کے کردار کا اعتراف کیا۔
صرف کرم ایجنسی میں دہشت گردی میں اب تک 126 ایف سی اہلکار شہید اور 378 زخمی ہوئے۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ قبائلیوں اور تمام مسالک پر مشتمل ایف سی پیشہ ورانہ فورس ہے جو بے غرض ہوکر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے قبائلی عمائدین نے پاک آرمی اور اس کی قیات پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہمارے خون کا ایک، ایک قطرہ مارد وطن کے لیے حاضر ہے۔‘
قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ ’ہم سب پاکستانی اور مسلمان ہیں۔‘
بعد ازاں آرمی چیف نے دھرنے کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور ان کے تحفظات سنے۔
آرمی چیف نے کہا کہ ’دھرنے کے شرکا کے سلامتی سے متعلق مطالبات حل کیے جائیں گے، عوام کے تعاون کے بغیر فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتی۔‘
آرمی چیف نے اعلان کیا کہ:
اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں، جن کے مقامی سہولت کاروں اور اعانت کرنے والوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
پاراچنار میں سیکیورٹی بڑھانے کے لیے فوج کے اضافی دستے تعینات کردیئے گئے ہیں، جبکہ پاک ۔ افغان بارڈر کو موثر انداز میں سیل کرنے کے لیے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے اضافے دستے بھی تعینات کیے جارہے ہیں، طوری رضاکاروں کو بھی چیک پوسٹوں پر سیکیورٹی کے لیے ساتھ ملایا جارہا ہے۔
لاہور اور اسلام آباد کی طرح پاراچنار میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے ’سیف سٹی‘ منصوبے کا آغاز کیا جائے گا۔
سرحد پر باڑ لگانے کا کام پہلے سے جاری ہے، فاٹا کے زیادہ حساس علاقوں میں پہلے مرحلے میں باڑ لگائی جائیں گے، جبکہ بلوچستان سمیت پاک ۔ افغان سرحد پر مکمل طور پر دوسرے مرحلے میں باڑ لگائی جائے گی۔
ایف سی کے دستوں کی جانب سے دھماکے کے بعد مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور جو اس میں ملوث پایا گیا اسے نہیں بخشا جائے گا، ایف سی کمانڈنٹ کو پہلے ہی تبدیل کیا جاچکا ہے، جبکہ ناقابل تلافی نقصان کے باوجود فائرنگ سے شہید و زخمی ہونے والے 4 اہلکاروں کو ایف سی کی جانب سے علیحدہ زرتلافی ادا کیا جائے گا۔
آرمی پبلک اسکول پاراچنار کا نام میجر غلفام شہید کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے جسے کیڈٹ کالج تک اپ گریڈ کیا جائے گا۔
پاراچنار میں آرمی کی جانب سے ٹراما سینٹر قائم کیا جائے گا جبکہ سول انتظامیہ کی جانب سے بہتر طبی سہولیات کے لیے مقامی سول ہسپتال کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔
حکومت نے متاثرین پاراچنار کے لیے ملک کے دیگر حصوں کے متاثرین کی طرح معاوضے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ تمام پاکستانی برابر ہیں۔ آرمی، فاٹا کو مرکزے دھارے میں لائے جانے کی پوری حمایت کرتی ہے، جس کا آغاز ہوچکا ہے اور امن و استحکام کے لیے اس پر جلد عمل درآمد ضروری ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ملک میں حالات معمول پر لانے کے لیے پاک آرمی اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ سرحد کی دوسری طرف افغانستان میں خطرہ اب بھی موجود ہے کیونکہ داعش وہاں اپنے قدم جما رہی ہے، ہمیں فرقہ ورانہ کشیدگی کے ایجنڈے کے خلاف متحد، ثابت قدم، تیار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے، ہماری سیکیورٹی فورسز قومی اتفاق کی عکاس ہیں اور ہم ایک قوم ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے پاک ۔ افغان بارڈر حکام کے درمیان روابط اور اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ اور آئی جی ایف سی خیبر پختونخوا بھی موجود تھے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے سانحہ پارا چنار میں جاں بحق ہونے والے ہر شخص کے ورثاء کو 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 5 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا تھا جسے پارا چنار کے عمائدین نے مسترد کردیا تھا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ پاراچنار کی سیکیورٹی فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی بجائے کرم طوری ملیشا کے حوالے کی جائے اور ایف سی کمانڈنٹ ملک عمر کو ان کے عہدے سے برطرف کیا جائے۔
احتجاجی دھرنے کے شرکاء کے مطالبات میں پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے اور پاراچنار میں اس سے قبل ہونے والے دھماکوں کی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
خیال رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ عید الفطر کے دوسرے روز پارا چنار کے دورے پر روانہ ہوئے تھے لیکن خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر زمین پر نہیں اتر سکا تھا جس کی وجہ سے ان کا دورہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔
گذشتہ ہفتے جمعہ الوداع کے موقع پر وفاق کے زیر انتظام فاٹا کی کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار میں یکے بعد دیگرے 2 دھماکوں کے نتیجے میں 41 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جبکہ بعد میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 75 تک پہنچ گئی تھی۔
پاراچنار میں یکے بعد دیگرے ان دھماکوں میں ہونے والے جانی نقصان کے بعد پاک فوج کے تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ مطابق فوج سانحہ پارا چنار کے بعد کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے جس کو پاکستان مخالف ایجنسیاں فرقہ ورانہ اورنسلی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے ذریعے ہمیں تقسیم کرنے میں ناکامی کے بعد ہمارا دشمن فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ پاراچنار کے عوام نے دھماکے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے جو تاحال جاری ہے، دھرنے کے شرکاء پارا چنار میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے کی جوڈیشل انکوئری کا مطالبہ کررہے ہیں۔
اس سے قبل دھرنے کے شرکاء نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان کا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ان سے آ کر مذاکرات نہیں کرتے۔
‘پورے پاکستان کی سیکیورٹی اور عوام برابر ہے’
دوسری جانب پاراچنار میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان کی سیکیورٹی اور عوام ہمارے لیے برابر ہے، جبکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مل کر شکست دیں گے۔
پاراچنار کے مظاہرین کے حوالے سے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ‘دھرنا دینے والوں کے سیاسی اور سکیورٹی مطالبات ہیں،اور سکیورٹی سے جڑے مطالبات پر آرمی چیف نے ہدایات جاری کردی ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے اضافی دستوں اور سیف سٹی منصوبے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پوری افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع کردیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ باڑ لگانے کا عمل دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا،پہلے مرحلے میں حساس سرحدی مقامات پر باڑ لگائی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی ماندہ سرحد پر باڑ لگائی جائے گی۔

مزید پڑھیں  میٹھا چھوڑنے سے جسم کو حاصل ہونے والے 8 اہم فوائد

اپنا تبصرہ بھیجیں