وزیرِ اعظم نواز شریف کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں پیٹیشن دائر

پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیرِ اعظم نواز شریف کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں پیٹیشن دائر کی جائے گی۔
پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل کی جانب سے نشر کردہ ایک بیان کے مطابق وزیرِ اعظم کے خلاف نیب میں بھی کیس دائر کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ جمعرات کو اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ اور سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف اعتزاز احسن، یوسف رضا گیلانی اور لطیف کھوسہ سمیت جماعت کے دیگر قائدین نے شرکت کی۔
بی بی سی کی نامہ نگار سارہ حسن کے مطابق اجلاس کے بعد لطیف کھوسہ نے میڈیا ٹاک میں بتایا کہ ’ہم نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور اب ہم نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور کیپٹن صفدر کے خلاف الیکشن کمیشن میں جا رہے ہیں۔
’جتنے اثاثہ جات، گوشوارے اور حلف نامے جمع کرائے گئے ہیں وہ سب غلط ہیں اور تمام چیزوں کو مخفی رکھا گیا ہے۔ آف شور کمپنیوں کی ترسیل کا طریقہ کار، پاک لین فلیٹس سمیت کئی تفصیلات الیکشن کمیشن میں نہیں بتائی گئیں اور وزیراعظم منی لانڈرنگ کر کے فوجداری جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘
٭پاناما پیپرز: ٹی او آر کمیٹی تعطل کا شکار
فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ اجلاس میں یہ بات بھی طے کی گئی ہے کہ سردار لطیف کھوسہ الیکشن کمیشن اور نیب میں وزیرِاعظم کے خلاف ریفرنس دائر کریں گے۔
اعتزاز احسن نے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی میں ڈیڈ لاک کے بعد اُن کی جماعت نے کمیٹی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس معاملے پر حتمی فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے معاملے پر اپوزیشن نے بہت لچک دکھائی ہے لیکن حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اس معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتیں متحد رہیں۔ ’میں کوشش کروں گا کہ ساری اپوزیشن ایک کنٹینر پر ہو، اور اگر اتفاق رائے نہ ہوا تو کثرتِ رائے سے فیصلہ کیا جائے گا۔‘
اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے وزیراعظم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا ہے لیکن حکومتی ارکین کا اصرار ہے کہ ضوابطِ کار میں اُن کا نام شامل نہ کیا جائے۔
اجلاس میں اعتزاز احسن نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے معاملے پر ٹی او آر کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔
اعتزاز احسن نے اجلاس کو بتایا کہ اپوزیشن جماعتیں عید کے بعد حکومتی رویے پر احتجاج کرنا چاہتی ہیں اور ہمیں بھی اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔
آف شور کمپنیوں کی ترسیل کا طریقہ کار، پاک لین فلیٹس سمیت کئی تفصیلات الیکشن کمیشن میں نہیں بتائی گئیں اور وزیراعظم منی لانڈرنگ کر کے فوجداری جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
لطیف کھوسہ
اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت اور اُن کے اہل خانہ احتساب کے لیے تیار نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بہت کوشش کی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں عدالتی کمیشن کے ضوابطِ کار کا معاملہ حل ہو جائے لیکن حکومت کی عدم سنجیدگی کی وجہ سے پیش رفت نہیں ہو سکی۔
چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت سے تحقیقات کا معاملہ اصولوں پر مبنی ہے۔
یاد رہے کہ پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ وزیراعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیاں ہیں۔ اس کے وزیراعظم نے عدالتی کمیشن کے ذریعے پاناما لیکس کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا لیکن حکومت اور ایوزیشن جماعتیں عدالتی کمشین کے ضوابط کار پر تاحال متفق نہیں ہو سکی ہیں۔

مزید پڑھیں  غلط کاغذ دینا جرم، دہری شہریت پر بیان غلط نکلا تو کوئی نہیں بچے گا، سپریم کورٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں