سری نگرکی بیٹیاں

گزشتہ ہفتے دفتر میں بیٹھا معمول کی خبریں فائل کر رہا تھا کہ دفعتا فیس بک پر چند تصاویر موصول ہوئیں، تصاویر سری نگر میں موجود میرے کزن کی بیٹی نے بھیجی تھیں، ساتھ ہی پیغام بھیجا کہ انکل آج سری نگر کی بیٹیاں بھی سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ کزن کی سب سے چھوٹی بیٹی سال اول کی طالبہ ہے اور سری نگر ہی میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔

اکثر اوقات کشمیر کی کہانی اس سے سنتا، کبھی کبھی خواتین کی جدوجہد پر گفتگو ہوتی تو میں اسے تنگ کرنے کے لئے کہتا کہ کشمیر کی جنگ تو صرف وہاں کے طلبہ لڑ رہے ہیں طالبات تو بس اپنے کیرئر پر ہی توجہ دیتی ہیں، اس کا ہمیشہ جواب ہوتا انکل جب بھائی اور باپ پیلٹ گنوں اور گولیوں کے چھروں سے چھلنی ہوکر آتے ہیں تو کشمیر کی بیٹیاں ہی ان کے رستے زخموں پرمرہم لگاتی ہیں۔ آپ کو علم نہیں ہے کشمیر کی اصل لڑائی تو ہم ہی لڑ رہی ہیں، وہ بھائی جن کے بالوں میں کنگھی کرتی تھیں ، جن سروں پرسہرے سجانے کا خواب دیکھ رہی ہوتی ہیں ان کے زخموں سے رستا خون اوربھائیوں کی لاشوں کے سرہانے بیٹھنے والی بہنوں سے پوچھیں کہ وہ کیسے آزادی کے لئے اپنے ارمانوں کی قربانیاں دیتے ہیں۔ہماری گفت و شنید عموما اس کی جانب سے جذباتی اور درد بھری کہانیوں پر اختتام پذیر ہوجاتی تھی۔

گذشتہ ہفتے کو ایک کالج میں چھاپے کے خلاف جموں کشمیر طلبہ یونین نے ریاست میں مظاہروں کی کال دی جس کے بعد سری نگر، بڈگام، کولگام اور دیگر علاقوں میں پر تشدد مظاہرے ہوئے ان مظاہروں میں طلبہ کے علاوہ پہلی بار طالبات بھی قابض افواج کے خلاف میدان میں آگئیں، وحشی درندوں نے طالبات کو بھی پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا، آنسو گیس کی شیلنگ کی ، براہ راست گولیاں چلائیں جس کی وجہ سے 17 کے قریب طالبات زخمی ہوئیں جن میں سے اکثریت کو سر میں چوٹیں لگیں اور پیلٹ گنوں سے بینائی متاثر ہوئی۔

ان سارے واقعات کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے لیکن گذشتہ روز جب دوبارہ سے تعلیمی سرگرمیوں کاآغاز ہوا تو مقبوضہ وادی کے تعلیمی اداروں سے طلبہ ایک بار پھر باہر نکل آئے ، سری نگر میں طلبہ اور بھارتی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہونا شروع ہوگئیں۔

طلبہ اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران نزدیک میں واقع وومنز کالج میں زیر تعلیم طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج احاطے کے اندر دھرنا دیا۔کالج انتظامیہ نے طالبات کو کئی گھنٹوں تک کالج سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی، تاہم طلباءنے بعدازاں کالج احاطے سے باہر نکل کر مولانا آزاد روڑ پر اپنا احتجاج درج کیا۔اس کے بعد گرلز ہائر سکینڈری اسکول کوٹھی باغ نے اپنے اسکول سے باہر آکر آزادی حامی نعرے بازی شروع کی۔ جب احتجاجی طالبات کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے پرتاب پارک کی طرف بڑھنے لگیں تو سیکورٹی فورسز نے انہیں بھی منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا جب کہ طالبات پر براہ راست فائرنگ بھی کی گئی، ان واقعات کے دوران چوبیس کے قریب طالبات زخمی ہوئیں۔

مقبوضہ کشمیر کے نوجوان بھارتی تسلط کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے ہیں، ان نوجوانوں میں اکثریت طلبہ کی ہے،اب کشمیری نوجوانوں کی جدوجہد میں طالبات کی شرکت نے انسانی حقوق کے راگ الاپنے والے اداروں کوکشمیر میں بھارتی تسلط کے حوالے سے ایک پیغام دیا ہے کہ عورت جب میدان میں آتی ہے تو اس کے سامنے پہاڑ بھی ریت کا ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے جذبے کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتے، اب کشمیر کی بیٹیاں ہاتھوں میں محض کتاب اور آٹے کے پیڑے نہیں اٹھا رہیں بلکہ انہوں نے قلم کے ساتھ ساتھ بھارتی تسلط سے نبرد آزما ہونے کے لئے پتھر بھی اٹھا لئے ہیں۔

میرا سلام ہے کشمیرکی ان نڈردلیر بچیوں کو جنہوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ سری نگر کی بیٹیاں ہیں، اب وہ بھائیوں کے زخموں پر محض مرہم نہیں لگاتیں بلکہ وہ ان ہاتھوں کو کاٹنے بھی نکل پڑی ہیں کہ جنہوں نے ان کے بھائیوں کے سینے چھلنی کئے ہیں۔

مزید پڑھیں  بیٹے کی ماہرہ خان پر 'سخت پابندیاں'

اپنا تبصرہ بھیجیں