دانیال عزیز کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب غیر تسلی بخش قرار ،13،مارچ کو دانیال عزیز پر فرد جرم عائد کی جائیگی،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے قرار دیاہے کہ ہم جواب سے مطمئن نہیں ہیں، بادی النظر میں ان کیخلاف توہین عدالت کا مقدمہ بنتا ہے،13؍ مارچ کو دانیال عزیز پر فرد جرم عائد کی جائیگی۔ توہین عدالت کیس کے دوسرے مقدمے میں عدالت عظمیٰ نے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کو آئندہ پیشی پر حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے ان کے وکیل کو سی ڈی کی کاپی فراہم کرنیکی ہدایت کی اور کیس کی سماعت 13؍ مارچ تک ملتوی کردی۔جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل خصوصی بنچ نے منگل کے روز کیس کی سماعت کی توجسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ مجھے جج بنے ہوئے 14 سال ہوچکے ہیں اورکبھی کسی کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس نہیں لیا ہے ،میں نے تو عدالتی فیصلوں میں یہاں تک لکھا ہے کہ فیصلوں پر شفاف حتی ٰ کہ غیر شفاف کمنٹس بھی کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب میں اس سے تنگ آچکا ہوں، دانیال عزیز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایک چینل نے ان کے موکل کی ایک نجی محفل کی گفتگو دکھائی ہے جبکہ ایک چینل کے بیان میں عدالت کا کوئی ذکر نہیں ہے ،ایک اخبار کی سرخی کے متن میں بھی ایسا کوئی ذکر نہیں ہے،جس پر جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ دانیال عزیز گزشتہ تین برس سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوںنے مزید کہا کہ پاناما پیپرز لیکس کیس میں عدالت میں دستاویزات کچھ اور دی جاتی تھیں جبکہ عدالت کے باہر میڈیا پر تقریریں کچھ اور کی جاتی تھیں۔ انہوں نے مختصر فیصلہ لکھواتے ہوئے کہا کہ عدالت یہ کارروائی ختم کرنا نہیں چاہتی، اگلا مرحلہ فرد جرم کا ہے اور 13 مارچ کو دانیال عزیز پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔بعد ازاں فاضل عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 مارچ تک ملتوی کردی۔جبکہ عدالت عظمیٰ نے توہین عدالت کیس میں وزیر مملکت داخلہ، طلال چوہدری کو آئندہ پیشی پر حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے کیس کی سماعت 8؍ مارچ تک ملتوی کردی۔ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت تو کی طلال چوہدری کے وکیل کامران مرتضیٰ نے مو قف پیش کیا کہ میرے موکل کی جانب سے توہین عدالت کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا گیا ہے،لیکن میری درخواست کے باوجود مجھے میرے مو کل کے بیانات پر مبنی سی ڈی کی کاپی نہیں دی گئی ہے جس پر جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ آپ کو تقریر کا متن تو دے دیا گیا ہے،فاضل وکیل نے کہا کہ یہ ایک سیاسی کیس ہے ، اسلئے ہمیں خدشہ ہے کہ متن میں ٹمپرنگ ہوسکتی ہے ، میرے مو کل کے اطمینان کے لئے سی ڈی کی کاپی ہی فراہم کی جائے،جس پر جسٹس اعجازافضل نے شعر پڑھا کہ’’ خضر کیوں کر بتائے کیا بتائے‘‘ اگرماہی کہے دریا کہاں ہے؟بعد ازاں فاضل عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو طلال چوہدری کے وکیل کو سی ڈی کی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی اور، طلال چوہدری کے وکیل کی استدعا پر ملزم کو آئندہ پیشی پر حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 8 مارچ تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں  بیٹے کی ماہرہ خان پر 'سخت پابندیاں'

اپنا تبصرہ بھیجیں