تین روز قبل جمعرات کے دن پیش آنے والا وہ واقعہ جس کے فورا ًبعد میجر جنرل (ر) رضوان اختر کو استعفیٰ دینا پڑ گیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی کراچی میں بطور ڈی جی رینجرز تعیناتی اور کارکردگی اس قدر شاندار تھی کہ جب میں نے ایک سابق آرمی چیف سے پوچھا کہ کیا یہ لیفٹیننٹ جنرل بن جائیں گے تو ان کے الفاظ تھے کہ اگر یہ نہ بنے تو پھر کون بن سکتا ہے، مگر آئی ایس آئی چیف بنتے ہی ان کی صلاحیت پر شک و شبہے کا اظہار کیا گیاجبکہ کچھ اور بھی تحفظات ان سے متعلق تھے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کےساتھ ان کی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو سکی، آرمی چیف کو دو تین افرادسے شکایت تھی کہ ان کے عقائد کے حوالے سے جھوٹی خبریں دی گئیں اور کسی نے اس کی پروا ہ نہیں کی اور بعض لوگ اس میں شریک بھی تھے، معروف کالم نگار و تجزیہ نگار ہارون الرشید کا نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف کالم نگار و تجزیہ نگار ہارون الرشید نے انکشاف کیا ہے کہ پاک فوج سے مستعفی ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی کراچی میں بطور ڈی جی رینجرز تعیناتی اور کارکردگی اس قدر شاندار تھی کہ جب میں نے ایک سابق آرمی چیف سے ان سے متعلق پوچھا کہ کیا یہ لیفٹیننٹ جنرل بن جائیں گے تو ان آرمی چیف کے الفاظ تھے کہ اگر یہ لیفٹیننٹ جنرل نہ بنے تو پھر کون بن سکتا ہے مگر ان کے آئی ایس آئی چیف کے طور پر تعینات ہوتے ہی ان کی صلاحیت پر شک و شبہے کا اظہار کیا گیا جبکہ کچھ اور بھی تحفظات ان سے متعلق تھے۔
ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ میلان طبع یعنی مزاج کی بھی بات ہوتی ہے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ان کی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو سکی، آرمی چیف کو دو تین افراد سے شکایت تھی کہ ان کے آرمی چیف بنتے ہی ان کے عقائد کےحوالے سے جھوٹی خبریں دی گئیں اور کسی نے اس کی پروا ہ نہیں کی اور بعض لوگ اس میں شرکت بھی تھے۔ ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ جمعرات کی شام تک سابق لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختربہت خوش تھے اور انہوں نے ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کیلئے رجسٹریشن بھی کرائی اور اس حوالے سے اپنے دوستوں سے مشاورت کا عمل جاری رکھے ہوئے تھے،جمعرات کے بعد کوئی واقعہ ہوا ہے جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں اور جو کچھ سوشل میڈیا پر آرہا ہے اس بارے میں میں نے پتا کروایا ہے وہ قابل اعتبار نہیں، جب تک اس واقعہ کے بارے میں معلوم نہیں ہو جاتا تب تک ہم اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ پروگرام میں شریک سینئر دفاعی تجزیہ کار حسن عسکری نے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کے استعفیٰ بارے تبصرہ کرتےہوئے کہا کہ جب تک رضوان اختر استعفیٰ میں ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دینے کی بات کی خود وضاحت نہیں کر دیتے تب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ رضوان اختر کو بیرون ملک کسی اسائنمنٹ پر بھیجا جا رہا ہو جیسے راحیل شریف گئے ہیں اور یہ ویسے بھی راحیل شریف کے بہت قریبی جرنیل سمجھے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں  سعودی خواتین نے بھی عالمی دن خوب منایا

اپنا تبصرہ بھیجیں