بلوچستان میں جنگلی حیات کے وجود اوربقا کو خطرات لاحق

بلوچستان میں جنگلی حیات کے وجود اوربقا کو خطرات لاحق

راشد سعید

بلوچستان قدرتی وسائل سےتومالامال ہےہی،اس کےساتھ یہ صوبہ نادر و نایاب جنگلی حیات کامسکن بھی ہے مگرمختلف وجوہات کی بناء پر صوبےمیں اس کے وجود اوربقا کو خطرات لاحق ہیں، اس کےمعدوم ہونےکابھی خدشہ پیداہوگیاہے۔

بلوچستان کاوسیع وعریض لینڈاسکیپ چٹیل اورریتلےمیدان، وسیع وعریض پہاڑی سلسلوں،جنگلات اور قابل دید طویل ساحل اور قدرتی آب گاہوں سے مزین ہے۔اس کی خاص بات اور انفرادیت یہ ہے کہ یہ سب نادرونایاب جنگلی حیات کامسکن ہے ۔اس کےعلاوہ بلوچستان سے ملحقہ ساحل اورسمندر خوبصورت سمندری حیات کابھی مسکن ہے۔

اس حقیقت کااندازہ اس حقیقت سے لگایاجاسکتاہے کہ پاکستان بھر میں اب تک پائےجانےوالے 188اقسام کےرینگنے اوردودھ پلانے والےجانوروں میں سے71اورملک کے666اقسام کےپرندوں میں سے356بلوچستان میں پائے جاتے ہیںجو کہ ملک کی جنگلی حیات کا بالترتیب 38اور53فیصد بنتاہے۔
بلوچستان میں جنگلی حیات کے وجود اوربقا کو خطرات لاحق

اس حوالےسےمحکمہ جنگلی حیات کے کنزرویٹر شریف الدین بلوچ کاکہناتھا کہ ابھی اس شعبہ میں مزید کام ہوناباقی ہے،،اس کےعلاوہ بھی صوبے میں جنگلی حیات کی کئی اقسام ہوسکتی ہیںتاہم اس کا اندازہ اسی وقت ہوگا کہ جب پورے بلوچستان کاتفصیلی سروے کیاجائےتاہم بلوچستان میں پائی جانےوالی جنگلی حیات کی بہت سی خصوصیات اور انفرادیت ہے۔

مزید پڑھیں  مجھے فخر ہے کہ میں نے لال مسجد کے خلاف آپریشن کیا اور آئندہ بھی کروں گا ، پرویز مشروف

یہاں کوئٹہ کےنواح کےپہاڑی سلسلے میں پایاجانےوالا نایاب چلتن جنگلی بکرا جسے انگریزی میں چلتن وائلڈ گوٹ کہاجاتاہےکنزرویٹر شریف الدین بلوچ کے مطابق اس کی نسل صرف اسی علاقے میں موجود ہے،دنیا میں یہ نسل کہیں اور نہیں پائی جاتی۔

اس کےعلاوہ ، سلیمان اور چلتن مارخور،اڑیال،چنکارہ، سیاہ ریچھ،مختلف قسم کےسانپ، پرندے، سبز کچھوے اورمگرمچھوں سمیت نادر سمندری حیات شامل ہے مگراس وقت ان سب کوشکار کےعلاوہ مختلف وجوہات کی بنا پر شدید خطرات لاحق ہیں اور ان میں سے کئی ایک کے معدوم ہونےکاخدشہ ہے ۔
بلوچستان میں جنگلی حیات کے وجود اوربقا کو خطرات لاحق

اس حوالے سے کنزرویٹر محکمہ جنگلی حیات نےجیونیوزکوبتایا کہ اس وقت مجموعی طور پر موسمی تغیر و تبدیلی، اور اس کے نتیجے میں ہونےوالی خشک سالی سے بلوچستان میں موجود جنگلی حیات کی اقسام کو خطرات ہیں،اس کی وجہ سے ان کے رہنے کی جگہیں اور ماحول متاثر ہورہاہے۔

اس کےعلاوہ ان کا کہناتھاکہ جنگلی حیات کو غیرقانونی شکار سے بھی خطرہ لاحق ہے،،بلوچستان میں جنگلی حیات کےغیرقانونی شکار پر پابندی عائد ہے ،اس حوالے سے قانون بھی موجود ہےمگر اس پر موثر عملدرآمد نہ ہونے کی بناء پر مختلف علاقوں میں غیرقانونی شکار کیاجاتاہےجو کہ اس کی بقاء کے لئے بہت نقصان دہ ہےتاہم تشویشناک بات یہ ہے صوبائی حکومت اس حوالےسے تقریبا بے بس نظرآتی ہے۔

مزید پڑھیں  پاناما کیس کے فیصلے سے قبل سپریم کورٹ کے سینئیر جج کو اسلام آباد میں بیش قیمت پلاٹ کی الاٹمنٹ ، خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی

صوبائی وزیرماحولیات پرنس احمد علی سے رابطہ کیاگیاتو انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ صوبے میں جانوروں اور پرندوں کاغیرقانونی شکار ہوتاہے،،،اس پر وفاقی اورصوبائی حکومت فورا پابندی عائد کریں،،،ان کا کہناتھا کہ ہمیں جنگلی حیات کاتحفظ کرنا ہے۔
بلوچستان میں جنگلی حیات کے وجود اوربقا کو خطرات لاحق

ان کا کہناتھا کہ ہمیں شکار پر مکمل پابندی عائد کرناچاہئے،ہم زیادہ دور نہ جائیں کہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں تلور سمیت مختلف پرندوں اورجانوروں کےشکار پر پابندی عائد ہے وہاں اس کی اجازت نہیں ہےمگر لوگوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے جو کہ اچھی بات نہیں ہے۔

انہوں نے عرب شیوخ کےبلوچستان میں شکار کرنےکابھی حوالہ دیا،،جنہیں کبھی وفاق اور کبھی صوبے کی جانب سے خصوصی طور پرشکار کی اجازت دی جاتی ہے۔

پرنس احمد علی کا کہناتھا کہ اس طرح وائلڈ لائف کو ٹارگٹ کرنابربریت اور ظلم کےسوا کچھ نہیں۔ محکمہ جنگلی حیات بلوچستان کےحکام کاکہنا ہے کہ صوبے میں جنگلی اورسمندری حیات کے تحفظ کےلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں  پاکستان کے گرد گھیرا مزید تنگ

اس حوالے سے کوئٹہ کے نواح میں ہزارگنجی نیشنل پارک کےعلاوہ لسبیلہ کےعلاقے میں ہنگول نیشنل پارک قائم کیاگیاہے۔ہنگول نیشنل پارک پاکستان کادوسرا بڑا پارک ہے،۔

اس پارک میں بلوچستان کاسب سے طویل دریا،،دریائے ہنگول بھی گزرتاہے،اس کےعلاوہ صوبے کے مختلف مقامات پر جنگلی حیات کےمسکن کےلئے چودہ مقامات اورچار شکارگاہوں کےعلاوہ پانچ آب گاہیں بھی قائم کی گئی ہیں ۔
بلوچستان میں جنگلی حیات کے وجود اوربقا کو خطرات لاحق

ماہرین کاکہنا ہے کہ اس کےتحفظ اوربقاکےلئے شعوروآگہی کےعلاوہ بھرپوراقدامات کی ضرورت ہےبالخصوص محکمہ جنگلات اورجنگلی حیات کےڈائریکٹوریٹ کو وسائل فراہم کرکے مکمل فعال کیاجاناچاہئے،اس کےساتھ محکمہ کےمتعلقہ شعبوں میں زیادہ سےزیادہ آسامیاں پیدا کی جائے کیوں کہ عملے کی کمی کی وجہ سے بھی مسائل کاسامنارہتاہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگلی حیات کاتحفظ اس لئے بھی ناگزیر ہے کہ یہ قدرت کی اتنی بڑی نعمت ہے کہ اگر ایک بار یہ ختم ہوگئی تو اسے دوبارہ نہیں لایاجاسکتا،جنگلی حیات کاتحفظ متعلقہ حکام کےعلاوہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اس حوالے سے سب کو جنگلی حیات کےعالمی دن کےموقع پر ان کے بچاؤ کاعزم کرناہوگا،اسی سے قدرت کی اس نادر و نایاب نعمت کاتحفظ اوربقاء ممکن ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں