بادشاہت کیلئے نااہل بادشاہ گر کیسے،ان کی نااہلی پر اس وقت نافذ قانون ہی لگے گا، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

اسلام آباد( رپورٹ :رانامسعود حسین )عدالت عظمیٰ نے الیکشن ایکٹ 2017 کیخلاف دائر کی گئی متعدد درخواستوں کے ذریعے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بطورصدرپاکستان مسلم لیگ ن اہلیت کو چیلنج کرنے سے متعلق مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل62(1)f کے تحت عوامی عہدہ سے نااہلیت کے بعد نوازشریف مسلم لیگ ن کے صدر نہیں رہ سکتے تھے،نااہل شخص کنگ میکرکیسے بن سکتاہے، عدالت پہلے قرار دے چکی ہے کہ ماتحت قانون کے ذریعے آئین کو بائی پاس نہیں کیا جاسکتا۔ لوگوں کو دانستہ فائدہ پہنچانے کیلئے آئینی شقوں سے انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ عدالتیں قانون کے مطابق کام کررہی ہیں ایک شخص کیلئے کی گئی قانون سازی عدالت کو آنکھیں دکھانے کے مترادف ہے اس سے مقننہ کو ایسے لوگ کنٹرول کریں گے جو آئین کے تحت پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ جو شخص بادشاہ بننے کیلئے نااہل ہوا اسے کنگ میکر بننے کیلئے فری ہینڈ نہیں دیا جاسکتا۔ نااہل کا انتخابی عمل سے گزرے بغیر بطور پپٹ ماسٹر سیاسی طاقت استعمال کرنا آئین سے کھلواڑ ہے۔51 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیا ہے جوجمعہ کے روز جاری کیا گیا ، فاضل عدالت نے پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، نیشنل پارٹی، استقلال پارٹی ، عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد اور جمشید دستی سمیت 16درخواست گزاروں کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت دائر کی گئی درخواستوں پر جاری کئے گئے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ایسی کوئی شق نہیں تھی کہ عوامی عہدہ سے نااہلیت کے بعد کوئی شخص کسی سیاسی پارٹی کا صدر رہ سکے، ایسے قانون کی غیرموجودگی میں نوازشریف مسلم لیگ ن کا صدر بننے کے مجاز نہیں تھے،نوازشریف کوپانچ جج بددیانت قراردے چکے ہیں،انکی نااہلی پراس وقت نافذقانون ہی لگے گا،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن)قومی اسمبلی میں نشستوں کے اعتبار سے سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، جس نے اکثریت کی بنیاد پر حکومت قائم کی ہے ، نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) ) کے صدر بھی تھے، 4اپریل 2016 کو آئی سی آئی جے کی جانب سے پانامہ کیس سامنے آنے پر اس سے متعلق دنیا بھر کے اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں،اس سکینڈل کے ذریعے دنیا بھرکے مختلف ملکوں کی معروف شخصیات کی آف شور کمپنیاں سامنے آئیں، انہی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام بھی سامنے آئے، اسی دوران دنیا بھر میں پانامہ لیکس کی وجہ سے کئی عالمی رہنمائوں نے ا پنے عہدوں سے استعفے دیئے تھے ، اور قوم کے سامنے وضاحتیں پیش کیں ،نواز شریف نے اس حوالے سے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر قوم سے اور پارلیمنٹ کے اندر منتخب نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے مختلف وضاحتیں پیش کیں، لیکن بیانات میں تضاد کی وجہ سے وہ لوگوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے اور مختلف فریقین نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کردیں، جس عدالت میں سماعت کے دوران نواز شریف کی جانب سے ان درخواستوں کے عدالتی دائرہ اختیار میں آنے کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیااور سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد 20اپریل 2017 کو ایک فیصلہ سنایا جس میں بنچ کے رکن 2 فاضل ججز،جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے نوازشریف کو آئین کے آرٹیکل 62(1)F کے تحت عوامی عہدہ کے لئے نااہل قراردے دیا جبکہ دیگر تین فاضل ججز ،جسٹس اعجاز افضل خان ،جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن نے پانامہ پیپرز لیکس کے الزامات کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم جاری کیا تھا ،جے آئی ٹی نے 60 دن کے اندر10والیم پرمشتمل اپنی رپورٹ پیش کی اورجے آئی ٹی کی اسی رپورٹ کی بنیاد پر بنچ کے رکن جسٹس اعجاز افضل خان ،جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی 28جولائی 2017کو مسول علیہ نواز شریف کوآئین کے آرٹیکل 62(1)F کے تحت عوامی عہدہ کے لئے ناہل قرار دے دیا تھا، یوں پورے پانچ رکنی لارجر بنچ نے ہی مسول علیہ کو آئین کے آرٹیکل(1)f 62 کے تحت عوامی عہدہ کے لئے نااہل قراردے دیا اور اس کے ساتھ ساتھ قومی احتساب بیورو (نیب ) کو مسول علیہ ،ان کے بچوں حسن نواز حسین نواز ،مریم نواز ،دامادکیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں مختلف ریفرنسز قائم کرنے کا حکم جاری کیا ، عدالت نے متعلقہ احتساب عدالت کو ریفرنسز دائر کئے جانے کی تاریخ سے 6ماہ کے اندر اندر ان پر فیصلے جاری کرنے کا حکم بھی جاری کیا ، فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عدالت سمجھتی ہے کہ ان احکامات پر عملد رآمد بھی ہوگیا ہے اور مسول علیان کے خلاف ریفرنسز قائم کئے جاچکے ہیں اور ٹرائل چل رہا ہے ، 28جولائی کو مسول علیان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں بھی دائر کیں جوکہ 15ستمبر2017کو خارج کردی گئیں،جس کے بعد عدالت کے فیصلہ نے حتمی شکل اختیار کرلی ہے ،فیصلہ کی حتمی شکل کے مطابق عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کی دفعہ 99اور آئین کے آرٹیکل 62(1)F کے تحت نواز شریف ایماندار نہیں تھے ،اور وہ عوامی عہدہ کے لئے ناہل ہوگئے تھے، اسی بناء پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو فوری طور پر مسول علیہ کو عوامی عہدہ کیلئے( بطور رکن پارلیمنٹ ) نااہل قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی تھی اور اسی فیصلہ ہی کی بناء پر وہ وزیر اعظم بھی نہیں رہے تھے،عدالتی فیصلے کے مطابق اس عرصہ کے دوران نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے صدرتھے ،مسلم لیگ (ن) الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی پارٹی رجسٹرڈ ہے ، پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2002کے آرٹیکل 5کے تحت مسول علیہ عوامی عہدہ سے نااہلیت کے بعد مسلم لیگ(ن)کے صدر یا عہدیدار نہیں رہ سکتے تھے ، اس لئے انہیں الیکشن کمیشن نے اس عہدہ سے ہٹا دیا تھا، عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس مقدمہ (الیکشن ایکٹ 2017)کے درخواست گزاروں نے الزام عاید کیا تھاکہ عدالتی فیصلے کو غیر موثر کرنے کیلئے حکمران پارٹی نے سینٹ میں الیکشن ایکٹ 2017کے عنوان سے ایک بل پیش کیا ،مجوزہ بل میں انتخابات سے متعلق متعدد قوانین بشمول پولیٹیکل آرڈر2002 کومنسوخ کرتے ہوئے ان کی جگہ پر الیکشن ایکٹ 2017 لایا گیا تھا ، عدالت نے کہا ہے کہ مجوزہ بل کی سیاسی جماعت کی رکنیت اختیار کرنے سے متعلق دفعہ 203اورجرم کی صورت میں ممبر شپ کیلئے نااہلیت سے متعلق دفعہ232 اس مقدمہ میںاہم حیثیت کی حامل ہیں ،22ستمبر2017کو مجوزہ بل پر سینٹ میں رائے شماری ہوئی تھی ،مقدمہ کی سماعت کے دوران ہمیں بتایا گیا ہے کہ مختلف جماعتوں نے مجوزہ بل میںپولیٹیکل پارٹیز آرڈر2002کے آرٹیکل 5 کو برقراررکھنے سمیت مختلف ترامیم تجویز کی تھیں ،تاہم انہیں نظر انداز کردیا گیا، درخواست گزاروںکا موقف ہے کہ سینٹ میں اس بل کی تیزی سے منظوری ایک سوالیہ نشان ہے .

مزید پڑھیں  عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیریے

اپنا تبصرہ بھیجیں