انتخابات؛ بیوقوف بننے اور بنانے کا موسم!

اسی لیے کہتے ہیں لمبی لمبی نہیں چھوڑنی چاہیے… ابھی چند روز قبل ہی باجی مریم اورنگزیب فرما رہی تھیں کہ ترقی دیکھنی ہو تو لاہور آئیں… مطلب صرف لاہور ہی کیوں؟ کیا اقتدار صرف پنجاب ہی میں ملا تھا؟ اور پنجاب میں بھی صرف لاہور ہی پر حکومت ملی تھی؟ کسی اور جگہ کا نام کیوں نہیں لیا؟ کسی اندرون پنجاب کے پسماندہ علاقے کا ہی نام لے کر بتاتیں کہ ہم نے وہاں یہ یہ ترقیاتی کام کیے ہیں تو ہم شاید دیکھ بھی آتے… لیکن لاہور تو ہم دیکھ آئے ہیں پچھلے سال… اور بخیر و عافیت ’’پیدا‘‘ بھی ہوگئے۔

یہ جو سیاستدان ہیں ناں… یہ بڑی عجیب مخلوق ہوتے ہیں بھئی! ان سیاہ ستدانوں کو پہلے پانچ سال بجلی کا مسئلہ حل کرنے کےلیے دو، پھر اگلے پانچ سال پانی کا مسئلہ حل کرنے کو… پھر اگلے پانچ سال گیس کے مسائل حل کرنے کو، اور پھر اگلے پانچ سال…

پانچ سال لاہور کو پیرس بنانے کو اور اگلے پانچ سال کراچی کو لاہور بنانے میں…

یوں آپ کی آنے والی ساتویں نسل ایک مکمل ترقی یافتہ پاکستان دیکھ پائے گی… بھئی ایک مدت میں یہ سب کچھ نہیں کرسکتے کیا؟

مزید پڑھیں  ’میرا اور وزیراعظم کا کیس ایک جیسا نہیں‘

اور ان کے چمچے تو اس سے بھی گئے گزرے ہوتے ہیں۔ ابھی شاید پرسوں کی بات ہے… ایک ٹی وی پروگرام میں معروف اینکر نورالعارفین صدیقی کے سوالوں پر آئیں بائیں شائیں کرتے دو رہنماؤں (ایک جیالے اور ایک متوالے) کو دیکھ کر میرا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ دونوں کو بوری میں بند کرکے ’’بھائی‘‘ کی چوکھٹ پر پھینک آؤں… یہ پیدا ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ اپنے لیڈروں کے سیاہ کرتوتوں کو سفید چادر اوڑھا کر قصرِ تقدس کے چھجے پر چڑھاتے رہیں۔

خیر! ان سیاستدانوں سے بندہ صرف بیان بازیاں جھوٹے وعدے ہی کروالے… بے شرمی، ڈھٹائی، بے غیرتی تو سمجھو انہی سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہوجاتی ہے؛ چاہے وہ نون لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی ہو یا ایم کیو ایم اور پی ایس پی وغیرہ۔

باقی رہ گئیں ہماری نام نہاد مذہبی جماعتیں، تو انہیں تو بس اتحاد بنا کر حکومت میں آنا اور مدتِ حکومت کا اختتام قریب آنے پر کسی ناراض بیوی کی طرح خلع لینے کی جلدی ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں  نوازشریف کی نااہلی میں فوج کا کوئی کردار نہیں، پرویز مشرف

اور رہ گئے عام لوگ…

تو بھئی بات یہ ہے کہ پہلے آتے ہیں گھٹیا لوگ؛
پھر آتے شدید گھٹیا لوگ؛
پھر آتے ہیں شدید مزید گھٹیا لوگ؛
پھر آتے ہیں شدید مزید گھٹیا ترین قسم کے لوگ؛
پھر آتا ہے برج الخلیفہ جتنا کچرا؛ اور…

اس کے بعد آتے ہیں وہ عوام جو سارا دن فیس بک پر ’’الیکشن الیکشن‘‘ کھیل رہے ہوتے ہیں… جنہیں اللہ نے اس قدر گمراہ کر دیا ہے کہ لگتا کہ ابوجہل جس اسکول میں اسٹوڈنٹ تھا، اس اسکول کے مہتمم یہی لوگ تھے۔

مطلب اس قدر جہالت کہ خدا کی پناہ! اندھی تقلید نہیں بلکہ اندھا دھند تقلید… اپنے لیڈر کے ہر سیاہ و سفید کے دفاع میں مخالفین پر گالیوں کے گولے برسانا اور مغلظات کے ایٹم بم گرانا تو گویا عام سی بات بن گئی ہے… محبت، جنگ اور سیاست میں سب جائزِ جو ہے بھئی!

عوام تو آپس میں کتوں کی طرح لڑتے رہیں گے لیکن الیکشن کے بعد یہ سارے سیاستدان ایک دوسرے کو ظہرانے اور عشائیے دیتے ہوئے نظر آئیں گے، کچھ وقت کےلیے ملک کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دکھائی دیں گے، اور پھر کچھ وقت بعد کھانے وانے بھول کر ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑیں گے…

مزید پڑھیں  چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی کو گرفتار کرلیا گیا

لیکن آپ کو کیا؟ آپ بڑھ چڑھ کر انتخابی مہم کا حصہ بنیے کیوں کہ آپ کی نظر میں لوٹی ہوئی دولت واپس آچکی ہے… زرداری بھی سڑکوں پر گھسیٹا جاچکا ہے، کے پی کے کا تعلیمی ریکارڈ بھی آسمان پر ستارہ بن کر چمک رہا ہے، ملک سے لوڈ شیڈنگ بھی ختم ہو چکی ہے… سب کچھ تو ٹھیک ہوگیا ہے ناں!

اگر تھوڑی سی بارشیں اور ہوجائیں تو ان شاء اللہ پورا ملک ہی ترقی یافتہ وینس بنتا ہوا نظر آئے گا۔

باقی رہ گئی مجھ جیسی اقلیت، تو وہ یہ سب دیکھ کر یہی سوچتی رہ جاتی ہے کہ

کہاں سے آتے ہیں ایسے بےغیرت لوگ؟
کیوں ہوتے ہیں ایسے لوگ؟
کون لے کر آتا ہے ان لوگوں کو؟

اپنا تبصرہ بھیجیں