’امریکی سفارتکار کا نام بلیک لسٹ میں شامل، ملک چھوڑنے قبل اجازت لینا ہو گی‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو کچلنے کے واقعے میں ملوث امریکی سفارتکار کرنل جوزف امینوئل ہال کو بلیک لسٹ کر دیا ہے جس کے بعد وہ متعلقہ حکام یا عدالت کی اجازت کے بعد ہی ملک چھوڑ سکتے ہیں۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا طریقہ کار کافی طویل ہے اس لیے انھیں بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے منگل کو اسلام آباد پولیس اور حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوان عتیق بیگ کے والد کی جانب سے کرنل جوزف ہال کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست کی سماعت کی۔
اس بارے میں مزید جانیے

مزید پڑھیں  نیب کا پاناما پیپرز میں شامل ناموں کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ

’ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سفارت کاروں کو ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اس لیے انھیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا البتہ اگر کوئی سفارت کار سے یہ استثنیٰ خود واپس کر دے یا اس سے یہ واپس لے لیا جائے تو پھر اُس کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ امریکی سفارت کار کو حاصل استثنیٰ کے بارے میں پاکستانی حکومت امریکی حکام سے رابطے میں ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور وزارت خارجہ کے ڈی جی پروٹوکول کو حکم دیا کہ عدالت اس بارے میں ایک سوال نامہ تیار کرے گی جس کی روشنی میں حکومت جواب تیار کر کے عدالت میں جمع کروایا جائے گا۔

مزید پڑھیں  سکینڈل کوئین معروف اداکارہ شائستہ لودھی آج کہاں اور کس حال میں ہیں ؟ حیران کن انکشاف

یہ حادثہ سات اپریل کو پیش آیا تھا جب دارالحکومت میں دامنِ کوہ چوک پر ایک گاڑی نے جسے کرنل جوزف چلا رہے تھے، ٹریفک اشارہ توڑ کر ایک پاکستانی طالب علم کی موٹرسائیکل کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ طالب علم ہلاک اور اس کا ساتھی شدید زخمی ہو گیا تھا۔

مزید پڑھیں  وزیرِ اعظم نواز شریف کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں پیٹیشن دائر

یاد رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کو حکم دیا تھا کہ وہ دو موٹر سائیکل سواروں کو کچلنے کے واقعے میں ملوث امریکی سفارت کار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے بارے میں ایک ہفتے میں فیصلہ کریں۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت دس روز کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں