March 02, 2018 | 12:00 am پاکستان کیلئے دھچکا، افرادی قوت کی برآمد میں 40،فیصد کمی

اسلام آباد — پاکستان کیلئے یہ بات ایک دھچکا ہے کہ ملک کی افرادی قوت کی برآمد 2017ء میں 40؍ فیصد تک کم ہوگئیں جس میں سعودی عرب نے پاکستانی مزدوروں کیلئے ملازمت میں 2016ء کے مقابلے میں دو تہائی کمی کر دی ہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 2016ء میں بیورو میں بیرون ملک ملازمت کیلئے 8؍ لاکھ 39؍ ہزار 353؍ پاکستانی مزدوروں نے رجسٹریشن کرائی جبکہ 30؍ نومبر 2017ء تک ملازمت حاصل کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد 4؍ لاکھ 65؍ ہزار 586؍ تھی جس سے زبردست زوال کا اندازہ ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے معاملے میں سرکاری اعداد و شمار انتہائی پریشان کن ہیں۔ 2016ء میں مجموعی طور پر 4؍ لاکھ 62؍ ہزار 598؍ افراد نے سعودی عرب میں ملازمت حاصل کی، 2017ء میں ان اعداد و شمار میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی کیونکہ صرف ایک لاکھ 43؍ ہزار 368؍ کو سعودی عرب میں ملازمت ملی۔ سعودی عرب کے 2017ء کے اعداد و شمار دیکھ کر پورے سال کی صورتحال کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ نومبر تک 2017ء کے گیارہ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 4؍ لاکھ 65؍ ہزار 586؍ افراد کو بیورو کے ذریعے بیرون ملک ملازمت ملی۔ اگر دسمبر 2017ء کے اعداد و شمار بھی شامل کیے جائیں تو یہ تعداد 5؍ لاکھ سے تھوڑا کم ہوتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 2017ء کے بیرون ممالک میں ملازمت حاصل کرنے والے افراد کے اعداد و شمار واقعی پریشان کن ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف غیر ملکی ترسیلات زر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ ملک میں بیروزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں 2017ء بدتر سال ثابت ہوا ہے۔ ذریعے نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ 2016ء، 2015ء، 2014ء، 2013ء اور 2012ء میں افرادی قوت کی برآمد بالترتیب 839353، 946571، 752466، 622714 اور 638587 تھی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ 2017ء میں پاکستانی افرادی قوت کو زبردست دھچکا سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کیلئے ملازمت کے مواقعوں میں ڈرامائی کمی کی وجہ سے لگا ہے۔ ماضی کا تقابل کرتے ہوئے، سرکاری ذریعے نے کہا کہ 2017ء میں سعودی عرب کا پاکستانیوں کیلئے کوٹہ سعودی حکومت کی جانب سے 2009ء میں دیئے جانے والے کوٹے سے بھی بہت کم تھا۔ دی نیوز کو دیئے گئے 2009ء سے 2017ء تک کے اعداد و شمار کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ 2009ء میں 201816، 2010ء میں 189888، 2011ء میں 222247، 2012ء میں 358560، 2013ء میں 270502، 2014ء میں 312489، 2015ء میں 522750، 2016ء میں 462598 اور 2017ء میں 143368ء پاکستانیوں کو سعودی عرب میں ملازمت ملی۔ ماضی میں سعودی عرب پاکستانیوں کو ملازمتوں میں بڑا حصہ دیتا رہا ہے۔ تاہم، 2017ء میں سعودی عرب میں پاکستانیوں کیلئے 143368؍ ملازمتوں کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کو صرف 27؍ ہزار 543؍ ملازمتیں مل سکیں۔ قطر، کویت، بحرین وغیرہ جیسے عرب ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی برآمد 2017ء میں مایوس کن رہی۔ سال کے دوران، صرف 9989؍ پاکستانیوں کو قطر میں، 7210؍ کو بحرین اور 741؍ کو کویت میں ملازمت مل سکی۔ حکمران شریف فیملی کا کہنا ہے کہ ان کے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ شاندار تعلقات ہیں۔ لیکن 2017ء کے افرادی قوت کی برآمد کے اعداد و شمار دیکھ کر مسلم لیگ (ن) حکومت کی مایوس کن کارکردگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ 2016ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے دورے کے دوران قطر کے امیر نے 2022ء کے فیفا ورلڈ کپ کے دوران پاکستانیوں کیلئے ایک لاکھ ملازمتوں کا اعلان کیا ہے۔ 2017ء کے اعداد و شمار دیکھ کر کہیں سے بھی اس بات کا اشارہ نہیں ملتا کہ قطری حکومت کے اس فیصلے پر کوئی عمل ہوا ہے۔ 2016ء میں وزیراعظم نے کویت کا دورہ کیا تھا اور اس وقت بھی میڈیا نے بتایا تھا کہ کویتی حکومت نے پاکستانی شہریوں پر عائد ویزا پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ لیکن 2017ء کے افرادی قوت کے اعداد و شمار اس خبر سے متصادم ہیں۔

مزید پڑھیں  مفاہمت کے بادشاہ آصف زرداری کی طاہر القادری کو حیرت انگیز پیشکش

اپنا تبصرہ بھیجیں