چینی سڑک کی تعمیر سے بھارت کو سنگین خطرات لاحق

بھارتی حکومت نے چین کی جانب سے سہ ملکی سرحد پرہمالیہ پہاڑوں کے دامن میں بنائی جانے والی سڑک کو اپنے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے بیجنگ کو خبردار کیا ہے کہ وہ روڈ کی تعمیر بند کردے۔
بیجنگ بھارت اور بھوٹان کی سرحدوں سے ملنے والے اپنے علاقے میں ایک روڈ تعمیر کر رہا ہے، اس علاقے کی بھارتی ریاست سکم سے ملتی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے اپنی خبر میں بتایا کہ چین اور بھارت میں حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد جمعے کو ہندوستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں چین کی جانب سے تعمیر کی جانے والی سڑک کی مذمت کی گئی۔
بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے اہلکاران کے علاقے میں گھس آئے اور سڑک کی تعمیر کا کام جاری رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے میزائل ٹیسٹ پر چینی اخبار کا انتباہ
بیان میں کہا گیا کہ چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر پر بھارت کو شدید خدشات لاحق ہیں،جن سے بیجنگ کو آگاہ بھی کردیا گیا ہے، جب کہ اس روڈ کی تعمیر نئی دہلی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ نئی دہلی دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں امن امان کا خواہاں ہے، اور چین کے ساتھ تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔
اس سے پہلے گزشتہ ہفتے بیجنگ نے الزام عائد کیا تھا کہ بھارتی بارڈر گارڈ انڈیا کی شمال مشرقی ریاست سکم سے ان کے علاقے تبت میں گھس آئے تھے، اور انہوں نے سڑک کی تعمیر میں خلل ڈالا۔
خیال رہے کہ بھارت اور چین کی سرحدیں ہمالیہ سے ملتی ہیں، اور دونوں ممالک میں طویل عرصے سے سرحدی تنازع جاری ہے، دونوں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔
بھارت سے پہلے گزشتہ ہفتے بھوٹان نے بھی سڑک کی تعمیر پر چینی حکومت سے احتجاج کیا تھا، اگرچہ تھمپو اور بیجنگ کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود بھوٹان نے سڑک کی تعمیر کو اپنی سلامتی کے خلاف قرار دیا۔
گزشتہ ہفتے ہی چین کی وزارت خارجہ نے انڈیا کو متعدد بار خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی اپنی فوج چین کے علاقوں سے پیچھے ہٹائے، اور بیجنگ برطانوی راج میں 1890 ہونے والے معاہدے کے تحت سڑک تعمیر کرنے کا حق رکھتا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق چینی لوگ بھوٹانی عوام سے دوستانہ اور اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں، لیکن اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سلگری کوریڈور (چکن نیک)
بھارت اور چین کی سرحدیں ہندوستان کے انتہائی اہم اہمیت کے حامل علاقے سلگری کوریڈور سے ملتی ہیں، جسے چکن نیک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی بھارت کو ‘ون بیلٹ ون روڈ’ میں شرکت کی دعوت
چکن نیک کے علاقے میں موجود بھارت کی 7 ریاستوں کی سرحدیں چین، بھوٹان اور نیپال سے ملتی ہیں، اور اس خطے کی اہم ریاست سکم ہے، جس کی سرحدیں بیجنگ اور نئی دہلی کو ملاتی ہیں۔
بھارتی ریاست سکم کی سرحدیں چین کے علاقے تبت سے ملتی ہیں،ریاست سکم انڈیا کی آبادی کے لحاظ سے دوسری چھوٹی ترین ریاست ہے، مگر اس کی اسٹریٹجک اہمیت نہایت ہی اہم ہے۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک میں سرحدی تنازع کی وجہ سے 1962 میں جنگ بھی لڑی جا چکی، چین بھارت کی شمال مشرقی ریاست آندھرا پردیش پراپنا حق تسلیم کرتا ہے، کیوں کہ وہاں تبتی نسل کے افراد کی آبادی زیادہ ہے۔
اور اسی علاقے سے ہی بھارتی یاتری تبت کے علاقے میں مذہبی عبادات کے لیے جاتے ہیں، گزشتہ ہفتے بھی تبت جانے والے ہندوستانی یاتروں کو بیجنگ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر روک دیا تھا۔

مزید پڑھیں  گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے

اپنا تبصرہ بھیجیں