والدہ کو کینسر کی تشخیص کے بعد مریم نواز انتخابی مہم چلائیں گی

لاہور: سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے سابق صدر نواز شریف کے بیٹے حسن نواز نے والدہ کلثوم نواز کی بیماری کی تصدیق کردی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے علاج کی غرض سے لندن روانہ ہونے والی سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کو گلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما نے حسن نواز کے حوالے سے بتایا کہ کلثوم نواز کی بیماری ابتدائی مرحلے میں اور قابلِ علاج ہے۔

خیال رہے کہ بیگم کلثوم نواز قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے لیے مسلم لیگ (ن) کی امیدوار ہیں، یہ نشست 28 جولائی کو سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں  کیا راہیں جدا ہوگئیں،چوہدری نثار کی اجلاس سے غیرحاضری پر چہ میگوئیاں

لیگی رہنما کے مطابق لندن میں موجود کلثوم نواز اپنے شوہر سے فون پر بات کرکے انہیں ڈاکٹر کے تجویز کردہ علاج سے آگاہ کرچکی ہیں۔
یاد رہے کہ نواز شریف کی اہلیہ نے 1999 میں جنرل پرویز مشرف کی بغاوت کے بعد بھی اپنے شوہر اور پارٹی کو بچانے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس دور میں جب مشرف نے اقتدار میں آکر شریف خاندان کے تمام مردوں کو قید کردیا تھا جبکہ زیادہ تر پارٹی رہنما غیرفعال اور غائب ہوگئے تھے کلثوم نواز اکیلے سامنے آئیں اور ن لیگ کی صدر کی حیثیت سے مہم کا آغاز کیا جس سے کارکنان متحرک ہوئے اور حکومت پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ شریف خاندان کے افراد کو رہا کرے۔
1999 سے 2002 سے پہلے اور بعد میں کلثوم نواز نے پس منظر میں رہنے کا انتخاب کیا اور سیاست کا حصہ نہیں بنیں۔
بیماری کی تشخیص کے بعد سابق خاتون اول اپنی انتخابی مہم کو جاری نہیں رکھ سکیں گی جبکہ پولنگ کا عمل 17 ستمبر کو ہوگا۔
کلثوم نواز کی عدم موجودگی میں ان کی بیٹی مریم نواز انتخابی عمل کی نگرانی کریں گی کیونکہ اب تک پنجاب کے ضمنی انتخاب کی حکمت عملی طے کرنے والے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز بھی لندن کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔
اپنی روانگی سے قبل حمزہ شہباز نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان کے بیرون ملک سفر کی وجہ خاندانی اختلافات ہیں۔
اپنے بیان میں مریم نواز کے کزن، حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ وہ کلثوم نواز کو اپنی والدہ جیسا سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ لندن سے بھی خصوصی کمیٹی کے ذریعے انتخابی مہم کا جائزہ لیتے رہیں گے۔
تاہم انتخابی سرگرمیوں سے حمزہ شہباز کی دوری نے سیاسی مخالفین کو یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ شریف خاندان کی بنیاد کمزور ہونے کا دعویٰ کرسکیں۔

مزید پڑھیں  پاکستان کے گرد گھیرا مزید تنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں