نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس خالی کردیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپرز کیس میں نااہل قرار دیئے جانے کے تیسرے روز نواز شریف نے وزیر اعظم ہاوس خالی کردیا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی اہلیہ کلثوم نواز، صاحبزادی مریم صفدر اور داماد کیپٹن (ر) صفدر نے پاناما پیپرز کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے نااہلی کے فیصلے کے بعد اسلام آباد میں قائم وزیراعظم ہاؤس خالی کردیا جبکہ نواز شریف اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مری روانہ ہوئے تھے۔
ڈان نیوز کے مطابق نوازشریف 16 گاڑیوں کے قافلے میں سیاحتی مقام مری پہنچے، نواز شریف نے روانگی سے قبل وزیراعظم ہاؤس کے عملے سے الوداعی ملاقات کی اور مصافحہ کیا۔
خیال رہے کہ 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے حوالے سے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔
نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوری بعد عہدے سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ان کی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی تھی۔
بعد ازاں پنجاب ہاؤس میں ہفتے کو مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا گیا، صدر مملکت ممنون حسین نے حکمراں جماعت کی جانب سے اس اعلان کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کرلیا جبکہ کاغذار نامزدگی 30 اگست سے جمع ہوں گے۔
نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پاکستان کے مستقل وزیراعظم ہوں گے اور ان کے قومی اسمبلی میں آنے تک شاہد خاقان عباسی عبوری وزیراعظم ہوں گے۔

مزید پڑھیں  پاناماکیس؛ لیگی رہنماؤں کوبیان بازی مہنگی پڑی،ریکارڈ طلب

پارلیمانی پارٹی نے اس فیصلے کی توثیق کی اور باقاعدہ اعلان سابق وزیراعظم نواز شریف نے کیا۔

مزید پڑھیں  سیف اللہ خاندان، پاکستان کا سب سے بڑا آف شور اثاثوں کا مالک

اپنا تبصرہ بھیجیں