نواز تاحیات قائد، شہبازصدر،ن لیگ کی مجلس عاملہ نے منظوری دیدی

لاہور(ایجنسیاں )مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے محمد شہباز شریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کرلیا جبکہ محمد نواز شریف کو تاحیات قائد بنانے کی منظوری دیدی ۔ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس منگل کو یہاں ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہوا،اجلاس کی صدارت چیئرمین راجہ ظفرالحق نے کی‘اجلاس میں نواز شر یف، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی‘شہازشریف، گورنر پنجا ب رفیق رجوانہ سمیت سو سے زائد اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر کے لیے محمدشہباز شریف جبکہ شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف نے تاحیات قائد کے لیے نواز شریف کا نام تجویز کیا، جس کے بعد مرکزی مجلس عاملہ نے شہباز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا قائم مقام صدر منتخب کرلیا جبکہ نواز شریف کو تاحیات قائد بنانے کی منظوری دیدی۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے مستقل صدر کے انتخاب کےلئے پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس 6 مارچ کو کنونشن سنٹر اسلام آبادمیں طلب کر لیا گیا ہے جہاں شہبازشریف کو مستقل پارٹی صدر بنانے کی منظوری مسلم لیگ (ن) کے جنرل کونسل کے اجلاس میں لی جائے گی۔مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں خطاب کرتے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا کہملک میں آمریت نہیں پھر بھی اس دور جیسے فیصلے ہورہے ہیں ‘برملا کہتا ہوں یہ فیصلے نہیں مانتا‘ہمیں چور، ڈاکو اور ڈرگ ڈیلر کہا گیا، عوام کے منتخب نمائندوں کو آپ نے نکال دیا‘سیاستدان آسان ہدف ہیں، آمروں کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا‘میرے خلاف کچھ نہیں ڈھونڈ رہے سوائے انتقام کے اوریہ سارا انتقام ہے‘ صرف اس بات پر سزا سنائی گئی کہ نواز شریف نے فیصلے کوقبول نہیں کیا‘ تاریخ کو قبر مین دفن نہیںکیا جا سکتا ‘کوئی میرے ضمیر سے ،دل سے اور میرے دماغ سے پوچھے تو میں بر ملا کہوں گا میں ان فیصلوں کو نہیں مانتا ‘ملک کے آئین کو چھوڑ کر آمر کے پی سی اور پر حلف لینا سب سے بڑا جرم ہے ،میرا جرم اس سے کم ہوگا،وہ جج ہمار ے خلاف اس طرح کے فیصلے دیں اور ہم سر تسلیم خم کر لیں نواز شریف ایسا نہیں کر سکتا‘ اب ہمیں خود کو بدلنا ہوگا بلکہ پورا بدلنا ہوگا‘ اگر سیاست کرنی ہے تو پھر اپنی عزت کو بر قرار رکھنا ہوگا ایسی سیاست نہیں کرنی جس سے ہماری اپنی عزت بھی جاتی رہے اور ہمارے پلے کچھ نہ رہے‘اگر اس نظام کے چلانے کے لئے پاکستا ن بنانا ہے تو پھر مجھے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ میں یہ نظام قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں‘ یہاں سکھا شاہی چلے گی نہ چلنے دوں گا‘اس نظام کو ختم کرنے کے لئے جتنی جدوجہد کرنا پڑی میں کروں گا ، ووٹ کی حرمت او ر تقدس کا بیانیہ انتہائی طاقتور ہے‘ انشاء اللہ فتح ہماری ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹائون میں منعقدہ مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔نواز شریف نے کہا کہ 70 سال سے اس ملک میں منتخب وزیراعظم کو کام نہیں کرنے دیا جا رہا ‘ ہمیں چور ،ڈاکو کہہ کر پکارا گیا ڈرگ ڈیلر تک کہہ دیا گیا ہے ‘میں حیران ہوں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حیرانگی بالکل جائز ہے اس طرح کیسے ادارے چلیں گے ،ایگزیکٹو کا کردار بھی لے لیا جائے‘عوام کے ووٹ کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے منتخب وزرائے اعظم کو ذلیل کرکے ہٹا دیا جاتا ہے‘عوام کچھ اور چاہتے ہیں لیکن کچھ قوتیں اس ملک کو کس طرف لے جانا چاہتی ہیں؟،ہمیں جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا، یہ صورتحال جاری رہی تو ملک کیسے چلے گا؟ اقتدار پر شب خون مارنے سے بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میرے خلاف نیب نے از خود کوئیذ کیس بنایا اور نہ رجسٹر کیا بلکہ اس کو ہدایت کی گئی کہ کیسز بنائیں ‘ کیا ایسے حکومت چلے گی ایسے کون حکومت کرے گا۔

مزید پڑھیں  انتہائی معتروف اداکارہ نے اپنی برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں