میٹھا چھوڑنے سے جسم کو حاصل ہونے والے 8 اہم فوائد

ریفائن شکر یا چینی کو زندگی سے نکال باہر کرنا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ ہر ایک کو ہی کسی نہ کسی وقت میٹھا کھانے کی خواہش ہوتی ہے جبکہ مٹھاس کی جسم کو ضرورت بھی ہوتی ہے تاہم قدرتی میٹھا (پھل وغیرہ) اس مقصد کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

تاہم اگر آپ کسی طرح چینی کو زندگی سے نکال دیں تو اس کے فائدے بہت زیادہ ہیں۔

اور یہ فوائد میٹھے سے دوری اختیار کرتے ہی حاصل ہونا شروع ہوجاتے ہیں تاہم جسم پر میٹھے سے دوری کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں۔
کم عمر نظر آنا

بہت زیادہ میٹھا کھانا جھریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے، طبی ماہرین کے مطابق شکر کے استعمال سے شوگر مالیکیول اکھٹے ہوتے ہیں اور کولیگن اور الیسن کی سطح جلد پر کام کرتے ہیں۔ یہ دونوں ایسے روپٹین ہیں جو جلد کو جوان رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور ان کا تحفظ جس عمر تک ممکن ہو، ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح چینی کی زیادہ یا کم مقدار دوران خون میں گلوکوز اور انسولین کی کمی بیشی پر اثرات مرتب کرتی ہے، چینی سے دوری کے نتیجے میں اس ورم کا خطرہ کم ہوتا ہے جو بڑھاپے کی جانب لے جاتی ہے۔
مزاج پر خوشگوار اثرات

چینی کا استعمال ڈپریشن کا خطرہ بڑھاتا ہے، اس کی وجہ یہ چینی سے جسم کے اندر ورم کا امکان بڑھتا ہے جو دماغی افعال پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جب کوئی فرد چینی سے دوری اختیار کرتا ہے تو ذہنی دھند کا احساس کم ہوتا ہے جبکہ ایک سے 2 ہفتے میں مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر میٹھے کا استعمال اعتدال میں رکھا جائے تو مزاج کو چڑچڑے پن سے بچانا ممکن ہوتا ہے۔
جسمانی وزن میں کمی

مزید پڑھیں  امریکا نے پاکستان، طالبان کی شکایات جائز قرار دے دیں

ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ چینی کا استعمال کسی لت کی طرح ہوتا ہے اور تبدریج اس میں کمی لانا ممکن ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ہم کیلوریز کم استعمال کرتے ہیں اور جسمانی وزن کم ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ریفائن چینی کے استعمال کی صورت میں جسم عام طور پر پیٹ بھرنے کا سگنل دے نہیں پاتا جس کے نتیجے میں حد سے زیادہ کھالیا جاتا ہے جو موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔ اگر میٹھے کا استعمال اجناس سے بدل دیا جائے تو ہارمون قدرتی طور پر ریگولیٹ ہونے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں کمی بغیر کوشش کے ممکن ہوجاتی ہے۔
موسمی بیماریوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے

چینی شدید ورم کا باعث بنتی ہے جس سے جسمانی دفاعی نظام کی موسمی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے۔ جب چینی کا استعمال ترک کیا جاتا ہے تو موسمی بیماریاں جیسے نزلہ، زکام یا بخار وغیرہ کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے جبکہ الرجی اور دمہ کی علامات سے تحفظ بھی ملتا ہے۔
ذیابیطس سے تحفظ

مزید پڑھیں  سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ زیادہ میٹھا کھانا ذیابیطس کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے، اس سے دوری اختیار کرنا جسمانی افعال کو اپنا کام کرنے میں مدد دیتا ہے، چینی سے دور ہونے کے محض چند گھنٹوں بعد ہی لبلبہ کم انسولین تیار کرنے لگتا ہے جبکہ جگر جسم میں جمع زہریلے مواد کو صاف کرنے لگتا ہے۔ اگر کوئی فرد انسولین کی مزاحمت (ذیابیطس سے پہلے کی علامت) تو اس عمل میں کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے، 5 ہفتوں میں ذیابیطس کی ابتدائی علامات سے نجات ممکن ہوجاتی ہے۔
لمبی زندگی

میٹھی غذائیں کھانے کے بعد گلوکوز کی سطح بڑھتی ہے، جس کی وجہ سے انسولین کی سطح بھی بڑھتی ہے تاکہ اسے کنٹرول کرسکے،۔ ایسا ہونے پر اعصابی نظام کا وہ حصہ متحرک ہوتا ہے جو بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن بڑھاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر امراض قلب کی بنیادی وجہ ہے جبکہ ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔ اسی طرح چینی جسم میں نقصان دہ چربی کے خلیات کو بھی بڑھاتی ہے جس سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
دانت جگمگانے میں مدد

مزید پڑھیں  عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیریے

میٹھا کھانے کی عادت سے جسم کے دیگر حصے متاثر ہو یا نہ ہو، مگر دانتوں پر ضرور اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چینی کیوٹیز کا خطرہ بڑھاتی ہے جبکہ منہ میں ایسے بیکٹریا کی تعداد بڑھتی ہے جو دانتوں کی فرسودگی کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح چینی زیادہ کھانا ایسے بیکٹریا کی تعداد بھی بڑھاتا ہے جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں اور چینی چھوڑ کر دانتوں کی صحت کے ساتھ ساتھ سانس کی بو کے مسئلے سے بھی فوری طور پر بچا جاسکتا ہے اور یہ وقت کے ساتھ مزید بہتر ہوتا ہے۔
اچھی نیند

اگر میٹھا زیادہ کھانے کے عادی ہوں خصوصاً سونے سے کچھ دیر پہلے، تو اسے رات کی اچھی نیند کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ سونے سے پہلے کچھ میٹھا کھانے پر کچھ دیر بعد بلڈشوگر لیول نیچے گرتا ہے جبکہ پسینے کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ میٹھی غذائیں تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز کو زیادہ متحرک کردیتے ہیں، جس سے سونے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر میٹھا چھوڑ دیں تو 2 سے 3 دن میں نیند کا معیار بہتر ہوجاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں