ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سویلین بالادستی

پاکستان کی سیاسی قوتوں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ المعروف خلائی مخلوق کے درمیان اکھاڑ پچھاڑ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے فوراً بعد سے شروع ہوگئی تھی جو آج لگ بھگ 70 سال گزر جانے کے باوجود بھی جاری و ساری ہے۔ پاکستان کی داخلی، خارجی و دفاعی پالیسی سازی میں ملٹری کا غالب لیکن پس پردہ کردار ایک کھلا راز ہے۔ جمہوریت اور سویلین بالادستی کے علمبردار اس کردار کو حدود سے تجاوز اور سول حکومت کے دائرہ اختیار میں مداخلت تصور کرتے ہوئے عسکری اداروں کو سول حکومت کے عملاً ماتحت دیکھنا چاہتے ہیں۔ سطحی تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی یہ خواہش کچھ ایسی ناجائز بھی نہیں کیونکہ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے منتخب کردہ نمائندوں ہی کو ملکی نظم و نسق چلانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ آئین پاکستان کی شق 245 میں بھی افواج پاکستان کا کردار واضح طور پر سرحدوں کی حفاظت تک ہی محدود ہے تاوقتیکہ سول حکومت کسی غیر معمولی یا ہنگامی حالت سے نمٹنے کےلیے خود ان کی خدمات طلب نہ کرے۔ حدود اور کردار طے ہو جانے کے باوجود بھی سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کی کیا وجوہ ہیں؟ اسکا جائزہ لینے کےلیے ذرا گہرائی میں جانا ہوگا۔

’’پاکستان کی مسلح افواج‘‘ پاکستان کا ایک انتہائی منظم وفاقی ادارہ ہے جس کی پیشہ ورانہ مہارت، اہلیت اور قابلیت کسی شک و شبہ سے بالاتر اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ اس ادارے کے اولین فرائض میں ہر قیمت پر وطن کی سالمیت اور بقا کا تحفظ کرنا ہے چاہے اس کےلیے جان ہی کیوں نہ قربان پڑے۔ ایک سپاہی کی تربیت روز اول سے انہی خطوط پر اس وقت تک کی جاتی ہے جب تک کہ فرض کی بجا آوری ہر شئے سے مقدم قرار پاکر اس کے خانہ لاشعور میں نہ بیٹھ جائے۔ پاکستان کا یہ ادارہ وزارت دفاع کے ماتحت کام کرتا ہے جس کی سربراہی وزیراعظم پاکستان کی منتخب کردہ کابینہ کے رکن کسی سویلین وزیر دفاع کے پاس ہوتی ہے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے لیکن گڑبڑ دراصل اس سے آگے شروع ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں  الودع نواز شریف: اسحاق ڈار نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل ترین فیصلہ کر لیا

ہمارا ایک المیہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی تبدیلی اور نئے تجربات سے خوف کھاتے ہیں۔ ہم حالات کو جوں کا توں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی اسی کوشش اور سوچ کے زیر اثر ہم بار بار ایسے سیاسی نمائندگان کو منتخب کرکے پارلیمان میں پہنچاتے ہیں جن کی اکثریت جدیدیت سے بے بہرہ اور عصر حاضر کے تقاضوں سے نابلد ہے۔ جن کے انتخابی عمل میں کم سے کم تعلیمی اہلیت کی کچھ پابندی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایک انگوٹھا چھاپ بھی اسمبلی کی رکنیت کےلیے اہل قرار پاتا ہے۔ دور کیا جانا، آپ حال ہی میں اپنی مدت پوری کرکے تحلیل ہونے والی قومی اسمبلی کے اراکین ہی کا جائزہ لے لیجیے، ان میں سے اکثریت ایسی ہوگی جو 80 یا 90 کی دہائی میں سیاست میں وارد ہوئے اور آج تیس چالیس سال بعد بھی میدان چھوڑنے کو تیار نہیں؛ اور نہ ہی کوئی ایسا قانون موجود ہے جو ان کی انتخابی مدت پر کوئی قدغن لگائے۔

ایسے میں کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ انہی اراکین میں سے منتخب کردہ فرسودہ اور سطحی سوچ کا مالک کوئی وزیر دفاع، عالمی معیار کے عسکری تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل، انتہائی منظم، تربیت یافتہ اور پیشہ ورانہ مہارت کے حامل باوردی افسران سے اپنی بالادستی تسلیم کروا سکتا ہے؟ دفاع میں دفاعی حکمت عملی کا ایک کلیدی کردار ہوتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسا کوئی شخص ملکی دفاع کی باریکیوں اور نزاکتوں کو مدنظر رکھ کر ملکی دفاعی حکمت عملی ترتیب دینے میں اپنا کوئی کردار ادا کرسکے؟ کیا ایسا کوئی شخص ہر آن بدلتے عالمی و علاقائی جغرافیائی حقائق کا ٹھیک ٹھیک ادراک رکھنے کا اہل ہوسکتا ہے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں  دانیال عزیز کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب غیر تسلی بخش قرار ،13،مارچ کو دانیال عزیز پر فرد جرم عائد کی جائیگی،سپریم کورٹ

عالمی سطح پر درپیش چومکھی چیلنجوں کی تو بات ہی الگ، ملکی داخلی سطح پر سول قیادت کی بدترین نااہلی کی لاتعداد مثالوں میں سے حالیہ مثال کسی بھی قسم کے اسلحے کے بغیر صرف لاٹھیوں سے مسلح مذہبی انتہا پسندوں کے ایک جتھے کا دارالحکومت اسلام آباد کی دہلیز پر دیا گیا فیض آباد دھرنا ہے جس نے آناً فاناً سارے ملک میں نظام زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا۔ ریاست بے بسی و لاچاری کی تصویر اور داخلی سلامتی کے ذمہ دار، تجربے اور قابلیت کے زعم میں ہنوز مبتلا، وزیر بےتدبیر اپنی خفت مٹاتے نظر آئے۔ بالآخر یہاں ایک خالصتاً سیاسی تنازع میں افواج پاکستان ہی کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا پڑا۔

ایک اور مثال پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی ہے جو انہی سیاسی سول قوتوں کی باہم سیاسی رسہ کشی اور سول انتظامیہ کے ماتحت پولیس کی شرمناک ناکامی کے باعث کسی جہنم کا منظر پیش کررہا تھا۔ یہاں بھی ریاست دشمن عناصر کی بیخ کنی کےلیے فوج ہی کی ذیلی شاخ پاکستان رینجرز نے اپنا کردار کامیابی سے ادا کیا اور کراچی کو اس کا امن واپس لوٹایا۔ دشوار گزار اور شورش زدہ قبائلی علاقوں سمیت ملک کے طول و عرض میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب افواج پاکستان کی کامیابیوں کی ایک اور حیرت انگیز داستان ہے۔ یہ حقائق اس بات کے عکاس ہیں کہ افواج پاکستان نہ صرف آئین میں طے کردہ سرحدی حفاظت کا فریضہ بحسن و خوبی نباہ رہی ہیں بلکہ سول اداروں کی نااہلی کے نتیجے میں ملکی سلامتی کو لاحق ایسے اندرونی خطرات سے بھی نبرد آزما ہیں جن سے نمٹنا سو فیصد سول حکومتوں اور ان کے ماتحت اداروں کی ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھیں  ‘سازش کرنے والوں کو سنگین غداری کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا‘

سویلین بالادستی کا دن رات پرچار کرنے والوں کےلیے شرم کا مقام ہے کہ وہ خود تو زبانی جمع خرچ سے ہی آگے نہ بڑھ پائے اور ایک مرتبہ پھر ایک سابق فوجی حکمران ہی آئینی اصلاحات متعارف کروا کر اس ضمن میں بھی سبقت لے گیا۔ رکن قومی اسمبلی یا سینیٹر منتخب ہونے کےلیے تعلیمی اہلیت کم از کم گریجویشن اور وزارت عظمی کی مدت دو بار تک محدود کرنے کی آئینی ترامیم انتہائی قابل تحسین تھیں لیکن افسوس کہ ملک و قوم اور خود پارلیمان کےلیے دور رس افادیت و ثمرات کی حامل ان ترامیم کو بھی سویلینز نے اپنے وقتی اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر پارلیمان کو دوبارہ انہی مفاد پرستوں اور ٹھگوں کی آماجگاہ بنا دیا۔ جمہوری تسلسل ان ترامیم کے ساتھ جاری رہتا تو یقیناً پارلیمان ہی کی مضبوطی و بالادستی پر منتج ہوتا۔ المیہ ہے کہ ایک جاہل یا واجبی تعلیم رکھنے والے، بددیانتی کی علامت، ملت فروش سیاستدان کو سیاست کے نام پر پیشہ ورانہ بندشوں میں پابند ایک ایسے بے زبان ادارے پر دشنام طرازی کی کھلی چھوٹ حاصل ہے جو اللہ کے بعد اس بدقسمت پاکستان کی سلامتی کی آخری امید ہے۔ اگر سویلین بالادستی اسی دشنام طرازی و زبان درازی کا نام ہے تو خدا کرے ایسی سویلین بالادستی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو، آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں