غلط کاغذ دینا جرم، دہری شہریت پر بیان غلط نکلا تو کوئی نہیں بچے گا، سپریم کورٹ

اسلام آباد(نمائندہ جنگ)عدالت عظمیٰ نے دہری شہریت کے حامل سرکاری افسران کو اپنی دہری شہریت ظاہر کرنےکیلئے 10 دن کی آخری مہلت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دہری شہریت ظاہر کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی، لیکن اگراس حوالے سے کوئی غلط بیانی کی گئی توکوئی نہیں بچے گا،کیونکہ عدالت میں غلط دستاو یز دیناجرم ہے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے جمعرات کے روزاعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اعلیٰ فسران کی دہری شہریت سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی توسیکرٹری اسٹیبلشمنٹ عدالت میں پیش ہوئے اور رپورٹ پیش کی کہ 3500 اعلیٰ سرکاری افسران میں سے 13 سرکاری افسران دہری شہریت کے حامل ہیں، انہو ںنے بتایا کہ ڈی ایم جی کے 864 افسران میں سے 853 افسران نے جواب جمع کرا دیا ، آفس مینجمنٹ گروپ کے 469 افسران میں سے 455 نے جواب دیا ہے ، سیکرٹر یٹ گروپ کے 483 میں سے 482 افسران نے جواب د یا ہے ، پولیس سروسز کے 828 میں سے 826 افسران نے جواب جمع کرا دیا ہے جبکہ پولیس گروپ کے گریڈ 19 کے افسر تنویر احمد اور گریڈ 18 کے افسر فدا حسین نیب کی تحویل میں ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ دہری شہریت کی کوئی سزا نہیں ،لیکن اگر کسی نے درست کوائف جمع نہیں کرائے تو اس کے قانونی نتائج ہوسکتے ہیں، عدالت میں غلط دستاویزات دینا جرم ہے، جسٹس ثاقب نثار نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ 3500 اعلیٰ افسران میں سے صرف 13 لوگ ہی دہری شہریت کے حامل ہیں؟ پتہ نہیں کتنے ایسے ہوں گے، جنہوں نے اپنی دہری شہریت ظاہر نہیں کی ہے اور حساس مقامات پر تعینات ہیں، حساس مقامات پر دہری شہریت کے حامل لوگوں کی تعیناتی پاکستان کے مفاد میں نہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جن افسران نے دہری شہریت ظاہر کی ہے ان کا شکریہ، جنہوں نے ظاہر نہیں کی ان پر چپ نہیں بیٹھیں گے، عدالت نے قرار دیا کہ دہری شہریت کے حامل افسران کو شہریت ظاہر کرنےکیلئے 10 دن کی آخری مہلت دی جاتی ہے، عدالتی حکم عدولی کی صورت میںان کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انہوں نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے دہری شہریت چھپائی ہے تو اس کی تحقیقات کون کرے گا؟ جس پر انہوں نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید نادرا کرسکے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ان کے اپنے بھی بہت سے افسردہری شہریت کے حامل ہوں، آپ شاید بھائی بندی کی وجہ سے بھی اس معاملے کو حل نہیں کررہے

مزید پڑھیں  پرستان سے واپسی

اپنا تبصرہ بھیجیں