عمران، گھر کا سرٹیفکیٹ جعلی، بنی گالہ میں تعمیر کیلئے درخواست دی،نقشہ نہیں دیا

اسلام آباد (رپورٹ :رانا مسعود حسین ) سابق سیکرٹری یونین کونسل بہارہ کہو محمد عمر نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے بنی گالہ کے گھر کے این او سی کو جعلی قرار دیدیا، عدالت عظمی ٰمیں بنی گالا میں ناجائز تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات سے متعلق زیر سماعت مقدمہ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تحریری رپور ٹ جمع کروادی ہے، رپورٹ میں بنی گالہ میں عمران خان کے گھر کے نقشے اور این او سی کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بنی گالہ میں عمران خان کے گھر کی تعمیر کیلئے کوئی این او سی جاری نہیں کیا گیا،کمپیوٹرائزاین اوسی سرکاری نہیں، جبکہ عدالت کو فراہم کی گئی دستاویز پر تحریر بھی یونین کونسل کی نہیں ہے۔ سابق سیکرٹری یوسی بہارہ کہومحمدعمرکا بیان میں کہنا ہے کہ عمران خان سے درخواست پر مزید کارروائی کیلئے نقشہ طلب کیا گیا تھا لیکن فراہم نہیں کیا، عدالت کو دی جانے والی دستاویز پر تحریر بھی یونین کونسل کی نہیں۔ بدھ کے روزعدالت میں جمع کروائی گئی 13صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے بیان کیا گیا ہے کہ یونین کونسل بہارہ کہو کے سابق سیکرٹری محمد عمر نے اپنے بیان میں بنی گالہ گھر کے این او سی کو جعلی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 2003 میں یو سی بہارہ کہومیں بطور سیکرٹری تعینات تھے اور اس دوران یونین کونسل نے بنی گالہ میں عمران خان کے گھر کی تعمیر کیلئے کوئی این او سی جاری نہیں کیا ،جبکہ عدالت کو فراہم کی گئی دستاویز پر تحریر بھی یونین کونسل کی نہیں ہے،سابق سیکرٹری کے مطابق 2003 میں یونین کونسل کے دفتر میں کمپیوٹر کی سہولت ہی موجود نہیں تھی اس وقت یونین کونسل کے تمام امور ہاتھ سے نمٹائے جاتے تھے۔ سابق سیکرٹری نے کہا کہ عمران خان سے درخواست پر مزید کارروائی کیلئے بنی گالہ کا نقشہ طلب کیا گیا تھا لیکن نقشہ فراہم نہیں کیا گیا جسکے بعد مزید کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، دوسری طرف 1987 سے 1991 تک چیئرمین یونین کونسل رہنے والے محمد یعقوب ملک نے بھی کہا ہے کہ میں نے نہ تو عمران خان کی زمین کا نقشہ پاس کیا اور نہ ہی کوئی این او سی جاری کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جو لیٹر عدالت میں پیش کیا گیا ہے وہ ان کے دستخطوں سے جاری ہوا وہ دستخط انہی کے ہیں لیکن کسی نے دستخط شدہ کاغذ کو کسی طرح آفس سے حاصل کرکے مضمون تیارکیا ہے جس پر ان کانام بھی درست نہیں لکھا گیا ہے ، یاد رہے کہ سی ڈی اے نے مئی 2017 میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ میں بنی گالہ کی 122 عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا ،جن میں عمران خان کی بنی گالہ کی رہائشگاہ بھی شامل ہے، سی ڈی اے نے اپنی رپورٹ میں عمران خان کے بنی گالہ کے گھر کی تعمیرات کو خلاف قانون قرار دیا تھا،جس پر 13 فروری2018کو سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل کوان کی بنی گالہ کی رہائشگاہ کی تعمیرات سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا اورفاضل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خبردار کیا تھا کہ اگر بنی گالہ میں ہونیوالی تعمیرات سی ڈی اے کے قوانین کے مطابق نہ ہوئیں تو انہیں گر ا دیا جائیگا،جس پر کیس کی 22فروری 2018 کی سماعت کے موقع پر ،عمران خان کی جانب سے گھر کے نقشے کی دستاویزات عدالت میں پیش کی گئیںتو ا یڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا تھاکہ انہوں نے بنی گالا کی دستاویزات سے متعلق یونین کونسل بارہ کہو کا ریکارڈ چیک کروایاہے، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عمران خان نے 1999 سے آج تک سائٹ پلان کی منظوری نہیں لی ،جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا تھاکہ یونین کونسل بہارہ کہوکااین او سی 1990 کا ہے،انکے موکل نے زمین خریداری کی فیس 2002 میں ادا کی اور 250 کنال اراضی پر گھر کی تعمیر کیلئےنقشہ یونین کونسل میں جمع کرایا تھا اور 2003 میں سرٹیفکیٹ بھی موصول ہوا تھا، عدالت کے استفسارپرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھاکہ ہم ریکارڈ دیکھ کر ہی بتا سکتے ہیں ، جس پر چیف جسٹس نے ا یڈیشنل اٹارنی جنرل کو ایک ہفتے کے اندر عمران خان کے بنی گالہ کے گھر کی تعمیر کے سائٹ پلان اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی تصدیق کرانے کا حکم جاری کرتے ہوئےعمران خان کو حفظ ماتقدم کے تحت 20 لاکھ روپے سی ڈی اے کے پاس جمع کرانے کا مشورہ بھی دیاتھا۔

مزید پڑھیں  پاکستان میں میکرو اکنامک خطرات بڑھ رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں