شہباز شریف بلامقابلہ مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب

اسلام آباد: وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا گیا۔
پارٹی صدر کے عہدے کے لیے آج صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کاغذات نامزدگی وصول کرنے کا وقت مقرر تھا تاہم شہباز شریف کے علاوہ کسی دوسرے ممبر نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائی۔
شہبازشریف کے کاغذات نامزدگی پر چاروں صوبوں کے تائید و تجویز کنندگان کے دستخط موجود تھے، بعد ازاں جنرل کونسل اجلاس میں باضابطہ طور پر ان کے صدر بننے کا اعلان کردیا گیا۔
’ نیازی اور زرداری مل کر بھی ہم پر بھاری نہیں ہوسکتے‘
مسلم لیگ (ن) جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ میرے لیے یہ اہم اور مشکل لمحہ ہے کہ مجھے مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب کیا گیا ہے کیونکہ مجھے ایک ایسے منصب پر کام کرنے کے لیے کہا جارہا ہے، جس سے 30 برس تک میں نے رہنمائی حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت پارٹی کا کوئی بھی رکن نواز شریف کی جگہ لینے کا تصور نہیں کرسکتا، وہ کل بھی ہمارے قائد تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کے عوام کے لیے خوشخبری ہے کہ انہیں نواز شریف جیسا قائد نصیب ہوا اور یہ وہی واحد رہنما ہیں جنہیں قائد اعظم کا وارث قرار دیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی دھماکوں کے ذریعے ملکی دفاع کو نا قابل تسخیر بنانے کے لیے نواز شریف نے لاکھوں امریکی ڈالر کی آفر کو ٹھکرا دیا تھا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ وہ اقدام ہے جو بانیان پاکستان کے بعد نواز شریف کو ملک کا مدبر رہنما تسلیم کرنے کے لیے مجبور کردے گا۔
ان کا کہنا تھا میرے لیے اس سے بڑا اعزاز کچھ نہیں کہ نواز شریف نے مجھے اپنے منصب پر فائز کرنے کے لیے چنا ہے لیکن میرا دل و دماغ یہی سوال کررہے ہیں کہ کیا کوئی اور نواز شریف کی جگہ لے سکتا ہے؟
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے نواز شریف کی سرپرستی، کارکنوں اور عوام کے تعاون پر بھروسہ ہے اور مجھے تقریباً 30 برس سے زیادہ مسلم لیگ (ن) اور عوام کی خدمت کا موقع ملا۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کارکنان ہماری جماعت کا سرمایہ ہیں انہوں نے قربانیاں دے کر قائد اور جماعت سے وفاداری کا ثبوت دیا ہے اور میں ان کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا جانتی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی اور انہیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا لیکن مجھے یقین ہے کہ ایک دن ان سب زیادتیوں کا ازالہ ہوگا اور سازشیں کرنے والے بے نقاب ہوں گے۔
کنونشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ تمام دکھوں کا مداوا قائد اعظم اور علامہ اقبال کے نظریات کے تحت پاکستان کو ایک عظیم فلاحی ریاست بنانے میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمارے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے اور ہم نے تمام ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے اور چاہے کتنے بھی گٹھ جوڑ ہوں لیکن ’ نیازی اور زرداری مل کر بھی ہم پر بھاری‘ نہیں ہوں گے۔
عوام نے آئندہ انتخابات کو ریفرنڈم بنانا ہوگا، نواز شریف
بعد ازاں مرکزی جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ہمارے لیے پیدا کی گئی اور ہمیں نیا پارٹی سربراہ منتخب کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں عوام نے مجھے پاکستان کا وزیر اعظم بنایا اور عوام نے کروڑوں ووٹ دے کر مجھے منتخب کیا۔
عوام کروڑوں ووٹ دے کر ایک وزیراعظم منتخب کرتے ہیں جو دن رات قوم کے بارے میں سوچتا ہے جبکہ جب ملک میں لوڈشیڈنگ کا دور شروع ہوجائے تو اس کو ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ 4 سالوں میں لوڈشیڈنگ کو ختم کردی جائے، دنیا بھر میں ایسی مثال نہیں ملتی لیکن ہم نے دن رات محنت کرکے لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ نواز شریف نے اتنے منصوبے لگائے کہ میں ان کا افتتاح کر کر کے تھک گیا ہوں اور روزانہ نئے منصوبوں کا افتتاح کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے شہباز شریف نے 10 سال میں پنجاب میں کیا کیا؟ میں انہیں بتایا چاہتا ہوں کہ شہباز شریف نے 10 سال میں جو کام کیا وہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ 4 سال پہلے جو پاکستان کا منظر تھا وہ آپ کے سامنے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر یہاں دھماکے ہوتے تھے اور خون بہایا جاتا تھا اور پاکستان مشکل وقت سے گزر رہا تھا لیکن ایسے وقت میں منصب سنبھالنا بہت بڑا چیلنج تھا۔
نواز شریف نے کہا کہ اس وقت خزانہ خالی تھا اور ایک منصوبے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے لیکن ہم نے اس چیلنج کا مقابلہ کیا اور ملک میں منصوبے لگائے اور ہم نے وعدہ کیا کہ ہم نے ملک کو ترقی دینی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ جو ہوا ہے اس کے بعد کسی منصوبے کا افتتاح کرنے کا دل نہیں چاہتا کیونکہ میں بھی انسان ہوں اور کبھی کبھی انسان مایوس ہوجاتا ہے لیکن جو ہمارا مشن ہے اس سے میں پیچھے نہیں جاؤں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مشن ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور پاکستان کے 70 سال جس طرح گزرے ہیں آئندہ کے 70 سال ایسے نہیں ہونے چاہیے اور میں کارکنوں اور عوام کو مجبور کروں گا کہ وہ اس میں ہمارے ساتھ ہوں۔
اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے منشور کا عنوان ’ووٹ کو عزت دو‘ ہوگا اور ووٹ کو عزت دینے کا مطلب ہے عوام کو اور اس کے مینڈیٹ اور اس کی حکمرانی کو عزت دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میری ذات کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ میرے سامنے اس ملک، قوم اور کارکنوں کی حیثیت ہے اور میں کروڑوں لوگوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے اپنی ذات کے لیے کوئی لالچ نہیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ووٹ کی عزت ہوگی تو ملک کی عزت ہوگی اور عوام کے مینڈیٹ کی عزت ہوگی اور یہ عزت آئندہ 2018 کے انتخابات میں ہوگی اور عوام نے اس انتخابات کو ریفرنڈم بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے کیس جرم کی سزا نہیں بھگت رہا بلکہ یہ مقدمے اس لیے درج کیے گئے ہیں کیونکہ میں ووٹ کی عزت، پاکستانیوں کی عزت اور روزگار کی بات کرتا ہوں، یہ مقدمے اس لیے ہیں کہ میں پاکستان کی ترقی چاہتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں میرا ایجنڈا صرف پاکستان اور پاکستان کی ترقی ہے اور جو میں مشن کرتا ہوں اس کو تکمیل تک پہنچاتا ہوں۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عوام جس کو ووٹ دیتی ہے وہی لوگوں کے دلوں میں کٹھکتا ہے اور مجھے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں بلکہ مجھے قوم کی آن کی فکر ہے۔
چیئرمین سینیٹ انتخاب کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز جو ہوا وہ آپ سب نے دیکھا اور بنی گالہ اور بلاول ہاؤس والے اور خیبرپختونخوا والے ایک ہی جگہ جا کر سجدہ ریز ہوگئے اور یہ سب چابی والے کھلونے ہیں۔
انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قوم جانتی ہے کہ وہ جھوٹے اور منافق ہیں اور لوگ جانتے ہیں کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے اور قوم اس طرح کے لیڈر کو نہیں مانتی اور وہ جانتی ہے کہ آپ لوگ جیت کر بھی ہار گئے اور ہم لوگ ہار کر بھی جیت گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھوتہ کرنے والے نہیں ہیں اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر پاکستان کو بیچنے والے لوگ نہیں ہیں ہم اس ملک کے لیے لڑنے والے ہیں لیکن یہ لوگ اپنے مفاد کےلیے آپ کو بھی بیچ دیں گے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم کسی اور کی بارگاہ میں نہیں جھکتے بلکہ صرف اللہ کی بارگاہ میں جھکتے ہیں اور ہم ان انتخابات کو ریفرنڈم بنائیں گے اور پاکستان کی تقدیر کو بدلیں گے اور ملک کے مستقبل کو نکھاریں گے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ برس 28 جولائی کو شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔
بعدازاں عدالت عظمیٰ کی جانب سے 21 فروری کو انتخابی اصلاحات کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے بھی نااہل قرار دیا۔
جس کے بعد 27 فروری کو مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) نے اجلاس میں نواز شریف کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے شہباز شریف کو پارٹی کا ’قائم مقام‘ صدر منتخب کیا۔
اسی اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی مجلس عاملہ نے اجلاس کے دوران نواز شریف کو پارٹی کا تاحیات قائد منتخب کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

مزید پڑھیں  سونم کپور کی شادی 27 دن کے اندر ہونے کا امکان

اپنا تبصرہ بھیجیں