شریف خاندان کے خلاف کیسز میں ایک نئے مسئلہ نے سراٹھالیا

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں میزبان نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف کیسز میں ایک نئے مسئلہ نے سر اٹھا لیا،احتساب عدالت کے جج نے 14مارچ کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تمام ریفرنسز کو نمٹا کر فیصلہ سنانا ہے،12مارچ کو جج محمد بشیر ریٹائر ہونے والے ہیں جس کی وجہ سے نئی بحث شروع ہو گئی۔شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز میں کارروائی تیزی سے جاری ہے، ساتھ ہی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ احتساب عدالت مقررہ وقت میں نیب کی جانب سے دائر کردہ عبوری اور ضمنی ریفرنسز کو نمٹا کر فیصلہ سناپائے گی یا نہیں، سپریم کورٹ کی دی گئی ڈیڈ لائن میں صرف تیرہ دن رہ گئے ہیں جبکہ شریف خاندان کے خلاف کیس سننے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر بارہ مارچ کو ریٹائر ہورہے ہیں یعنی ڈیڈ لائن سے ایک دن پہلے ہی ان کی مدت ملازمت پوری ہوجائے گی تو کیا احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ سنادیں گے یا ان کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کی جائے کیونکہ اگر احتساب عدالت کے جج ریٹائر ہوجاتے ہیں اور اس مدت میں فیصلہ بھی نہیں سناپاتے اور ایک نیا جج آئے گا تو کیا نواز شریف کیخلاف نیب ریفرنسز میں ازسرنو سماعت کا آغاز ہوگا، دوسری طرف جج محمد بشیر کی توسیع کا معاملہ بھی سرکاری سطح پر اٹھ چکا ہے، یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ نیب نے ضمنی ریفرنس دائر کر کے اس کیس کو مزید پیچیدہ تو نہیں کردیا، احتساب عدالت تیزی سے کام کررہی ہے، طویل سماعتوں میں گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جارہے ہیں۔ آج بھی احتساب عدالت میں نیب کی جانب سے العزیزیہ اور فلیگ شپ کے دو ضمنی ریفرنسز پر سماعت ہوئی جس میں سولہ گواہوں میں سے آج پانچ گواہوں کو بیان قلمبند کیا گیا اور جرح بھی مکمل کرلی گئی، ان دونوں ریفرنسز میں مزید تین گواہوں کے بیانات کل قلمبند کیے جائیں گے، یعنی کل کے دن العزیزیہ اور فلیگ شپ کے ضمنی ریفرنسز میں آدھے گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوجائیں گے، ایک طرف آج گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے تو دوسری طرف احتساب عدالت میں ایک بار پھر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کے درمیان تلخی دیکھنے میں آئی، آج احتساب عدالت میں خواجہ حارث کی جانب سے گواہوں سے جرح کے دوران نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر نے مداخلت کی جس پر خواجہ حارث نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرائل ایسے چلانا ہے تو پھر میں جارہا ہوں، پہلے بھی کہا تھا کہ ریکارڈنگ کریں میں نے بھی کسی کو بتانا ہے کہ یہ ٹرائل کیسے ہورہا ہے، ٹرائل کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے میں غیرضروری مداخلت برداشت نہیں کروں گا جس پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ آپ برداشت کریں نہ کریں میں اعتراض کروں گا، آپ نے بھاگنا ہے تو بھاگ جائیں، جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کا اعتراض مسترد کرتا ہوں، کل کی سماعت میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے کے حوالے سے بھی احتساب عدالت میں درخواست دی گئی، اہم بات یہ ہے کہ کل ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہونی ہے جس میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء اور تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا اور خواجہ حارث ان پر جرح کریں گے، اس حوالے سے آج خواجہ حارث نے استدعاکی کہ بہتر ہوگا کہ واجد ضیاء پر تینوں ریفرنسز میں ایک ساتھ جرح ہو لیکن عدالت نے اس پر کوئی فیصلہ نہیں سنایا، کل یہ بات بھی طے ہوجائے گی کہ واجد ضیاء پر تینوں ریفرنسز میں ایک ساتھ جرح کی جائے گی یا الگ الگ جرح کی جائے گی، یہ معاملہ بہت اہم ہے کیونکہ وقت کم ہے ، اگر تینوں ریفرنسز میں الگ الگ جرح ہوئی تو عدالت کو کارروائی پوری کرنے میں مزید دن درکار ہوں گے لیکن شریف خاندان کے وکیل کہہ رہے ہیں ایک ساتھ جرح کرنے دیجئے، واجد ضیاء سے خواجہ حارث کے ساتھ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے بھی جرح کرنی ہے جو طویل ہوسکتی ہے، کل کا دن نیب ریفرنسز کے حوالے سے سب سے اہم دن ہوگا۔شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ شریف خاندان کیخلاف کیسز میں ایک نئے مسئلہ نے سراٹھالیا ہے، وہ مسئلہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی ریٹائرمنٹ کا ہے، احتساب عدالت کے جج نے 14مارچ کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تمام ریفرنسز کو نمٹا کر فیصلہ سنانا ہے لیکن بارہ مارچ کو جج محمد بشیر ریٹائر ہونے والے ہیں جس کی وجہ سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے کہ جج محمد بشیر بارہ مارچ تک فیصلہ سناسکیں گے یا نہیں یا ان کو اس عہدے پر فائز رہنے کیلئے مزید توسیع دی جائے گی، اس حوالے سے سرکاری سطح پر کام بھی شروع ہوگیا ہے، قومی احتساب آرڈیننس کے مطابق احتساب عدالت کے ججوں کی تقرری وزارت قانون و انصاف کے ذریعہ صدر پاکستان، وزیراعظم یا وفاقی حکومت کرتی ہے، اس تقرری کیلئے متعلقہ اداروں کو ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کرنی ہوتی ہے، اس حوالے سے ابتدائی مراحل طے ہوچکے ہیں، 21 فروری کو وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکی جگہ چند نام تجویز کرنے کی درخواست کی، اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے 24فروری کو خط کا جواب دیا اور ججوں کی کمی کا حوالہ دے کر احتساب عدالت کے محمد بشیر کو ایک دفعہ پھر توسیع دینے کی سفارش کی، اب صرف دو صورتحال پیدا ہوسکتی ہیں، وزارت قانون و انصاف اگر اسلام آباد ہائیکورٹ کی سفارش کے مطابق عمل کرتی ہے تو ممکنہ طور پر اگلے تین سال کیلئے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ہی ہوں گے اور وہی فیصلہ سنائیں گے،جج محمد بشیر کو توسیع ملنے کا یہ دوسرا واقعہ ہوگا وہ پہلے بھی توسیع لے چکے ہیں، 2015ء میں بھی جج محمد بشیر کو تین سال کیلئے توسیع دی گئی تھی، اگر جج محمد بشیر کو توسیع نہیں ملی تو انہیں مقررہ وقت پر فیصلہ سنانا ہوگا جو نیب کے دائر کردہ ضمنی ریفرنس کی وجہ سے تاحال مشکل لگ رہا ہے، اگر جج محمد بشیر فیصلہ سنانے سے پہلے ریٹائر ہوجاتے ہیں تو کیا نواز شریف کیخلاف نیب ریفرنسز کی ازسرنو سماعت ہوگی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کا کردار اہمیت اختیار کرگیا ہے، جج محمد بشیر نے نواز شریف، آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف جیسی شخصیات کے کیسز سنے ہیں اور نیچے کی عدالتوں میں محمد بشیر سب سے سینئر جج بھی سمجھے جاتے ہیں تو کیا ایک بار پھر جج محمد بشیر کو توسیع دی جائے گی اور وہ نو سال تک احتساب عدالت کے جج رہ پائیں گے ، اس کا فیصلہ کرنا بہت اہم ہوگا کیونکہ آصف زرداری کے کیس کے حوالے سے ان کا فیصلہ بہت اہم ہے۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ چوبیس جنوری کے ایک ٹی وی پروگرام کے حوالے سے اب صورتحال کلیئر ہوگئی ہے، چوبیس جنوری کو ایک ٹی وی پروگرام میں قصور کی زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی سے متعلق سنسنی خیز دعوے کیے گئے، عمران علی کو عالمی مافیا کا ایجنٹ کہا گیا، اس کے بینک اکاؤنٹس کے بارے میں بتایا گیا، ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مجرم عمران علی کو ایک اہم وفاقی وزیر اور ایک حکومتی شخصیت کی سرپرستی حاصل ہے، اس دعوے نے پورے ملک میں سنسنی پھیلادی، سپریم کورٹ نے اس پروگرام کے اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوؤں کا نوٹس لے لیا اور پھر ان کے کہنے پر ایک جے آئی ٹی بھی بنائی جس نے آج اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی، ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی سربراہی میں بننے والی اس ٹیم میں ایڈیشنل آئی جی اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو اور جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو اسلام آباد انور علی بھی شامل ہیں، شاہد مسعود نے چوبیس جنوری کے اپنے پروگرام میں خود چیف جسٹس سے اپنے الزامات پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا، اس پروگرام میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ غلط ثابت ہوجائیں تو انہیں پھانسی لگادیا جائے، جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں زینب سمیت قصور کی بارہ بچیوں سے زیادتی کے مجرم عمران علی کے حوالے سے پروگرام اینکر کے تمام اٹھارہ الزامات کو غلط قرار دیدیا ہے۔

مزید پڑھیں  معروف پاکستانی اداکارہ سجل علی کی نازیبا تصویر منظر عام پر ۔۔ تصویر لنک میں

اپنا تبصرہ بھیجیں