سول و عسکری قیادت میں ‘خارجہ پالیسی کا جائزہ’ لینے پراتفاق

اسلام آباد: وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اجلاس میں خطے میں دوست ممالک کے ساتھ بہتر شراکت داری بڑھانے کے لیے ’خارجہ پالیسی کا جائزہ‘ لینے اور دہشت گردی کےخلاف جاری جنگ کو قومی مفاد کے تناظر میں دیکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعظم ہاؤس میں جاری عالمی و علاقائی صورتحال سے متعلق اجلاس کے بعد ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کمیٹی میں خطے کے پڑوس ممالک کے ساتھ مزید بہترتعلقات کے لیے خارجہ پالیسی کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا گیا‘۔
واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس امریکا کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرنے کی کوششوں کے بعد منعقد ہوا۔
واضح رہے کہ امریکا نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ارکان ممالک پر دباؤ ڈالا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے معاون ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے تاہم وزیر خارجہ خواجہ آصف نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ عالمی نگراں ادارے نے پاکستان کو منی لانڈرنگ قوانین میں سختی اور انسداد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے موثر حکمت عملی اپنانے کے لیے 3 ماہ کی مہلت دی ہے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر دفاع خرم دستگیر، وزیراعظم کے معاون خصوصی مفتاح اسمٰعیل، چیئرمین جوائنٹ کمیٹی جنرل زبیر حیات اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔
اعلیٰ سول اور عسکری قیادت پر مشتمل کمیٹی نے اتفاق کا اظہار کیا کہ خطے میں دوست ممالک سمیت دیگر ملکوں سے اقتصادی شراکت داری بڑھانے کےلیے نئے اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔
تاہم بہتر اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لیے اقدامات سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
این ایس سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ’انسدادِ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور پالیسیوں کی تشکیل سازی اور نافذ العمل بناتے وقت قومی مفادات کو اولین ترجیح حاصل ہو گی‘۔
اعلامیے میں زور دیا گیا کہ ’افغانستان کے ساتھ مسلسل اور مستقل رابطوں کی اشد ضرورت ہے‘ اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے اور خاتمے کےلیے پاک افغان سرحد پر بارڈر مینجمنٹ سسٹم کا نفاذ اہمیت کا حامل ہے۔
این ایس سی میں یقین دہانی کرائی گئی کہ پاک چین اقتصادی راہداری (پی پیک) منصوبے کی کامیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے جو کہ خطے سمیت دیگر ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اجلاس میں وزیرخارجہ خواجہ آصف کی جانب سے روس کے حالیہ دورے کو خوش آئند قرار دیا۔
واضح رہے ماسکو میں 20 فروری کو روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے پاکستانی ہم منصب خواجہ آصف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں افغانستان میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں کی موجودگی اور بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ پر بہت تشویش ہے۔
ان کی جانب سے اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا تھا کہ روس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گا اور دونوں ممالک میں عسکری تعاون کےلیے کمیشن تشکیل دی جائے گا۔

مزید پڑھیں  شہباز شریف ن لیگ کے صدر، نواز شریف نے جاتی امرا میں آگاہ کردیا

اپنا تبصرہ بھیجیں