سوشل میڈیا پر آپ کی نگرانی ہو رہی ہے، اس سے بچا کیسے جائے؟

گزشتہ 2 دہائیوں کے درمیان ہماری زندگیوں میں انٹرنیٹ کی آمد کو خاص طور پر جمہوریت اور حقوق کے فروغ کی وجہ سے سراہا گیا ہے۔ یہ اظہار کرنے، دوسروں سے رابطے میں آنے اور بہت کم وقت میں بہت زیادہ معلومات حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔

اسی دوران ہمیں خود کو یہ مسلسل یاد دلانا ہوگا کہ انٹرنیٹ کا سستا اور اکثر مفت استعمال وہ کارپوریشنز ممکن بناتی ہیں جو دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ہیں، اور جن کے مالکان دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہمارا سوشل میڈیا کا مفت استعمال ان کارپوریشنز کے لیے زبردست آمدنی کا سبب کیسے بنتا ہے؟ تو جواب ہے اشتہارات کے ذریعے، اور سوشل میڈیا پر اشتہارات کیسے کام کرتے ہیں؟ بِگ ڈیٹا کہلائے جانے والی ہماری ذاتی معلومات کا تجزیہ کرکے۔ اس لیے ہمارا سوشل میڈیا کا مفت استعمال ان کارپوریشنز کو بے تحاشہ ڈیٹا فراہم کرتا ہے جو آج کے دور کا سونا ہے۔ کارپوریشنز اسے آگے افراد اور دیگر کمپنیوں کو فروخت کردیتی ہیں۔ انہیں اس ڈیٹا کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے تاکہ افراد کی آن لائن سرگرمیوں سے ان کی عادات کا اندازہ لگایا جاسکے اور پھر ان لوگوں کو ان کی دلچسپی کے اشتہارات دکھائے جاسکیں۔

کیمبرج اینالیٹیکا کمپنی (Cambridge Analytica) میں موجود ایک ذریعے کی جانب سے جاری کی گئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک محقق نے فیس بک پر شخصیت جانچنے کے ایک کوئز کے ذریعے 5 کروڑ فیس بک صارفین کی معلومات اکھٹی کیں۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ڈیٹا صرف تعلیمی و تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا مگر انہوں نے کیمبرج اینالیٹیکا کو یہ ڈیٹا 70 لاکھ ڈالر میں فروخت کردیا۔

اس کمپنی نے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی ذاتی پروفائلز کی بناء پر ان پر اشتہارات کی بارش کردی۔ ایسا اس کمپنی نے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران اپنے امریکی کلائنٹس کے لیے، برطانیہ میں بریگزٹ (BREXIT) کے دوران، کینیا کے صدارتی انتخابات میں اور ریاست بہار کے انتخابات میں کیا۔

مزید پڑھیں  کایلی جینر کے 18 الفاظ سے فیس بک کو 13 کھرب کا فائدہ

ہمیں خود کو یہ مسلسل یاد دلانا ہوگا کہ انٹرنیٹ کا سستا اور اکثر مفت استعمال وہ کارپوریشنز ممکن بناتی ہیں جو دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ہیں، اور جن کے مالکان دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ہیں۔

کیمبرج اینالیٹیکا لیکس سے مزید سوالات اٹھے ہیں، مثلاً پرائیویسی پر ذاتی حق، ہمارے ڈیٹا کا تحفظ، سوشل میڈیا کارپوریشنز کی ذمہ داریاں، اور انٹرنیٹ پر سیاسی اشتہار بازی کی اخلاقیات۔

سوشل میڈیا پر ہماری سرگرمیوں سے ذاتی ڈیٹا اکھٹا کرکے انہیں تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہایت تشویش ناک ہے، مگر یہ حیران کن نہیں۔ چوں کہ یہ پلیٹ فارمز مفت ہیں تو ان اربوں ڈالر کی کمپنیوں کو یہ سروسز مفت میں فراہم کرکے کیا حاصل ہوگا؟ ڈیٹا اشتہاری کمپنیوں کو فروخت کیا جاتا ہے تاکہ وہ لوگوں کی ذاتی دلچسپیوں سے متعلق اشتہارات انہیں دکھا سکیں اور یہ کارپوریشنز اس طرح پیسے بناتی ہیں۔ مگر ان لیکس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کس قدر گہرا ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ انٹرنیٹ پر کوئی بھی معلومات ‘ذاتی’ نہیں ہوتیں، مگر ہم اپنی معلومات کے تحفظ کے لیے چند اقدامات ضرور اٹھا سکتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہم انٹرنیٹ پر کم سے کم ذاتی معلومات شیئر کریں۔ ہماری تاریخِ پیدائش، ہماری لوکیشن ہسٹری، ہماری تصاویر، ہمارے سفری منصوبے وغیرہ ہماری ذاتی معلومات کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔

دوسری بات، ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کوئی بھی ایپلیکیشن انسٹال کرتے وقت آپ سے کن پرمشنز کا مطالبہ کرتی ہے۔ بسا اوقات موبائل ایپس آپ کی مکمل کانٹیکٹ لسٹ، کال ہسٹری، تصاویر، مائیکرو فون اور کیمرا تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت مانگتی ہیں۔ اس سے نہ صرف کارپوریشنز بلکہ حکومتیں بھی آپ پر مسلسل نظر رکھ سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر فیس بک ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق 2017ء کے ابتدائی 6 ماہ میں فیس بک نے ایف آئی اے اور پی ٹی اے کی جانب سے مبہم فوجداری قوانین کے تحت صارفین کے ڈیٹا کے حصول کی 63 فیصد درخواستوں پر عمل کیا۔

مزید پڑھیں  وزیرخزانہ کی واشنگٹن میں آئی ایم ایف حکام سے ملاقات

اس لیے یہ عقلمندی ہوگی کہ ہم اس فہرست پر نظر ڈالیں جس کی اجازت ہم سے ایپس مانگتی ہیں اور صرف تب ہی انسٹال کرنی چاہیئں جب کسی ایپ کو اس کی ضرورت ہو۔ مختلف سہولیات کے لیے موبائل ایپس استعمال کرنے سے بہتر ہے کہ ان پلیٹ فارمز کو فون یا کمپیوٹر پر انٹرنیٹ براؤزرز میں استعمال کیا جائے، اور براؤزر کو پرائیوٹ یا انکوگنیٹو موڈ میں استعمال کیا جائے تاکہ ان کمپنیوں کے لیے ذاتی ڈیٹا تک رسائی مشکل ہوسکے۔
تیسری بات یہ کہ آپ کو ہمیشہ اسپیم میسجز اور ای میلز میں آنے والے لنکس پر کلک کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیوں کہ ان میں اکثر ایسے وائرس ہوتے ہیں جو آپ کے فونز اور کمپیوٹرز میں سے معلومات چرا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مفت ٹکٹوں یا گاڑیوں کے جیتنے کی خوش خبری دینے والے لنکس میں عام طور پر ایسے وائرس ہوتے ہیں جو لنک پر کلک کرتے ہی آپ کی معلومات تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔ آپ کو ان لنکس پر کلک کرنے اور انہیں آگے پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اسی طرح فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود تھرڈ پارٹی ایپلیکیشنز، مثلاً شخصیت کے حوالے سے کوئز وغیرہ بھی ڈیٹا اکھٹا کرنے کا کام کرتی ہیں، ان سے بچنا چاہیے۔

چنانچہ ہم اسی موضوع پر آجاتے ہیں جس پر میں پہلے بھی بحث کرچکا ہوں: ڈیٹا اور پرائیویسی کے تحفظ کے لیے مزید سخت قوانین۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اشتہارات کے لیے استعمال ہونے والے صارفین کے ذاتی ڈیٹا کی مالک کارپوریشنز، بشمول انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز، ٹیلی کام کمپنیوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کرے تاکہ وہ صارفین کی ذاتی معلومات کو بغیر اجازت آگے نہ پھیلائیں، جو کہ وہ عام طور پر کرتی ہیں۔ وہ کمپنیاں جو ہمارے ڈیٹا کے ذریعے منافع کماتی ہیں، ان سے قانون کے تحت صارفین کو معاوضہ دلوانا چاہیے کیوں کہ بغیر اجازت کسی کا ڈیٹا آگے فروخت کرنا پرائیویسی میں مداخلت ہے۔

مزید پڑھیں  میانمار میں مٹی کا تودہ زمین میں دھنس جانے سے کم سے کم 90 افراد ہلاک

کیمبرج اینالیٹیکا لیکس کے بعد فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ دنیا بھر میں یورپ کی جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن کی پاسداری کی جائے گی تاکہ صارفین کے لیے پرائیویسی اور ان کے ڈیٹا کے تحفظ کو مزید بہتر بناسکے۔

جہاں تک کیمبرج اینالیٹیکا لیکس کی بات ہے تو کارپوریشنز سمیت سیاسی جماعتوں کی انتخابی کامیابیوں کے لیے کام کرنے والی پبلک ریلیشنز فرمز کی اخلاقیات کے بارے میں اہم سبق موجود ہیں۔ جہاں روایتی سیاسی اشتہار بازی میں مؤثر پیغام رسانی کے لیے حکمتِ عملی بناتے ہوئے قارئین یا ناظرین کی تعداد دیکھی جاتی ہے، وہاں سوشل میڈیا پر سیاسی اشتہارات کے لیے عادات اور نظریات سے متعلق ذاتی ڈیٹا کا استعمال کیا جاتا ہے جو گہری نفسیاتی تکنیکوں کی وجہ سے انتہائی کارگر ثابت ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اشتہارات کتنے اخلاقی ہیں اور کیا انہیں گائیڈلائینز کے تحت اجازت ہونی چاہیے؟ پاکستان کے الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے قوانین کو ٹیکنالوجی میں ہونے والی روز افزوں ترقی کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ٹیکنالوجی کو سیاسی مقاصد، پرائیویسی میں مداخلت اور نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مگر ساتھ ہی ساتھ ہمیں ریاست کے ان اقدامات سے بھی محتاط رہنا چاہیے جس کے تحت وہ 2016ء کے انسدادِ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ جیسے قوانین کا سہارا لے کر تحفظ کے نام پر ہماری پرائیویسی میں مداخلت اور اظہارِ رائے پر پابندی لگائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں