دارالعلوم نعیمیہ میں نوازشریف پر جوتے سے حملہ

لاہور: دارالعلوم نعیمیہ میں منعقدہ تقریب میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف خطاب کرنے اسٹیج پر آئے تو ایک شخص نے ان پر جوتا دے مارا۔
دارالعلوم نعیمیہ کی انتظامیہ نے جوتا پھینکے والے شخص کو پکڑ لیا اور بعد ازاں سیکیورٹی اداروں نے مذکورہ شخص کو گرفتار کرلیا۔
جب نواز شریف مفتی محمد حسین نعیمی کی برسی سے متعلق دارالعلوم نعیمیہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرنے اسٹیج پر آئے تو ایک شخص نے جوتا دے مارا تاہم جوتا ان کے کندھے اور بائیں کان کو چھو کر پیچھے جا گرا۔
جوتا لگنے کے چند سیکنڈز تک واقعے پر نواز شریف ہکا بکا رہ گئے، دوسری جانب تقریب میں موجود لوگوں نے جوتا پھینکنے والے شخص پر تشدد کیا۔
واقعے کے بعد نواز شریف نے تقریب سے مختصر خطاب کیا اور واپس چلے گئے۔
واقعے کی منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جوتا پھینکنے کے بعد اس شخص نے نعرہ لگاتے ہوئے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کیے، تاہم اطراف میں موجود شہریوں نے اسے پکڑ لیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف پر ایک تقریب کے دوران ایک شخص نے سیاہی پھینک دی تھی۔
واقعے پر سیاستدانوں کا ردعمل
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر جوتا پھینکے کے واقع کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ہمارے اخلاقیات کا حصہ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ایسے عمل میں تحریک انصاف کا کوئی کارکن ملوث نہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ سیاہی یا جوتا پھینکنا کوئی مہذب طریقہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے ساتھ سیاسی اختلافات ضرور ہیں تاہم اس طرح کی حرکتوں کی روک تھام ضروری ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے کا عمل اور سابق وزیراعظم نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے عمل میں شدت پسند عناصر ملوث ہیں۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے واقعے کو غیر سیاسی عمل قرار دیا۔
شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے نواز شریف کی بے عزتی ہوئی ہے، تاہم وہ اس حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان قائرہ نے نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے معاملے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے اور تمام جماعتوں کو اس کی مذمت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا سیاسی بیانیہ کیا بن گیا ہے، اور ہمارا اظہارِ خیال کیا ہوگیا اس بارے میں بھی ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے تو پھر عوامی نمائندے اپنی سیکیورٹی حصار کو بڑھا دیں گے، اس طرح وہ عوام سے گھلنے ملنے سے محروم ہوجائیں گے جس کے بعد پھر میڈیا اور عوام ہی یہ کہیں گے کہ لیڈر عوام سے دور ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب متحدہ قومی قوومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن فیصل سبزواری نے سماجی رابچے کی ویب سائٹ ٹوئٹر اپنے ایک ٹوئٹ میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی جماعت اور اس کے رہنما کے مخالفین ہوتے ہیں تاہم یہ افسوسناک حرکتیں تصادم اور پھر تشدد کو بھی فروغ دے سکتی ہیں۔
نواز شریف پر ہونے والے جوتے کے حملے پر سینیٹر شیریں رحمٰن نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں افسوس کا اظہار کیا۔
شرمیلا فاروقی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں واقع کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو سیاسی حریف آج ہنس رہے ہیں، کل وہ بھی جوتا کلب کا حصہ بن سکتے ہیں۔
معروف اینکر پرسن سید طلعت حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مذکورہ واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف پر سیاہی اور اب سابق وزیراعظم نواز شریف پر جوتا پھینکنا، حالات کو بد سے بدترین موٹر کی جانب لے جارہے ہیں۔
پی پی پی کے سینیٹر رحمٰن ملک نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کیا کہ جوتا پھینکنے والے ملزم کو مثالی سزا دی جائے۔
اس کے علاوہ معروف اینکر پرسن نسیم زہرا نے ٹوئٹ کیا کہ جوتا مارنا ناقابل جواز عمل ہے۔
‏پی ٹی آئی کے رہنما مشتاق غنی نے کہا کہ سیاسی نظریات میں اختلاف ایک جانب لیکن کسی بھی سیاستدان کی نفی کرنی ہے تو ووٹ سے کریں لیکن جوتے مارنے کا عمل قابل مذمت ہے۔
خیال رہے کہ نواز شریف پہلے سیاستدان نہیں ہیں، جن کو جوتے سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے اس سے قبل ان کے متعدد ہم وطن سیاستدانوں، جن میں ان کے بھائی شہباز شریف بھی شامل ہیں، کے علاوہ امریکا، بھارت اور دیگر ممالک میں بھی متعدد سیاستدانوں پر جوتے سے حملے کی کوشش کی گئی۔
جوتا کلب کے دیگر ممبران
جوتا کلب کا حصہ بننے والے تازہ ترین کارکن بلدیو کمار ہیں جنہیں 28 فروری کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن ارباب جہانداد نے جوتا دے مارا تھا۔
لاہور میں 4 مارچ 2017 کو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو ریلوے اسٹیشن پر نامعلوم شخص نے جوتا دے مارا تھا۔
24 اپریل 2014 کو لاہور میں ہی ساوتھ ایشیا لیبر کانفرنس کے افتتاح کے دوران وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف پر ایک صحافی نے جوتا اچھال دیا تھا۔
اس کے علاوہ مارچ 2013 میں سابق فوجی حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف پر ایک وکیل نے اس وقت جوتا دے مارا تھا جب وہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے لیے پیش ہونے کے لیے آئے تھے۔
اس کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب رحیم کو اپریل 2008 میں بطور نو منتخب رکن سندھ اسمبلی کا حلف لینے کے بعد اسمبلی کے باہر جوتے سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ کسی سیاستدان پر جوتا پھینکے جانے کا پہلا واقعہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ پیش آیا تھا۔
ان پر عراق میں اس وقت جوتا پھینکا گیا تھا جب وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے بعد ازاں عراقی عدالت نے سابق امریکی صدر جارج بش پر جوتا پھنکنے والے صحافی منتظر الزیدی کو 3 سال کی سزا سنائی تھی۔
لاس ویگاس میں 11 اپریل 2014 کو سابق امریکی وزیر خارجہ اور سابق امریکی خاتون اوّل ہلیری کلنٹن پر ایک پروگرام کے دوران ایک خاتون نے جوتا اچھال دیا تھا۔
واضح رہے کہ بھارت کے بھی کئی سیاستدان جوتا کلب میں شامل ہیں۔
عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال پر کئی مواقع پر جوتا پھینکے جانے کے واقعات پیش آئے۔
گزشتہ سال ستمبر کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی پر بھی ریلی کے دوران جوتا پھینکا گیا تھا۔

مزید پڑھیں  ڈمپل کوئن اور کنگ خان پاکستان کی شوبز انڈسٹری سے متاثر

اپنا تبصرہ بھیجیں