خدا کی قسم کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،خواہش ہے عوام کو روٹی اور صاف پانی مل جائے، چیف جسٹس

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ خدا کی قسم میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، سیاسی مقدمات کو ہاتھ لگانے کا بھی دل نہیں کرتا، چاہتا ہوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی اور صاف پانی مل جائے، ہماری نیت صاف ہے جس طرح چاہیں ہمارا امتحان لے لیں، بنیادی حقوق دیئے جائیں، کچھ کر دکھانے کا وقت آن پہنچا ہے، ادویات کی قیمتوں کا تعین سپریم کورٹ نے نہیں کرنا، قیمتوں میں توازن ہونا چاہیے، کوئی شخص نقصان کیلئے کاروبار نہیں کرتا، آپس میں بیٹھ کر قیمتوں کا تعین کریں، عدالتوں کو بیچ میں نہ لائیں، ہیپاٹائٹس کی6 ہزار والی دوا 25 ہزار میں بیچی جارہی ہے، وہ قیمت متعین کی جائے جو عوام پر بوجھ نہ بنے،کمپنیوں کو بھی معقول معاوضہ ملنا چاہیے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) تمام درخواستوں پر جلد از جلد فیصلہ کرے، کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی، ڈریپ کو تمام کام شفافیت اور ایمانداری سے کرنا ہو گی ۔ منگل کو سپریم کورٹ میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا تعین سپریم کورٹ نے نہیں کرنا، قیمتوں میں توازن ہونا چاہیے، کوئی شخص نقصان کیلئے کاروبار نہیں کرتا، آپس میں بیٹھ کر قیمتوں کا تعین کریں، عدالتوں کو بیچ میں نا لائیں۔ انہوں نے کہاکہ دواؤں کی وہ قیمت متعین کی جائے جو عوام پر بوجھ نہ بنے اور ادویہ ساز کمپنیوں کے پاس از خود قیمت بڑھانے کا اختیار نہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ڈریپ کو کہہ دیتے ہیں کہ درخواستوں کو سن کر فیصلہ کرے 6 ہزار کی ہیپاٹائٹس کی دوا 25 ہزار روپے میں بیچی جارہی ہے، سب سے بڑا قصور ڈریپ کا ہے، ہم راتوں کو بھی بیٹھ کر ادویہ ساز کمپنیوں کی درخواستوں کا جائزہ لیں گے، ادویات ساز کمپنیوں کو معقول معاوضہ ملنا چاہیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس موقع پر انتہائی اہم ریمارکس میں کہا کہ خدا کی قسم میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، سیاسی مقدمات کو ہاتھ لگانے کا بھی دل نہیں کرتا، صرف چاہتا ہوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی اور صاف پانی مل جائے اور بنیادی حقوق دیئے جائیں۔ معزز چیف جسٹس نے کہا کہ اب کچھ کر دکھانے کا وقت آن پہنچا ہے، ہمیں اگر کسی نے ٹیسٹ کرنا ہے تو ابھی کرلیں لیکن مجبوری ہے ہمیں تمام مقدمات بھی سننا پڑتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری نیت بالکل صاف ہے جس طرح مرضی چاہیں ہمارا امتحان لے لیں، تمام وکلا کو بھی کہتا ہوں ہماری مدد کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈرگ پالیسی سے پہلے نگراں ادارہ ڈرگ ریگو لیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کمپنیوں سے ملی ہوئی تھی، ڈریپ درخواستیں جان بوجھ کر زیر التواء رکھتی تھی، ملی بھگت کے تحت کمپنیوں کو عدالتوں سے ریلیف دلوایا جاتا رہا، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ڈرگ پالیسی کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، تمام امور کی نگرانی خود سپریم کورٹ کریگی، دیگر عدالتوں کو بھی گائیڈ لائن فراہم کرینگے، گائیڈ لائن کا مقصد بلاوجہ کے اسٹے آرڈر جاری کرنے سے روکنا ہے۔ ادویہ ساز کمپنیوں کے وکلا نے کہا کہ 2013ء میں ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا، وزیراعظم کی ہدایت پر اضافہ واپس لے لیا گیا، پالیسی کی تحت 90 روز میں قیمتوں میں اضافے کی درخواست پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ڈریپ قیمتوں میں اضافہ پالیسی کے برخلاف کرتی ہے، ڈرگ پالیسی قیمتو ں میں سالانہ اضافے کی بھی اجازت دیتی ہے، چند دن پہلے قیمتوں میں دس فیصد کمی کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔چیف جسٹس نے پوچھا کیا پرانی درخواستیں زیر التواء ہیں؟۔ ڈریپ حکام نے بتایا کہ کمپنیاں نامکمل درخواستیں دیتی ہیں اس لیے تاخیر ہوتی ہے، ڈریپ سے اضافہ 8 فیصد ملتا ہے، دوا ساز کمپنیاں عدالتوں سے زیادہ ریلیف لیتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیٹا فراہم نہ کرنے والی کمپنیوں کی فہرست فراہم کریں تمام حکم امتناعی خارج کر دینگے، ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنا عدالت کا کام نہیں۔

مزید پڑھیں  میں نے اسلام قبول کرلیا': بھارتی اداکارہ کا اعتراف

اپنا تبصرہ بھیجیں