جنسی تعلقات کے مطالبے سے پارلیمنٹ بھی محفوظ نہیں

نئی دہلی: معروف کوریوگرافر کی جانب سے بولی وڈ میں نوآموز لڑکیوں کو کام دینے کے عوض جنسی تعلقات قائم کرنے سے متعلق متنازع بیان کے بعد حال ہی میں بھارت کی سابق رکنِ پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ اس وبا سے پارلیمنٹ بھی محفوظ نہیں۔
انڈین نیشنل کانگریس سے تعلق رکھنے والی رینوکا چوہدری کا کہنا تھا کہ ماتحت خواتین سے جنسی تعلقات کا مطالبہ صرف بولی وڈ تک محدود نہیں بلکہ یہ تلخ حقیقت ہر ادارے حتیٰ کے پارلیمنٹ بھی موجود ہے، اب وقت ہے کہ بھارت میں اس کے خلاف آواز بلند کر کے کہا جائے کہ ’می ٹو‘۔
واضح رہے رکن پارلیمنٹ کا یہ بیان بولی وڈ کوریوگرافر سروج خان کے اس بیان کے تناظر میں سامنے آیا جس میں انہوں نے فلم انڈسٹری میں کام کے عوض جنسی تعلقات کا دفاع کیا تھا۔
بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں راجیا سبھا کی سابق رکن کا کہنا تھا کہ ’جنسی تعلقات کا مطالبہ ایک تلخ حقیقت ہے، اور یہ سمجھنا کہ پارلیمنٹ یا کوئی اور ادارہ اس سے محفوظ ہے تو غلط ہے، اگر مغربی دنیا کو دیکھا جائے تو وہاں بھی مشہور و معروف اداکاراؤں کو اس پر بات کرنے اور ’می ٹو‘ کہنے میں طویل وقت لگا۔

مزید پڑھیں  ایف بی آر جائیداد کی ری ویلیویشن کررہی ہے،ترجمان

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب بھارت کی باری ہے کہ اس مکروہ فعل کے خلاف آواز بلند کی جائے۔

مزید پڑھیں  جہلم میں توہینِ مذہب کے مبینہ واقعے کے بعد کشیدگی، فوج تعینات

واضح رہے کہ گزشتہ برس ہالی وڈ اداکاراؤں نے سوشل میڈیا پوسٹس میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف ’می ٹو‘ ہیش ٹیگ کے ذریعے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات شیئر کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا، جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے یہ مہم دنیا بھر کی خواتین میں مقبول ہوگئی اور لاتعداد خواتین نے ’می ٹو‘ ہیش ٹیگ کے تحت اپنے تلخ تجربات شیئر کیے۔
خیال رہے کہ سروج خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کے مشہور آئٹم نمبر ’ایک دو تین‘ اور ’چولی کے پیچھے‘، فلم انڈسٹری میں کام کے عوض جنسی تعلقات کا مظہر تھے، انہوں نے اس رواج کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عجب بات نہیں، کم از کم فلمی صنعت میں لڑکیوں کو ریپ کے بعد پھینک نہیں دیا جاتا بلکہ کام فراہم کیا جاتا ہے۔
بعد ازاں سروج خان کے مذکورہ بیان پر سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر بحث کا آغاز ہوگیا، جس میں انہوں نے خواتین پر جنسی تعلقات کی ذمہ داری ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ اعلیٰ سرکاری افسران سمیت ہر کوئی اس میں ملوث ہے۔

مزید پڑھیں  ماروی میمن نے ’اسپیکرز ڈیموکریسی ایوارڈ‘ حاصل کرلیا

پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے فون پر بات چیت کرتے ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے بیان پر پہلے ہی معذرت کرچکی ہوں لیکن لوگوں نے یہ جاننے سے قبل کہ سوال کیا پوچھا گیا تھا، ایک ہنگامہ کھڑا کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں