ترک خاندان کے ملک بدر کرنے کا معاملہ، حکومت سے تفصیلات طلب

لاہور ہائی کورٹ نے ترک خاندان کے مبینہ اغوا کے کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پاک ترک انٹرنیشنل اسکول اینڈ کالجز کے سابق نائب صدر اور ان کے اہل خانہ کے ملک بدر کیے جانے کی تصدیق کریں۔
عدالت عالیہ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا نے میسوت کاجماز اور ان کے اہل خانہ کے مبینہ اغوا کیس کی سماعت کی۔
کیس کی سماعت کے دوران پٹیشنر کی جانب سے ایڈووکیٹ عثمان ملک عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ پٹیشنر کی وکیل عاصمہ جہانگیر ضرروی مصروفیات کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکیں۔
تاہم، انہوں نے میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے مغوی ترک خاندان کو ملک بدر کردیا گیا ہے، جب عدالت نے اس حوالے سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا تو انہوں نے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
جسٹس محمود مرزا نے کیس کی سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کرتے ہوئے مذکورہ معاملے میں حالیہ پیش رفت کے حوالے سے حکومت کا موقف معلوم کرنے کی ہدایت کی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا وہ میسوت کاجماز اور ان کے خاندان کو ملک بدر نہیں کرسکتے۔
ترک خاندان کے اغوا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن میسوت کاجماز کے ایک دوست نے دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ترک اسکول اینڈ کالجز سسٹم کے سابق نائب صدر، ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو نامعلوم افراد نے 27 سمتبر کو لاہور کے واپڈا ٹاؤن سے مبینہ طور پر اغوا کیا۔
پٹیشنر کے وکیل نے استدعا کی تھی کہ حکومت نے اٹارنی جنرل کے ذریعے عدالت میں گذشتہ سال حلف نامہ جمع کرایا تھا کہ پاک ترک اسکول نظام کے ترک ملازمین کو 24 نومبر 2017 تک ملک بدر نہیں کیا جائے گا۔
پٹیشنر کا کہنا تھا کہ عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے کے باوجود میسوت کاجماز اور ان کے اہل خانہ کو نامعلوم افراد نے ان کے گھر سے مبینہ طور پر اغوا کیا اور بعد ازاں انہیں ملک بدر کردیا گیا جو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اس اغوا کی رپورٹ درج کرنے سے انکار کیا تھا۔
پٹیشنر کا کہنا تھا کہ ترکی کے تدریسی عملے کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے تحت پاکستان میں تحفظ کے لیے پناہ گزین کی حیثیت حاصل تھی۔
گذشتہ روز ترک خاندان کو ملک بدر کیے جانے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد پاک-ترک اسکول کے سابق ریجنل ڈائریکٹر اورہان نے ڈان کو بتایا تھا کہ میسوت کاجماز کی بیٹی نے انہیں کراچی سے بذریعہ ٹیلی فون اطلاع دی کہ ان کے والدین کو 14 اکتوبر کو اسلام آباد سے ملک بدر کردیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ فیملی کو اسلام آباد ہوائی اڈے پر ترک پولیس کے حوالے کیا گیا جو خصوصی طیارے سے پاکستان پہنچے تھے۔
اورہان نے بتایا کہ میسوت کاجماز کی بیٹی کراچی سے ترکی روانہ ہوچکی ہیں جو ترکی میں اپنے دادا اور دادی کے ہمراہ رہیں گی۔

مزید پڑھیں  آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم نہیں دیا، چیف جسٹس

اپنا تبصرہ بھیجیں