ترکی، ایران اور انتہا پسند گروپس بدی کی مثلث ہیں، سعودی ولی عہد

قاہرہ:
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ترکی، ایران اور انتہاپسند گروپ بدی کی مثلث ہیں۔
سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ترکی بدی کی مثلث کا حصہ ہے جس میں ایران اور سخت گیر اسلامی گروہ بھی شامل ہیں، قطر کیساتھ جاری تنازع طویل مدت تک جاری رہ سکتا ہے، قطر کی حیثیت مصر کی ایک سڑک جتنی ہے، قطر کو عرب ممالک کے اجلاس میں شرکت سے نہیں روکا جائے گا، ترکی قطر کا اتحادی ہے، حالیہ مہینوں میں ایران کیساتھ بھی مل کر کام کیا ہے، سعودی ولی عہد کے حوالے سے یہ بیان مصری اخبار الشروک نے بدھ کے روز رپورٹ کیا۔ سعودی شہزادے نے ترکی پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ اسلامی خلافت کو دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے، تقریباً ایک صدی قبل سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کردیا گیا تھا۔ محمد بن سلمان کا بیان ترک صدر رجب طیب ایردوان کے حوالے سے سعودی عرب کے ان خدشات کا بھی عکاس ہے جن کی حکمراں جماعت اے کے پارٹی کی اسلامی سیاست میں گہری جڑیں ہیں اور جنہوں نے قطر کیساتھ اتحاد قائم کررکھا ہے، دوحا حکومت کو سعودی عرب اور خلیجی ممالک کیساتھ تنازع کا سامنا ہے۔ ترکی نے حالیہ مہینوں میں شمالی شام میں جاری لڑائی میں کمی کیلئے مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے سخت حریف ایران کیساتھ بھی مل کر کام کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہوں نے گزشتہ برس ایک دوسرے کے ممالک کے دورے بھی کئے ہیں۔ مصری اخبار نے شہزادہ محمد کے حوالے سے بتایا کہ ’’بدی کا مثلث ایران، ترکی اور شدت پسند مذہبی گروہوں پر مشتمل ہے۔‘‘ سعودی ولی عہد بننے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے موقع پر قاہرہ میں مصری اخبار کے مدیران سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ قطر کیساتھ جاری تنازع طویل مدت تک جاری رہ سکتا ہے، انہوں نے اس معاملے کو امریکا کی کیوبا پر پابندیوں سے موازنہ کیا جو 60 سال برس قبل عائد کی گئی تھیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، انہوں نے کہا کہ قطر کی حیثیت قاہرہ کی چھوٹی سی سڑک کے برابر ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے گزشتہ برس جون میں قطر کیساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کردیے تھے جبکہ قطر کے فضائی اور بحری راستوں پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔ تاہم شہزادہ سلمان کا کہنا تھا کہ قطر کو عرب ممالک کے اجلاس میں شرکت سے نہیں روکا جائے گا جو رواں ماہ کے آخر میں سعودی عرب میں ہوگا۔

مزید پڑھیں  نوازشریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست پرفیصلہ محفوظ

اپنا تبصرہ بھیجیں