بھارت: بائیں بازو کی جماعتوں کا پاکستان سے مذاکرات کا مطالبہ

نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستان سے ’کوئی بات چیت نہیں‘ کی پالیسی پر بھارت کی بائیں بازوں کی جماعتوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکس (سی پی آئی- ایم) نے اس عمل پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد کے ساتھ جلد مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سی پی آئی کی جانب سے عوامی جمہوریت کے معاملے پر دیئے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’نریندر مودی کی حکومت پاکستان مخالف پالیسی کے باعث ایک بند گلی میں آکھڑی ہوئی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر پر تمام سخت رویوں اور قوم پرستانہ طریقوں کے باوجود نریندر مودی کی حکومت کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ جموں اور کشمیر کے معاملے کے سیاسی حل کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات ایک اہم معاملہ ہیں۔
سی پی آئی ایم کے سابق سربراہ پراکاش کارت کی جانب سے بھی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی بحالی کے لیے کام کرے اور پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرت کو بھی بحال کرے۔
سی پی آئی ایم کی جانب سے یہ بھی یاد دلایا گیا کہ اگست 2015 میں پاک-بھارت مذاکرات کو منسوخ کردیا گیا تھا اور بھارتی حکومت کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا تھا کہ جب تک مبینہ سرحد پار دہشتگردی نہیں روکی جاتی مذاکرات نہیں ہوں گے، جس کے بعد ستمبر 2016 میں بھارت کی جانب سے مبینہ سرحد پار حملوں کے جواب میں لائن آف کنٹرول کے پار سرجیکل اسٹرائک کا دعویٰ بھی کیا گیا اور بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ چند سالوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی صرف یہی جواب بنتا تھا۔
تاہم سرجیکل اسٹرائیک کے اس دعوے کے بعد جموں اینڈ کشمیر میں بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر اس پار سے شیلنگ اور فائرنگ میں اضافہ ہوا اور نومبر 2003 کے بعد سے سال 2017 میں سب سے زیادہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ریکارڈ کی گئیں۔
پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ اس شیلنگ اور آرٹلر فائرنگ کے نتیجے میں دونوں جانب عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ بھارت کی جانب ہزاروں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا اور اڑی سیکٹر میں 22 فروری سے 2 ہزار گاؤں کے لوگوں نے اڑی ٹاؤن میں پناہ لی ہے جبکہ وہاں اسکول بند ہوچکے ہیں اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہے۔
کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ ’سرجیکل اسٹرائیک کے باجود سرحد پار عسکریت پسندوں کی جانب سے آرمی اور بی ایس ایف کے کیمپوں پر حملے جاری ہیں اور حال ہی میں جموں میں سنجوان فوجی کیمپ اور سری نگر میں سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کیا گیا’۔
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے ’یک جہتی سوچ‘ کہ تمام مظاہرین اور علیحدگی کا مطالبہ کرنے والے پاکستان سے متاثر ہیں، انہیں جموں اینڈ کشمیر میں سیاسی بات چیت کے لیے کوئی قدم اٹھانے سے روکتی ہیں اور یہ سوچ خالص سیکیورٹی اور عسکریت پسندی پر مبنی ہے، جس سے وادی کے حالات مزید خراب ہوں گے۔
سی پی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جموں ایںڈ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے اسمبلی میں کہا گیا کہ ’اگر ہم اس خونی جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کے ساتھ مذاکرات ضروری ہیں اور ہمیں بات چیت کرنی چاہیے کیونکہ جنگ کوئی حل نہیں‘، تاہم یہ بات حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر مسترد کردی گئی تھی۔
کمیونسٹ پارٹی نے یاد دلایا کہ بھارتی جنتا پارٹی کے جنرل سیکیرٹی رام مادہو نے اس بات کا جواب دیا تھا کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘۔
پارٹی نے کہا کہ ہمیں اس مخالفانہ موقف کو ختم کرنے کی فوری ضرورت ہے اور لائن آف کنٹرل اور جموں کشمیر کے بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی اور امن کے لیے بات چیت کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا آغاز کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کوئی بات چیت کی پالیسی کے بغیر دونوں ممالک کے مشیر قومی سلامتی کی جانب سے تیسرے مقام پر ملاقات کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں  چین کا مبینہ طور پر ’لیزر کلاشنکوف‘ بنانے کا دعویٰ

اپنا تبصرہ بھیجیں