ایون فیلڈ: فیصلہ موخر کرنے کی درخواست مسترد

نواز شریف کی درخواست مسترد، فیصلہ ساڑھے بارہ بجے
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے میں تاخیر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جمعے کو ساڑھے بارہ بجے فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔
’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ فیصلہ سنائیں نہیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ سات دن کے لیے مؤخر کر دیں‘

عدالت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے کہا کہ چونکہ کلثوم نواز کی حالت ٹھیک نہیں اسی لیے وہ عدالت سے فیصلہ موخر کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے امجد پرویز نے عدالت میں کلثوم نواز کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ جو کہ تین جولائی کی ہے، عدالت میں جمع کروائی۔
امجد پرویز نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صرف اُس صورت میں ملزم کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنا سکتی ہے جب ملزم اشتہاری ہو۔ ان کا کہنا تھا ہک ’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ فیصلہ سنائیں نہیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ سات دن کے لیے مؤخر کر دیں۔‘
دوسری جانب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ قانون میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے جس میں عدالت فیصلہ سنانے کی تاریخ دے اور پھر اس کو موخر کرنے کی درخواست پر غور کرے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسی مثال قائم کی گئی تو پھر تمام ملزمان اس عدالتی فیصلے کو نظیر بناتے ہوئے اپنے خلاف سنائے جانے والے عدالتی فیصلوں کو کچھ دیر کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست دیا کریں گے۔ انھوں نے استدعا کی کہ عدالت اس درخواست کو مسترد کر دے۔

مزید پڑھیں  امریکی صدرکوایک اور جھٹکا

نواز شریف کی فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
احتساب عدالت کے جج نے نواز شریف کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کا محفوظ فیصلہ مزید ایک ہفتے تک نہ سنائے جانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت ایک گھنٹے کے لیے موخر کر دی ہے۔
جج محمد بشیر کے سامنے آج دو اہم فیصلے!

مزید پڑھیں  عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیریے

پہلے تو جج محمد بشیر کو میاں نواز شریف کی اس درخواست پر فیصلہ پہلے کرنا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ شریف خاندان کی لندن میں جائیدادوں کے حوالے سے مقدمے کا فیصلہ اس وقت تک موخر کیا جائے جب تک لندن میں زیر علاج بیگم کلثوم نواز کی صحت سنبھل نہیں جاتی۔

مزید پڑھیں  سگریٹ نوشی بہت سی ذہنی بیماریوں کی وجہ ہے،ماہرین

دوسرا فیصلہ جج محمد بشیر کو یہ کرنا ہے کہ انھیں اپنی اعلان کردہ تاریخ پر شریف خاندان کے بارے میں مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے یا نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں