ایران میں ذخیرہ اندوزی کرنے والے ‘سکّوں کے سلطان’ کی گرفتاری

ایرانی پولیس نے ایک شخص کی تحویل سے دو ٹن سونے کے سکے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مقامی مارکیٹ پر اثر انداز ہونا چاہتے تھے۔
تہران پولیس کے چیف جنرل حسین رحمانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک 58 سالہ شخص کو حراست میں لیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ مذکورہ شخص نے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، گذشتہ دس ماہ کے دوران ڈھائی لاکھ سے زیادہ سکے جمع کرنے کے لیے اپنے ساتھی بھی رکھے ہوئے تھے۔
وہ شخص خود کو ‘سلطان آف کوائنز’ یعنی سکّوں کے بادشاہ کہلواتا ہے۔

مزید پڑھیں  چوہدری نثار کا آج وزارت سے مستعفی ہونے کا امکان

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں امریکہ کی ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے ایرانی عوام سونے کے سکے خرید رہے ہیں۔
بدھ کو غیر سرکاری فارن ایکسچینج میں امریکی ڈالر کی قیمت 81 ہزار ریال تھی۔ اس کے مقابلے میں سنہ 2017 میں یہ 43,000 ہزار ریال تھی۔
دو ماہ پہلے تہران کے مرکزی بازار میں تاجروں نے اپنی دکانیں بند کر کے احتجاج کیا تھا۔
اسے سے پہلے دسمبر اور جنوری میں بھی ملک کے شہروں اور دیہی علاقوں میں حکومت مخالف احتجاج ہوا تھا۔

مزید پڑھیں  پریانکا چوپڑا 1 منٹ میں 1 کروڑ کمائیں گی

اپنا تبصرہ بھیجیں