انسٹاگرام کا حریفوں کے لیے ڈزاسٹر فیچر

فیس بک کی ذیلی سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ کمپنی کی جانب سے منفرد اور بہترین فیچر متعارف کرانا ہے۔اگرچہ گزشتہ چند ماہ میں انسٹاگرام نے متعدد نئے فیچر متعارف کرائے ہیں، تاہم اب اطلاعات ہیں کہ وہ ایک ایسے فیچر پر کام رہی ہے، جو اس کے حریفوں کے لیے تباہی کا سامان بھی بن سکتا ہے۔جی ہاں، انسٹاگرام اپنے حریفوں کے لیے ڈزاسٹر فیچر پر کام کرنے میں مصروف ہے، جسے جلد آزمائشی بنیادوں پر محدود صارفین کے لیے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔انسٹاگرام ایسے فیچر پر کام کر رہا ہے، جس کے ذریعے صارفین کی پرائیویسی کو مزید بہتر اور سخت بنایا جاسکے گا۔

مزید پڑھیں  پاکستان کے خلاف ایک اور سازش: عالمی طاقتوں کی مائنس عمران فارمولا لیک ہوگیا

برطانوی اخبار ’دی انڈپینڈنٹ‘ کے مطابق انسٹاگرام ایسا فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے ذریعے صارف کو الرٹ بھیج کر آگاہ کیا جائے گا کہ اس کی کس پوسٹ کا کس شخص نے اسکرین شاٹ لیا ہے، یا پھر اس کی پوسٹ کی کس نے موبائل فون کے ذریعے ریکارڈنگ کی ہے۔اگرچہ اس سے ملتا جلتا فیچر اسنیپ چیٹ فراہم کرتا ہے، تاہم ایسا فیچر آج تک فیس بک اور ٹوئٹر بھی پیش نہیں کرسکے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا اس فیچر کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کی جانے والی تصویر یا ویڈیو سے متعلق بھی صارف کو الرٹ کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا یا نہیں۔ذرائع کے مطابق انسٹاگرام کے ماہرین اس فیچر کو تیار کرنے میں مصروف ہیں، جس کا 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، اور اسے کسی وقت بھی آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ 19 جنوری کو انسٹاگرام نے صارف کے آن لائن ہونے کے وقت کو ایکٹو دکھانے کا فیچر بھی متعارف کرایا تھا۔

مزید پڑھیں  کالا دھن سفید کرنے کی ایمنیسٹی اسکیم پر پیپلز پارٹی کی مخالفت

اس سے قبل 4 جنوری 2018 کو انسٹاگرام نے واٹس ایپ اور انسٹاگرام کو ایک ساتھ استعمال کرنے کا فیچر استعمال کرایا تھا۔اس فیچر کے تحت صارف کی انسٹاگرام پوسٹ اس کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کا اسٹیٹس بن جانے کی سہولت متعارف کرائی گئی تھی، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اسٹیٹس واٹس ایپ سے 24 گھنٹوں کے بعد خود بخود غائب بھی ہوجائے گا، تاہم واٹس ایپ سے اسٹیٹس ہٹ جانے کے باوجود اصل پوسٹ انسٹاگرام پر موجود ہوگی۔اسی طرح انسٹاگرام نے 2017 میں جہاں ایک ساتھ متعدد تصاویر شیئر کرنے کا فیچر متعارف کرایا، وہیں ایپلی کیشن نے جارحانہ کمنٹس کو بلاک کرنے جیسا فیچر بھی متعارف کرایا تھا۔انسٹاگرام نے 2017 میں ایپلی کیش کو ڈاؤن لوڈ کیے بغیر بھی اسے عام براؤزر کے ذریعے استعمال کرنے جیسا اہم فیچر بھی متعارف کرایا تھا۔

مزید پڑھیں  آخر بلیو اکانومی ہے کیا؟ کیوں پاک بحریہ اس پر زور دے رہی ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں