انجینئر منیر احمد، بلوچ نوجوانوں کیلئے مشعلِ راہ

بلوچستان کے بارے میں ہر ایک نے اپنی سمجھ کے مطابق ایک رائے بنائی ہوئی ہے۔ کچھ کے نزدیک یہ ایک چٹیل میدان کی طرح ہے جس میں چلتے جاؤ چلتے جاؤ، دور دور تک کوئی آبادی نظر نہیں آتی البتہ خاردار جھاڑیاں اور گرم ریت کے بگولے ضرور استقبال کرتے ںظر آئیں گے۔ کچھ کے نزدیک بلوچستان اونچے اونچے پہاڑوں کا سلسلہ ہے: ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا۔ ایک پہاڑ پار کرو تو سامنے دوسرا پہاڑ آکر کھڑا ہو جاتا ہے۔ جو لوگ جنوب کی طرف جاتے ہیں انہیں سمندر ہی سمندر نظر آتا ہے۔ ایک بات پر سب متفق ہیں کہ آبادی بہت ہی کم ہے لیکن یہ بھی بات اپنی جگہ ایک حقیقت رکھتی ہے کہ اسی کم آبادی کے صوبے میں ایسی شخصیات بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور کارکردگی سے اور اپنی خوبیوں سے ثابت کیا کہ بلوچستان کے لوگ بھی کسی سے کم نہیں۔ ان شخصیات میں ایک نام منیر احمد کا بھی ہے۔ جب تک طالب علم رہے، اپنی قابلیت سے بلوچستان میں دھوم مچائے رکھی۔

کبھی پورے بلوچستان کے اسکالر شپ کے امتحان میں شرکت کر رہے ہیں تو کبھی پورے بلوچستان کے طالب علموں کو مات کرتے ہوئے اول، دوم، سوم آرہے ہیں اور اخباروں میں چرچا ہورہا ہے۔ ریڈیو والےانٹرویو نشر کر رہے ہیں۔ اپنے انجینئرنگ کے پروفیشن یا پیشے کے میدان میں رہے تو کئی معرکے مارے۔ پاکستان کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا اور ادارے کے کئی ریکارڈ توڑے۔ بحیثیت استاد جب میدان میں اترے تو سات گھنٹے متواتر لیکچر دیتے رہے اور تمام پاکستان کے انجینئر دم بخود ہمہ تن گوش رہے۔ اور جب نکلے تو معلومات کا ایک خزانہ ان مہندسین کے حوالے کرکے اٹھے۔ کالم نویسی کو شغل کے طور پر اپنایا اور قلم کی موشگافیوں سے قارئین کو سحر زدہ کرتے رہے اور پچھلے پچاس برس سے منیر بن بشیر کے قلمی نام سے کالم لکھ رہے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ ان کالموں میں زیادہ تر بلو چستان ہی کے تذکرے ہوتے تھے۔

خدمت خلق کے میدان میں اترے تو بلا امتیاز زبان و نسل لوگوں کی خدمت کی۔ طالب علموں کو اور معذور افراد کو وظیفے دلوائے اور وہ بچے ڈگریاں حاصل کرکےآج معاشرے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ پاکستان کے ایک بہت بڑے ادارے پاکستان اسٹیل مل میں ایک انگریزی نیوز لیٹر کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر رہے اور نیوز لیٹر کو ایک ادبی رنگ میں لانے میں کامیاب ہوئے۔ نوائے وقت لاہور میں کئی سال تک مستقل کالم لکھتے رہے۔ اس کے بعد ندائےملت، نصرت لاہور، مقدمہ کراچی اور کئی ممتاز رسائل میں اپنے قلم کے جوہر دکھاتے رہے۔ اب بھی پیرانہ سالی کے باوجود ہر ماہ ایک کالم ضرور لکھتے ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی اردو ویب سائٹ ’’ہماری ویب‘‘ کے رائٹرز کلب کی گورننگ باڈی کے ممبر ہیں۔

پاکستان اسٹیل مل کے حساس ترین محکمے ’’پرچیز ڈیپارٹمنٹ‘‘ میں بطور مینیجر (خریداری) رہے لیکن آخر تک دامن شفاف ہی رہا۔ خواہشات اور ترجیحات ہر فرد کی ہوتی ہیں لیکن خواہشات اور ترجیحات نے انہیں غلط راستے پر نہیں ڈالا۔ وہ اس راہ کے آدمی ہی نہ تھے۔ کبھی ملاقات ہوتی تو چہرے پر طمع سے پاک طمانیت قلب ہی نظر آتی تھی۔

بلوچستان کا سبی شہر بذریعہ ریل کوئٹہ جانے والوں کو یاد دلاتا ہے کہ اب میدانی علاقہ ختم ہوا ہی چاہتا ہے اور پہاڑوں کی آمد آمد ہے۔ اب لمبی لمبی سرنگوں کا ایک سلسلہ ہے جن میں سے گزرنا ہے۔ سبی اسٹیشن پر ریل کا نظام بھی کچھ عجیب سا ہے۔ جب ریل گاڑی سندھ اور پنجاب سے سبی اسٹیشن میں داخل ہوتی ہے اور اس کے بعد بلوچستان کےلیے روانہ ہوتی ہے تو ایسے لگتا ہے کہ یہ دوبارہ سندھ اور پنجاب کی جانب جارہی ہے۔ اسی سبی شہر میں 6 فروری 1950 کو منیر احمد نے آنکھ کھولی۔ ان کے والد بچوں کی تدریس کے مقدس پیشے سے وابستہ تھے۔

منیر احمد سے ایک ملاقات ہوئی اور ان سے ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بات کی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کا بچپن کیسا گزرا؟ آپ کے زمانے کا بلوچستان کیسا تھا؟ آج کے بلوچستان کو ماضی کے بلوچستان سے کیسے مختلف پاتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ان کے ذہن میں سبی کی زیادہ یادیں نہیں سوائے اس کے کہ وہاں پر ایک ڈاکٹر عظیم ہوا کرتے تھے۔ ایک بات اور جو یاد رہ گئی ہے کہ وہ سبی کے میلے میں کھوگئے تھے اور پولیس کا ایک سپاہی انہیں گود میں اٹھا کر گلیوں میں صدا دیتا پھر رہا تھا کہ یہ کس کا بچہ ہے۔ ڈاکٹر عظیم کے صاحبزادے بشیر عظیم ماضی قریب تک سبی کی سیاست میں اپنا کردار ادا کررہے تھے۔

منیر احمد نے ابتدائی تعلیم کلی بادینی اور نوشکی ضلع چاغی میں حاصل کی جہاں ان کے والد کا تبادلہ ہوگیا تھا۔ نوشکی کی تعلیم اچھی تھی۔ اساتذہ کرام محنتی تھے۔ بچوں کا رسالہ ’’تعلیم و تربیت‘‘ آسانی سے دستیاب ہو جاتا تھا۔ اس کے علاوہ اسکولوں کو حکومت کی جانب سے بچوں کےلیے کہانیوں کی کتابیں مہیا کی جاتی تھیں۔ سب بچے یہ رسالے ایک دوسرے کو دیتے تھے۔

نوشکی میں ایک جھاڑی ہوتی تھی جس میں ایک چھوٹا سا پھل لگا کرتا تھا جسے ’پی ترک‘ کہتے تھے۔ بچے اس کی تلاش میں کبھی کبھار دور نکل جایا کرتے تھے۔ ماحول نہایت ہی امن والا تھا۔ سب سیر و شکر ہو کر رہتے تھے۔ موسم سرما میں افغانستان سے پاوندوں کی آمد ہوا کرتی تھی۔ پاوندے ان خانہ بدوش افغان باشندوں کو کہا جاتا تھا جنہیں پاکستان آنے کی اجازت تھی اور اس مقصد کےلیے ان پر کسی قسم کے ویزا یا پاسپورٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ موسم سرما گزارنے کے بعد یہ لوگ دوبارہ افغانستان چلے جاتے تھے۔ یہ پرامن لوگ تھے، ان سے کبھی مقامی لوگوں کو شکایت نہیں ہوئی تھی۔ نوشکی کے بچے ان کے خیموں کے قریب بے دھڑک کھیلا کرتے تھے۔ ان کا بنایا ہوا کرد (ایک قسم کا خشک کیا ہوا دہی) بہت لذیذ ہوا کرتا تھا۔ منیر احمد کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اسی کرد کےلیے ان کی آمد کا انتظار کیا کرتے تھے۔

منیر احمد کی نوشکی کی بابت یادیں بہت طویل ہیں۔ انہیں اب بھی وہاں کے انجیر کے درخت یاد آتے ہیں۔ دریائے خیسار کی تند و تیز لہریں اب بھی ذہن میں ہیں اور وہ پن چکی جہاں آٹا پیسا جاتا تھا اور اس کے پانی سے چھوٹی چھوٹی مچھلیاں شکار کی جاتی تھیں، سب کچھ آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔ نوشکی کی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسکول میں بجلی نہیں تھی۔ گرمی سے بچوں کو بچانے کےلیے چھت پر ایک موٹا سا مستطیل کپڑا پانچ فٹ لمبا اور ڈیڑھ فٹ چوڑا کھلی حالت میں لٹکا دیا جاتا تھا۔ اس کے نچلے حصے پر ایک بانس لگا ہوتا تھا۔ اس ڈنڈے/ بانس سے ایک رسی باندھ دی جاتی تھی۔ اسکول والے گرمیوں میں کچھ افراد کو ملازم رکھ لیا کرتے تھے جو متواتر پانچ گھنٹے تک رسی کی مدد سے اس کپڑے کے مستطیل ٹکڑے کو ہلایا کرتے تھے۔ اس طرح بچوں کو ہوا پہنچتی رہتی تھی۔

مزید پڑھیں  نیند میں خلل سے بچنے کے لیے ’بیڈ ٹائم موڈ‘ کی ضرورت

ایک اور قصہ جو منیر صاحب بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے بچوں کے کھلونے آئے اور وہ خوبصورت کھلونے بچوں میں بانٹے گئے۔ لڑکیوں کےلیے گڑیا، گڑیا کے گھر وغیرہ اور لڑکوں کے اسکولوں میں سنگ مرمر کے بنٹے یعنی کنچے اور مختلف رنگ کی گیندیں وغیرہ۔ منیر احمد اب بھی حیران ہوتے ہیں کہ اتنے دور دراز علاقوں میں کھلونے بانٹنے کا انتظام کیا گیا تھا۔

نوشکی کی یادوں میں ایک بچھو کے بچے کو وہ نہیں بھولتے۔ کہتے ہیں کہ اسکول میں ٹاٹ بچھے ہوئے تھے جن پر بیٹھ کرہم سب تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اپنے جوتے دروازے سے باہر ہی چھوڑتے تھے اور کمرہ جماعت میں ننگے پیر جاتے تھے۔ ایک مرتبہ عید کی چھٹیوں کے بعد وہ اسکول پہنچے۔ حسب معمول جوتے اتار کر جماعت کے کمرے میں گئے۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے ٹاٹ اٹھا کر اسے مزید پھیلانا چاہا تو اس میں سے ایک بچھو کا بچہ نکل آیا اور اس چھوٹے سے بچے کی ایڑی میں کاٹ لیا اور فرار ہو گیا۔ بچھو کا بچہ چھوٹا تھا اور غالباً ابھی زہربنانے کی صلاحیت نہیں آئی تھی اس لیے کوئی اثر نہیں ہوا۔ البتہ استاد مکرم کو پتا چلا تو ساری جماعت کے بچوں کو ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا اور پورے کمرے کی صفائی کی گئی۔ بعد میں پتا چلا کہ کوئی دوا بھی چھڑکی گئی تھی۔

منیر احمد صاحب کہتے ہیں کہ وہ پڑھائی میں اچھے تھے اس لیے ان کا نام پانچویں جماعت میں وظیفے کے امتحان میں مقابلے کےلیے بھیجا گیا تھا۔ والد صاحب کا تبادلہ کوئٹہ ہوگیا تو کوئٹہ کے اسلامیہ ہائی اسکول میں داخل ہوئے۔ کوئٹہ بڑا شہرتھا۔ یہاں سیکھنے سکھانے کے زیادہ مواقع تھے۔ یہاں سینما بھی تھے، لائبریریاں بھی تھیں، یک طرفہ ٹریفک والی سڑکیں بھی تھیں، چوک پر ٹریفک پولیس والے بھی تھے۔ پھر دو منزلہ عمارتیں بھی تھیں۔ یہ سب ایک دیہات کے بچے کو بہت اچھے لگے۔ کوئٹہ آکر پتا چلا کہ بچوں کےلیے تو رسالوں کی ایک دنیا آباد ہے۔ غنچہ، بچوں کی دنیا، کھلونا، پھلواری، پھول، ساتھی، تعلیم و تربیت۔ یاد رہے کہ ان رسائل میں بلوچستان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے سب ہی ہونہار بچوں کا تعلق یا تو کراچی سے ہے یا پنجاب سے۔ منیر احمد نے تعلیم و تربیت میں ہاتھ سے بنائی ہوئی تصاویر بھیجنا شروع کیں اور وہ شائع ہونے لگیں۔ ایک تصویر پرانہیں انعام بھی ملا۔

لیکن وہ اپنی تعلیم سے غافل نہیں ہوئے چنانچہ آٹھویں جماعت کے امتحان میں پورے بلوچستان بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی اور ان کا نام اخباروں میں شائع ہوا۔ منیر احمد نے یہ سارے اخبارات محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ منیر احمد اس زمانے کے استادوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ کوئی کسی سے کم نہ تھا۔ ان اساتذہ میں شفقت پدری پائی جاتی تھی۔ انہیں دیکھ کر ایک ٹھنڈک کا سا احساس دل میں پیدا ہوتا تھا۔ یہ چیز آج کل ناپید ہے۔ ریاضی کے جناب اختر صاحب، طبیعیات کے جناب جمیل احمد صاحب (علی گڑھ کے تعلیم یافتہ) اردو کے اشفاق صاحب اور مولانا عبدالشکور صاحب تو یاد ہی رہیں گے۔ مولانا اشفاق کے پڑھانے کا انداز سنجیدہ تھا لیکن انہوں نے نہایت ہی محنت سے اردو نحو و انشاء کے تمام رموز گھول کر پلادیئے تھے۔ مولانا عبدالشکور صاحب شہر کی مرکزی جامع مسجد اور مرکزی عید گاہ کے امام بھی تھے۔ ان کا انداز تھوڑا سا مزاحیہ تھا چنانچہ اردو پڑھنے میں بڑا لطف آتا تھا۔ ان کی مادری زبان پشتو تھی لیکن اردو پر پوری گرفت تھی۔ اس لیے کچھ گرفت مجھ میں بھی منتقل ہوئی۔ انہوں نے ثابت کردیا تھا کہ زبان کسی کی میراث نہیں ہوتی۔ یہ محنت و ریاضت ہوتی ہے جو زبان کو میراث بنا دیتی ہے۔‘‘

جناب اختر صاحب نے مڈل کا رزلٹ دیکھ کر اِن کہا ’’منیر اب تمہارا مقابلہ صرف اسلامیہ اسکول کے بچوں سے نہیں ہے بلکہ پورے پنجاب کے بچوں سے ہے۔ اس کی تیاری کرو۔ اس کے بعد پورے پاکستان کے بچوں سے ہوگا اور اگر کہیں بیرون ملک گئے تو تمام دنیا کے افراد سے ہوگا۔‘‘ منیر احمد صاحب کہتے ہیں کہ جو بات اسلامیہ ہائی اسکول کے استاد جناب اختر صاحب نے کہی تھی بعد میں عمر بھر صحیح ثابت ہوتی رہی۔ کئی مقامات پر دنیا بھر کے افراد سے مسابقت کا سامنا کرنا پڑا۔

میں نے باتوں باتوں میں کہا کہ اسکول کی زندگی بس ایک ہی ڈگر پر چلتی ہے۔ منیر صاحب نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ وہ عمر سیکھنے کی ہوتی ہے چنانچہ جب کوئی ہر روز کچھ نہ کچھ سیکھ ہی رہا ہو تو یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ زندگی ایک ڈگر پر تھی۔ انہوں نے کہا کہ جانے کیوں مجھے فلموں کا شوق پڑگیا۔ والد صاحب نے بھی جب دیکھا کہ پڑھنے میں صحیح ہے اور اس شوق سے کوئی بری عادتیں نہیں سیکھ رہا تو زیادہ مداخلت نہیں کی البتہ کہتے تھے کہ عید کے دن سینما نہ جایا کرو، اس روز بہت بھیڑ ہوتی ہے۔ اس زمانے میں کوئٹہ میں سینما کے بورڈز یا ہورڈنگز پر تصاویر نہیں بنا کرتی تھیں اس لیے سینما والے پورا زور خطاطی پر لگا دیتے تھے۔ ایک سے بڑھ کر ایک خطاطی والے بورڈ بنا کرتے تھے۔ ’’دو سینما گھر کے قریب ہی تھے۔ مجھے جب بھی فرصت ملتی ان کی خطاطی دیکھنے سینما چلا جایا کرتا تھا۔ اور پھر گھر آکر ان کی مشق کرتا تھا۔ اس طرح سے میری لکھائی عمدہ سے عمدہ تر ہوتی چلی گئی۔ نیز یہ بھی پتا چلا کہ کونسا لفظ بورڈ میں کہاں تحریر کرنا ہے کہ بورڈ کی خوبصورتی میں اضافہ ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسکول میں بہت سے طالب علم مجھ سے اپنی کاپی پر سرخیاں (ہیڈنگز) لکھوانے آنے لگے۔‘‘

کوئٹہ ایک سرد مقام ہے۔ سردیوں کے موسم میں سندھ اور کراچی سے بہت سے لوگ کوئٹہ آکر چھٹیاں گزارتے تھے۔ کچھ لوگ رشتے داروں کے ہاں قیام کرے تھے اور سندھ کے زمیندار مکان کرائے پر لے کر رہا کرتے تھے۔ اس زمانے میں کئی مالک مکان اپنا گھر پورا سال کرائے پر نہیں چڑھاتے تھے۔ دو یا تین مہینوں کےلیے کرائے پر دیتے تھے اور پورے سال کا کرایہ وصول ہو جاتا تھا۔ اس قسم کے مکان سیزن پر چڑھنے والے مکان کہلاتے تھے۔ ان چھٹیاں گزارنے والوں میں کئی مرتبہ فنکار حضرات بھی ہوتے تھے جو کسی نہ کسی فن میں یکتا ہوتے تھے مثلاً گلوکاری، مصوری، قوالی وغیرہ۔ وہ مناسب داموں پر اپنی خدمات پیش کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسے ہی کچھ ہنرمند ایسے آئے جو سینما کے بورڈ پر تصاویر بنایا کرتے تھے۔ گھر کے قریب راحت سینما تھا۔ راحت سینما نے ان کی خدمات حاصل کیں اور بڑے بڑے تختوں پر مختلف فلموں کے بورڈ بنوائے۔ منیر احمد کہتے ہیں کہ وہاں مجھے پہلی مرتبہ پتا چلا کہ تصویر پر مربع شکل کی چوکور اور مثلث (تکونیں) بنا کر بعینہ ویسی ہی تصویر بنائی جاسکتی ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی میں نے بھی تصاویر بنانی شروع کیں۔ اپنی تصاویر بچوں کے رسالے ’’تعلیم و تربیت‘‘ میں بھیجیں تو چھپنے لگیں۔ ایک تصویر پر تو انعام بھی ملا۔ چنانچہ میں کہوں گا میری زندگی ایک ڈگر پر نہیں چل رہی تھی بلکہ اس زمانے کا ہر لمحہ میری ذہنی ارتقاء اورترقی کا زمانہ تھا۔

مزید پڑھیں  پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی کے لیے کوششیں

اپنی تعلیم کے دوران کے کچھ تلخ واقعات اب بھی انہیں یاد ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ غالباً ساتویں جماعت میں تھے اور صدر ایوب خان کوئٹہ کے دورے پر تشریف لائے۔ استقبال کےلیے (جیسا کہ پاکستان میں اس زمانے میں روایت تھی) اسکول کے بچوں کو شہر سے بہت دور ایئرپورٹ روڈ پر لے جایا گیا۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ اس زمانے میں یہ سڑک بہت ہی ویران تھی اور دور دور تک آبادی نہیں تھی۔ ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں بھی تھما دی گئیں۔ ہم ایوب خان کا انتظار کرتے رہے اور پیاس کے مارے برا حال ہو گیا۔ حلق میں کانٹے چبھنے لگے لیکن کہیں پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔ ایک جگہ کھیتوں میں پانی تھا لیکن جب اتنے بہت بچے وہاں پانی پینے پہنچنے اس نے بھی بھگادیا۔ جب حالت بہت پی بری ہوگئی تو ہم بچے درختوں کے پتے توڑ کر اور انہیں چبا چبا کر چوسنے لگے۔ کچھ پتے کڑوے تھے۔ نہ جانے کس درخت کے تھے۔

کہتے ہیں کہ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنا مشکل نہیں۔ اسی طرح میڈیکل میں ایم بی بی ایس سے سرفراز ہونا بھی سہل ہے۔ مشکل ہے تو ایف ایس سی کا امتحان پاس کرنا۔ اس کی متعدد وجوہ ہوسکتی ہیں۔ ایک تو یہ بھی ہے کہ بچہ جب ایف ایس سی میں جاتا ہے اور اسکول کے مقید ماحول سے نکل کر نسبتاً آزاد ماحول پاتا ہے تو وہ ادھر ادھر پھسل جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب وہ لڑکپن سے نوجوانی کی حدود میں داخل ہورہا ہوتا ہے۔ جذبات ایک نئی امنگ کے ساتھ امڈ رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت اس دیو کو جس نے قابو کرلیا، وہ کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ منیر احمد کہتے ہیں کہ جب وہ اسکول کی دہلیز پار کرکے کالج میں داخل ہورہے تھے تو یہ سب باتیں اسکول کے اساتذہ اور گھر میں والدہ محترمہ نے اچھی طرح ازبر کر ادی تھیں۔ حالانکہ والدہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن زمانے پر خوب نظر رکھتی تھیں۔ یا یہ بات بھی ہوسکتی ہے کہ مجھ سے پہلے بڑے بھائی اور بڑی بہن کالج سے تعلیم مکمل کرکے نکل چکے تھے۔ منیر احمد صاحب نے اس مرحلے کو بھی پار کرلیا اور اس طرح سے کیا کہ پورے بلوچستان میں ایف ایس سی میں اول آئے۔ اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کالج میں بہت ہی قابل اساتذہ تھے۔ خاص طور پر طبیعیات (فزکس)، اردو اور ریاضی کے لیکچرار۔ کوئی طالب علم کہتا کہ سمجھ نہیں آئی تو ان کے چہرے پر مایوسی چھا جاتی تھی، وہ سوچتے تھے کہ ہم کیوں نہیں انہیں سمجھاسکے۔ انہیں اس بات کا بھی ادراک تھا کہ یہ سب بچے اردو میڈیم سے پڑھ کر آئے ہیں اور اب سب انگریزی میں پڑھنا ذرا دشوار ہے اس لیے ایک فقرہ اردو میں بولتے پھر اسے انگریزی میں ادا کرتے، اس طرح ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔

منیر صاحب نے ایک اور بچے سرفراز صدیقی کا قصہ بھی سنایا (جو اردو ڈائجسٹ میں چھپا تھا) کہ اس نے کراچی میں ایک مقامی کالج میں داخلہ لیا۔ سارا نصاب انگریزی میں تھا جبکہ سرفراز صدیقی لاہور بورڈ کے اردو میڈیم کے پڑھے ہوئے تھے۔ لہذا انگریزی نصاب ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ سرفراز صدیقی کہتے ہیں کہ رو دھو کر انٹرمیڈیٹ سپلیمنٹری کے ساتھ تھرڈ ڈویژن میں پاس کیا۔ اس لحاظ سے کوئٹہ کا سائنس کالج بہت ہی اچھا تھا۔ منیر صاحب کہتے ہیں کہ میری اردو صحیح کرنے میں بھی کالج کے اردو لیکچرار جناب خالد حمید کا بہت دخل تھا۔ انہی کے دروس کے تحت میں نے کئی مرتبہ فیس بک پر بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک دو اردو دان صاحبان کی اردو کو چیلنج کردیا تھا اور آخر انہیں اپنی غلطی درست کرنی پڑی۔

غرض اس زمانے کے سائنس کالج کوئٹہ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اس کالج نے ملک کے جینئس طبقے میں اضافہ کرنے میں خوب کردار ادا کیا۔ اسی کالج سے طالب علم پڑھے اور پاکستان کے صف اول کے کثیر قومی (ملٹی نیشنل) اداروں کے کامیاب سربراہ بنے۔ اسی کالج کے طالب علم تھے جو آگے اقوامِ متحدہ جیسے اداروں میں پہنچے۔ اسی ادارے کے طالب علم تھے جو ریاضی جیسے خشک اور مشکل مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری سے سرفراز ہوئے۔ غرض کن کن کا تذکرہ کروں۔

منیر احمد کہتے ہیں کہ ایف ایس سی میں نمبر خاصے اچھے آئے تھے اس لیے کسی بھی انجینئرنگ کالج میں داخلہ لینا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ لیکن منیر احمد کی خواہش تھی کہ داخلہ ملے تو لاہورمیں ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور علم و ادب کا مرکز تھا اور تاریخ میں ایک مقام رکھتا تھا۔ اس کا ہر پتھر اپنے تاریخی ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ منیر احمد نے بتایا کہ لاہور کے گلی کوچے دیکھنے کا اتنا شوق تھا کہ داخلہ لینے کے بعد اسی شوق کے تحت صبح آٹھ بجے انجینئرنگ یونیورسٹی سے نکلے اور پیدل چلتے ہوئے دہلی گیٹ پہنچ گئے۔ وہاں سے قدیم لاہور میں داخل ہوئے اور شاہی مسجد تک پہنچے۔ راستے میں جہاں جہاں مڑتے تھے، اس کی نشانی ایک کاغذ پر لکھتے جاتے تھے۔ واپسی اسی طریقے اور روٹ سے ہوئی اور شام پانچ بجے واپس پہنچ گئے۔ اس طرح اندازہ لگایا کہ متواتر آٹھ گھنٹے چلتے رہے۔ یہاں سے انہوں نے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی۔

منیر احمد کہتے ہیں کہ وہ زندگی کو ایک ڈگر پر نہیں رکھنا چاہتے تھے سو انہوں نے یہاں کالم نویسی کا آغاز کیا اور ان کے کالم کئی سال تک تواتر سے نوائے وقت لاہور میں شائع ہوتے رہے۔ ان کی بلوچستان سے محبت کا یہ عالم تھا کہ پہلا کالم جو اس اخبار میں شائع ہوا وہ بلوچستان کے طالب علموں کے بارے میں ہی تھا۔ یہیں ان کی ملاقات حمید نظامی سے بھی ہوئی جنہوں نے کچھ پند و نصائح بھی کیے اور کہا کہ تم اپنی بنیادی تعلیم انجینئرنگ کو نظرانداز نہیں کرنا۔ اس کے علاوہ لاہور کے دیگر اخباروں اور رسالوں میں بھی ان کے کالم اور افسانے شائع ہونے لگے۔ انہیں ادبی محفلوں میں بلایا جانے لگا۔ منیر احمد نے بتایا کہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں انہیں اچھے دوست ملے جن کے سبب کئی دشواریاں حل ہوئیں اور انہیں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ کچھ دوست ایسے بھی ملے جن کی بدولت نہ صرف تعلیمی مسائل حل ہوئے بلکہ مستقبل میں بھی ان کےلیے معاون ثابت ہوئے مثلاً طاہر محمود، احمد خان، اور خصوصاً سابقہ مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش کے محمد مسعود جنہوں نے راج شاہی سے پورے بورڈ میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ مغربی پاکستان سے محبت کا جذبہ انہیں یہاں کھینچ لایا تھا۔ لیکن بعد میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے نام سے ہم سے الگ ہوگیا۔

مزید پڑھیں  انڈیا ایران کا ساتھ دے یا امریکہ کا؟

محمد مسعود کو نہ صرف راکٹ کے بارے میں تحقیقی مقالہ لکھنا تھا بلکہ عملی طور پر ایک راکٹ تیار بھی کر نا تھا۔ انہی کی فراہم کردہ معلومات اور رہنمائی کی بنیاد پر منیر احمد پاکستان کے خلائی تحقیقی ادارے ’’سپارکو‘‘ کےلیے بہ آسانی منتخب ہوگئے۔ لیکن محمد مسعود اپنے اسی راکٹ پروجیکٹ کے ٹیسٹ کے دوران راکٹ پھٹ جانے کے سبب حادثے کا شکار ہوکر فوت ہوگئے۔ وہ بہت ہی قابل طالب علم تھے۔ اس زمانے میں بنگلہ دیش نیا نیا بنا تھا اور پاکستان کے اس سے سفارتی تعلقات نہیں قائم ہوئے تھے اور نہ ہی پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا تھا۔ اس سبب محمد مسعود کی تدفین لاہور ہی میں ہوئی جس میں ان کے والدین بھی شرکت نہیں کرسکے۔ منیر احمد نے اپنے دوست کا تذکرہ اپنے ایک کالم میں بھی کیا ہے۔

نوشکی میں ایک مرتبہ وہ افسردہ سے ہوگئے اور ہچکچائے بھی۔ میں ٹکٹکی باندھے ان کا منہ دیکھ رہا تھا کہ وہ کچھ کہہ دیں۔ آخر انہوں نے گھمبیر سی آواز میں کہنا شروع کیا:

1957 کی بات ہے۔ یوم جمہوریہ پاکستان یعنی 23 مارچ نوشکی میں نہایت جوش و خروش سے منایا گیا۔ میں دوسری جماعت کا طالب علم تھا۔ اس یوم پاکستان کےلیے اسکول میں ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اس میں بچوں کی مینڈک ریس لگوائی گئی۔ میں بھی اس ریس میں شامل تھا۔ میدان کو خصوصی طور پر صاف کیا گیا تھا۔ اس پر سفید چونے کی لکیریں ہماری آنکھوں کو نہایت بھلی معلوم ہو رہی تھیں۔ اوپر نیلا آسمان اور اس پر دھیرے دھیرے اڑتے ہوئے پرندے ماحول کو نہایت خوشگوار بنا رہے تھے۔ مینڈک دوڑ شروع ہوئی۔ میں بھی اس دوڑ میں شامل تھا۔ میں نہ جانے کہاں پیچھے رہ گیا تھا۔ بچے آگے پھدک پھدک کر نکلے جارہے تھے۔

’’اچانک پی ٹی ماسٹر کی آواز آئی ’اوئے سیدھا چلو!‘ میں نے ایک سیکنڈ میں آواز سنی اور اپنا پھدک پھدک کر آگے بڑھنا جاری رکھا۔ پی ٹی ماسٹر نے کسے کہا تھا، پتا نہیں چلا۔ ریس ختم ہوگئی، میں بالکل پیچھے رہ گیا تھا۔ اول، دوم اور سوم کا اعلان ہوا۔ نہ جانے کون تھے۔ تقریب کے اختتام پر ایک بچہ کہہ رہا تھا ’یار ہم جیت جاتا، اس کے والد نے بولا تم سیدھا چلو، ہم رہ گیا۔“ میں اس بچے کو دیکھنے لگا۔ وہ بروہی ٹوپی پہنے ہوئے تھا۔

’’گھر آگئے، گھر میں تبصرہ شروع ہوا۔ میں تو بہت ہی پیچھے رہ گیا تھا۔ اچانک ایک لڑکے نے جو ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا، کہا ’’پی ٹی ماسٹر کا بچہ ناز شاید ہار جاتا، وہ دوسرا اللہ بخش جیت جاتا۔ پی ٹی ماسٹر نے اللہ بخش کو ایسے ہی غلط ٹوکا تھا۔ میرے سامنے دوبارہ شکوہ کرتا ہوا اللہ بخش کا ہیولہ سا آگیا۔‘‘

منیراحمد صاحب نے میز پر پڑے ہوئے موبائل فون کو پکڑ کر انگلیوں سے گھمانے کی کوشش کی اور ناکام ہو کر کہا، ’’اس وقت بھی اس کا چہرہ سامنے پھر رہا ہے۔ بیرون صوبہ سے آئے ہوئے ملازمین کے اس طرح کے رویّے نہ ہوتے تو شاید آج بلوچستان میں محبت کے نخلستان زیادہ ہوتے اور رنجشوں کے ریگستان کم۔‘‘

باتوں باتوں میں لیاری کا تذکرہ نکل آیا۔ منیر احمد صاحب لیاری کے نام پر جذباتی سے ہوگئے: ’’لیاری کے لوگ تو میری نوکری کے دوران میرا بازو بنے رہے اور مشکل وقت میں کام آئے۔‘‘

میں چونک پڑا تو منیر احمد صاحب نے یادوں کو کریدتے ہوئے کہا ’’1975 میں جب میں کراچی نیا نیا آیا تھا تو مجھے نوکری بیلہ انجینئرز حب چوکی میں ملی تھی۔ اس زمانے میں حب چوکی کی بستی ایسی نہیں تھی جیسا کہ اب ہے۔ صرف ایک کارخانہ تھا اور وہ یہی بیلہ انجینئرز لمیٹڈ کا تھا۔ اس کے بہت سے ملازمین کا تعلق اسی لیاری سے تھا۔ انہیں لینے کےلیے لیاری کے گلی کوچوں میں جانا پڑتا تھا۔ ایک انجینئر صاحب بھی تھے جو لیاری کے اصل باشندے تھے اور انجینئرنگ میں ڈگری لی ہوئی تھی۔ کوالٹی کنٹرول کے انچارج تھے۔ نام یاد نہیں یاد آرہا۔ میں نے دیکھا کہ یہاں کے لوگ محنتی اور سیاست سے پاک تھے۔‘‘

’’ایک چیز جو میں نے دیکھی وہ یہ تھی کہ لیاری کے جو لوگ لیبر کے طور پر لگے ہیں تو لیبر ہی کا کام کیے جارہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اگر کوئی لیبر انجن دھونے پر لگا ہے تو بس انجن ہی دھوتا رہتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ساری عمر اسی میں گزر جائے گی۔ کوئی نہیں تھا جو اُن کی مزید ترقی کا سامان کرتا۔ چنانچہ میں نے انہیں وہاں سے نکالنے کا انتظام کیا اور ہر روز تھوڑا تھوڑا دوسری فیلڈ کا کام سکھانا شروع کیا اور انہوں نے بھی جلد ہی دوسرے کاموں پر عبورحاصل کرلیا۔ فورمین میرے پاس بھاگا بھاگا آیا کہ صاحب یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ اس طرح تو یہ سب فورمین بن جائیں گے۔ مجھے جیسے کسی نے ڈنک مارا اور میں فورمین کو حیرت سے دیکھنے لگا۔ فورمین کو اپنی نوکری کی فکر پڑگئی تھی۔ میں نے دل میں کہا کہ یہی ہے وہ رویہ جو اِن لیاری والوں کو آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ فورمین سے میں نے کہا کہ تم بھی مزید کام سیکھو اور فورمین سے آگے بڑھو۔‘‘

’’ایک مرتبہ اسی بیلہ انجینئرز میں کسی معاملے پر ہڑتال ہو گئی۔ صبح نو بجے کا وقت تھا۔ سب ورکر باہر نکل گئے۔ میں نے انہی نئے سیکھنے والے لیاری کے لوگوں کو اپنے ساتھ لیا اور کارخانہ چلادیا۔ پرانے مزدور سمجھتے تھے کہ ان کے بغیر کام نہیں ہوسکتا۔‘‘

منیر احمد نے کہا، ’’میں نے جو ٹریننگ انہیں دی تھی، اس پر فخر ہے اور اسے میں نے اپنے سی وی کا حصہ بنایا تھا یعنی اس میں لکھا تھا کہ میں نے یہ کام کیا ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں نے ان سے وعدے بہت کیے لیکن ان کےلیے کام کسی نے نہیں کیا ورنہ ان کی فلاح و بہبود کےلیے بہت کچھ اور بہت ہی کم خرچ پر کیا جاسکتا ہے جیسا یہ ٹریننگ کا نظام۔‘‘

منیر احمد نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس طرح کے ٹریننگ پروگرامز شروع کرے اور اس کے بعد ان کی نگرانی بھی کرتی رہے کہ مطلوبہ نتائج نکل رہے ہیں یا نہیں۔ حب چوکی کے اداروں کو پابند کریں کہ وہ لیاری کے باشندوں کو ان تربیتی اداروں میں تربیت کےلیے بھیجیں گے اور اس دورانیے کی تنخواہ منہا نہ کریں۔ اس سےلیاری کے باشندوں میں ایک اعتماد پیدا ہو گا اور ان کی ترقی کی مزید راہیں نکلیں گی۔
تحقیق و تحریر:: ببرک کارمل جمالی

اپنا تبصرہ بھیجیں